تل ابیب: اسرائیل میں کھدائی کے دوران 2300 سال پرانی انگوٹھی ملی جس سے ہر کوئی حیران ہے۔ اسے ہیلینسٹک دور سے بتایا جا رہا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ انگوٹھی اسرائیل کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بیت لحم سے ملی ہے۔بیت لحم وہی علاقہ جسے حضرت عیسیٰ کی جائے پیدائش بتایا جاتا ہے۔ حالانکہ انگوٹھی ان کی پیدائش سے بھی تین سو سال پہلے کی ہے۔ انگوٹھی کا سائز کافی چھوٹا ہے جس کی وجہ سے خیال کیا جاتا ہے کہ اسے وہاں رہنے والے کسی چھوٹے لڑکے یا لڑکی نے پہنا ہوگا۔دراصل یہ کھدائی اسرائیل کے آثار قدیمہ کی اتھارٹی اور تل ابیب یونیورسٹی کی ٹیم ایلاد فاؤنڈیشن کے تعاون سے کر رہی تھی۔ یروشلم پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق اس انگوٹھی میں موجود قیمتی پتھر ایک گارنیٹ ہے اور سونا بھی بہترین معیار کا ہے۔ اتنی پرانی ہونے کے باوجود انگوٹھی کو زنگ نہیں لگا۔انگوٹھی دریافت کرنے والی کھدائی کرنے والی ٹیم کی رکن تہیہ گنگاٹے نے بتایا کہ اچانک اس نے کچھ چمکتا ہوا دیکھا۔ کھدائی کے ڈائریکٹرز ڈاکٹر یفتاح شالیو اور رکی جالوت نے کہا کہ انگوٹھی بہت چھوٹی ہے جسے سونے کے پتلے پتوں کو ہتھوڑے مار کر بنایا گیا ہو گا۔ یہ ہیلینسٹک دور کے فیشن کی عکاسی کرتا ہے، جو چوتھی صدی کے اوائل سے تیسری صدی قبل مسیح اور اس سے آگے کا ہے۔تل ابیب یونیورسٹی کے پروفیسر یوول گیڈوٹ نے کہا کہ نئی دریافت ہونے والی سونے کی انگوٹھی شہر میں کھدائی کے دوران پائے جانے والے ابتدائی ہیلینسٹک دور کے زیورات سے ملتی ہے، جس میں جانوروں کی ایک سینگ والی بالی اور سونے کی موتیوں کی سجاوٹ بھی شامل ہے۔ سونے کے زیورات الیگزینڈر کے دور سے ہیلنسٹک دنیا میں مشہور تھے۔تہیہ گنگاٹے نے بتایا کہ میں مٹی چھان رہی تھی کہ اچانک کچھ چمکتا ہوا دیکھا۔ میں نے فوراً چلایا کہ مجھے ایک انگوٹھی ملی ہے۔ چند ہی لمحوں میں لوگ میرے ارد گرد جمع ہو گئے۔ اس کے بعد انگوٹھی کا معائنہ کیا گیا تو یہ 2300 سال پرانی نکلی۔
