از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
کرناٹک کے اسمبلی انتخابات میں مسلمانوں کی طرف سے جو تائید رہی ہے وہ تاریخی قوم کہا جاسکتاہے ۔ ریاست سے فرقہ پرست جماعتوں کو ختم کرنے کے لئے مسلمانوں نے جو پیش رفت کی ہے اسکا چرچہ ملک بھر میں ہے ، اسی طرح سے پارلیمانی انتخابات میں بھی مسلمانوں نے بڑے پیمانے پر کانگریس پارٹی کی تائید کی ہے اور پارلیمانی انتخابات میں کانگریس کو کامیاب کرنے کے لئے کئی طرح سے تعاون بھی کیاہے ۔ مگر ایک مسئلہ یہاں یہ پیدا ہوچکاہے کہ کانگریس پارٹی کو تو مسلمانوں نے اپنی قربانیاں دی ہیں لیکن مسلمانوں کے لئے کانگریس پارٹی نے سماجی حق دینے میں ہمیشہ کی طرح ٹال مٹول کیاہے ، خود انکے ہی مسلم لیڈروں یا کارکنوں کو اس قدر نظر انداز کردیا ہے جیسا کہ چاول میں سے کنکر نکال پھینک دیتے ہیں ۔ اس وقت کانگریس پارٹی میں جو مسلم لیڈران ہیں وہ خود بھی اس بارے میں غور وفکر نہیں کررہے ہیں کہ پارٹی میں ہمارے بعد کیا ہوگا ؟اور کون آنے والے دنوں میں مسلم قیادت کو جاری رکھیں گے ؟۔ بورڈاور کارپوریشن کے چیرمین کی تقرری کی بات ہویا پھر یم یل سی کی ٹکٹوں میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی ہوئی ہے ، یہ بات کانگریس کے 90 فیصد مسلم لیڈران جانتے ہیں کہ انکے ساتھ ناانصافی ہورہی ہے ۔ ایک طرف یہ لیڈران اپنے وجود کو بچانے کے لئے کوشش کررہے ہیں تو دوسری جانب خود مسلمانوں کے لیڈران اور کچھ اہل علم حضرات کانگریس کے متعصبانہ رویہ پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ یہ لوگ الیکشن کے موقع پر ووٹ دلوانا اپنا نصب العین سمجھ رہے ہیں وہیں جب مسلم لیڈروں کو حق دلوانے کی بات آتی ہے تو خاموشی اختیار کررہے ہیں اور سرے سے اس بات کو خارج کررہے ہیں کہ ووٹ دلوانا ہماری ذمہ داری تھی لیکن ووٹ کے بدلے حق دلواناہمارا کام نہیں ہے ۔ ایک قدم اور بڑھ کر دیکھا جائے تو کچھ اہل علم حضرات خود ہی ارباب اقتدار بننے کی دوڑ میں لگے ہوئے ہیں ، پس پر دہ خود ہی یم یل سی ، چیرمین وغیرہ بننے کی کوشش میں ہیں ۔ ایسے میں کانگریس پارٹی سے جڑ کر اپنی زندگیاں گھٹانے والے ، اپنےمال اور وقت کی قربانیاں دینے والے لیڈران کے ہاتھ میں کچھ آرہاہے تو الیکشن کا پمفلٹ ، اسکے علاوہ کچھ نہیں ہے ۔ جس طرح سے کانگریس ہائی کمان کے لیڈر وں کو اہل علم کا ایک طبقہ ہائی جیک کئے ہوئے اس سے یہ بات ہی واضح ہوتی ہے کہ اب اقتدار حاصل کرنے کے لئے یہ اہل علم طبقہ کانگریس کی مسلم قیادت کو ہی ختم کربیٹھے گا۔ ایسے میں کانگریس پارٹی کے ہی لیڈروں کو چاہئے کہ وہ ایک ایسا پریژر گروپ ریاستی سطح پر بنائے جو انکے مطالبات کو پورا کرسکے ۔ اگر ایسا نہیںکیا جاتاہے تو وہ دن دور نہیں جب ووٹ دلوانے والے ، مشورے کرنے والے ایوانوں اور اسٹیج پر بیٹھ جائینگے اور سڑکوں پر ، احتجاجوں میں کپڑے پھاڑلینے والے کانگریس کے لیڈران لاچارہوکر گھومتے رہیں گے ۔ اگر اپنی سیاست کو بچانی ہے ، مستقبل میں کچھ کرنا ہے تو اپنی حکومت ، اپنی پارٹی پر دبائو ڈالنے اور مطالبات پورے کرنے کے لئے متحد ہونے کی ضرورت ہے ۔
