بچوں کو ذمہ دار اور عظیم کیسے بنائیں

مضامین
از:۔عبدالقدیر بیگ،شرالکپّہ۔آئیٹا ضلعی سکریٹری شیموگہ۔9481132154
یہ کہاوت باالکل درست ہے کہ بچوں کے لئے ماں پہلی اُستانی ہوتی ہے۔ اور ماں کی گود پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ پہلے پہل بچے جو کچھ بھی سیکھتے ہیں وہ اپنی ماں اور اردگرد کے ماحول سے سیکھتے ہیں۔ بچے کی اولین تربیت اس کے گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔ اس دوران بچے جو کچھ سیکھتے ہیں، وہ زندگی بھر بھول نہیں پاتے۔ ہر والدین کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اُن کے بچوں کی تربیت اتنی اچھی ہو کہ وہ دنیا کے بہترین اشخاص میں شمار ہوجائیں۔ والدین چاہتے ہیں کہ اپنے بچے بڑے ہو کر باکردار، بااخلاق، بااُصول، ذہیندار، اور مثالی شخصیت کے حامل بنیں ۔ لیکن چند والدین اس بات کو نظر انداز کردیتے ہیں کہ بچوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلایا جائے۔ آج کے اس جدید دور میں ہم والدین کے پاس اتنا وقت ہی نہیں ہوتا کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت پر مکمل دھیان دے سکیں، بچے کی جو تربیت والدین کرسکتے ہیں دوسرے اور کوئی نہیں کرسکتے۔ ان حالات میں بچے ایسے حرکات کرنے لگتے ہیں جو ناقابل برداشت ہوجاتے ہیں۔ دراصل بچپن ایک لاابالی دور ہوتا ہے۔ جس میں بچے کو اپنی ذمہ داریوں کا احساس تک نہیں ہوتا۔ جس سے بچے ایسے کام کرتے ہیں جس میں نقصان کا اندیشہ زیادہ ہوتا ہے۔ ایسی صورتِ حال میں بچہ ذہنی اور جسمانی طور پر زخمی ہوجاتا ہے ۔ مار کے اثرات نہ صرف اس کے جسم پر نمایاں ہوتے ہیں بلکہ اس کا اثر بچے کے ذہین پر بھی پڑتا ہے جو ابھی کچا ہوتا ہے۔
چھوٹے بچوں کا ذہین ناسمجھ اور ناپختہ ہوتا ہے، ان کو کسی کام سے منع کرنے کا یہ طریقہ نہیں ہوناچاہیے کہ آپ ڈانٹ ڈپٹ کرتے ہوئے ان پر چڑھائی کردیں کہ یہ نہیں کرنا، وہ نہیں کرنا، اس طرح کے رویوں سے بچوں میں ہر کوئی کام کرنے کی دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔بچہ اپنی من پسند چیزوں اور گیمز سے بھی بہت کچھ سیکھتا ہے۔ جس سے بچے کی ذہینی نشوونما ہوتی ہے۔
بہت سارے والدین بچوں کو ذمہ داری کا احساس اس وقت دلاتے ہیں جب وہ سیکھنے کی عمر سے آگے نکل جاچکے ہوتے ہیں ۔ جبکہ بچوں کو ان کی ذمہ داریوں کا احساس دلانے کا آغاز بچپن سے ہی شروع ہوتا ہے، کیونکہ بچپن میں جو چیزیں بچوں کے ذہین میں بیٹھ جاتے ہیں وہ زندگی بھر یاد رہتے ہیں۔
بچے کی بہترین تربیت کا طریقہ یہ ہوناچاہیے کہ بچے کو اس کے رویّے اور رہن سہن کے طریقے کی ذمہ داری کا احساس دلایا جائے نہ کے اس سلسلے میں زبردستی کا حربہ آزمایا جائے۔ اپنے بچوں کو اتنی آزادی ضروردیں کہ وہ اپنی زندگی سے متعلق رویوں کوسمجھے اور اس کا قوتِ فیصلہ مضبوط ہوسکے۔ کوئی بھی بچے پیدائشی طور پر ذمہ دار نہیں ہوتے بلکہ انہیں ذمہ دار بنایاجاتا ہے۔ ایسا کرتے وقت ہمیشہ یاد رکھیں کے بچوں کے ساتھ کبھی زبردستی نہ کریں بلکہ اُنہیں ذمہ داری کا احساس آہستہ آہستہ ذہین نیشن کروائیں۔
اکثر اوقات کچھ بچے چھوٹی عمر میں ہی اسکول جانا شروع کردیتے ہیں اور آہستہ آہستہ وہاں کے ماحول کے ساتھ اور دوسرے بچوں کے ساتھ رہ کر اپنی ذمہ داریوں کو سمجھنے لگتے ہیں ۔ اس دوران اساتذۂ کرام کا رویّہ بھی بہت اہم ہوتا ہے کہ وہ بچوں میں کس طرح ذمہ داریوں کا احساس پیداکرتے ہیں۔ بچوں کو یہ سکھایا جاتا ہے کہ کونسا ٹائم لکھنے پڑھنے کا ہے اور کونسا ٹائم کھیلنے کا ہے۔ یہ ٹائم ٹیبل کا طریقہ کار بچوں کو یہ احساس دلاتا ہے کہ ہمیں کس ٹائم پر اپنی کونسی ذمہ داری پوری کرنی ہے۔
اسی طرح کسی بچے کا چھوٹا بھائی یا بہن ہو تو اس کے ساتھ اسکول جانے لگتا ہے۔ اب والدین کا فرض بنتا ہے کہ وہ بچے میں اس ذمہ داری کا احساس پیداکریں کہ بیٹا آپ کا چھوٹا بھائی یا بہن آپ کے ساتھ اسکول جائے گا، آپ نے وہاں اس کا بھی خیال رکھنا ہے۔ کھانے کے وقفے میں اپنے ساتھ اسے بھی شامل کرنا ہے۔اس طرح کی یہ چھوٹی چھوٹی باتیں بچوں کے اندر اپنے آپ بڑا اور ذمہ دار ہونے کا احساس پیداکریں گے۔ اور آہستہ آہستہ اپنی ذمہ داریوں اور رشتوں کو نبھانا بھی سیکھ جائیں گے۔
حسبِ ذیل نکات کے ذریعے ہم اپنے بچوں کو عظیم بناسکتے ہیں؛
٭سب سے پہلے ہم اپنے بچوں کو اللہ تعالیٰ کی پہچان کرواکر اللہ سے جوڑنے کی کوشش کریں۔
٭ہم اپنے بچوں کے ساتھ دوست بن کررہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کے ساتھ مناسب وقت گذاریں۔
٭ہم اپنے بچوں کے سامنے بذاتِ خود ایک بہترین رول ماڈل بن کر دکھائیں۔
٭ہم اپنے بچوں کے دلوں میں انسانی ہمدردی اُجاگر کرنے کی بھرپور کوشش کریں۔
٭ہم اپنے بچوں میں کم عمری سے ہی احساسِ ذمہ داری پیداکریں۔
٭ہم اپنے بچوں پر اعتماد بنائیں رکھیں۔
٭ہم اپنے بچوں سے کئے گئے وعدے ہر قیمت پر پورا کرنے کی کوشش کریں۔
٭ہم اپنے بچوں کو مناسب حد میں آزادی دیں، انہیں گھر قیدخانہ نہ لگیں۔
٭ہم اپنے بچوں کی سرگرمیوں کا مشاہدہ کرتے رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں پر ہر وقت حکم چلاتے نہ رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو احساسِ کمتری اور احساس برتری سے بچائیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو کچھ وقت تنہائی بھی میسّر کریں۔
٭بچوں کی بھی عزتِ نفس ہوتی ہے، اُسے کسی طور پر مجروح ہونے نہ دیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو اپنی زندگی میں کچھ کردکھانے کے لئے اچھے اور بڑے خواب دکھاتے رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو ٹی،وی،موبائل فون اور کمپیوٹر وغیرہ کے استعمال کی مناسب تربیت دیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو قرآن فہمی اور نماز کا پابند بنائیں۔
٭ہم اپنے بچوں سے مختلف معاملات میں رائے لیتے رہیں اور ان کی رائے کا احترام کریں۔
٭ہم اپنے بچوں سے بڑوں جیسی توقعات نہ رکھیں۔ بچوں کو بچے ہی رہنے دیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو ہنسی مذاق، کھیل کود اور شرارتوں کا موقع بھی فراہم کرتے رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں پر زور زبردستی نہ کریں۔
٭ہم اپنے بچوں کی مثبت سرگرمیوں پر ان کی خوب حوصلہ افزائی کریں۔
٭ہم اپنے بچوں کو گھر میں پائے جانے والے چیزوں کو ان کی مرضی سے چھونے دیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو ایسی اہمیت دیں کہ گویا وہ کوئی بڑی شخصیت کے مالک ہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو آخرت کی فکر بھی وقتاً فوقتاً دلاتے رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو اپنے چھوٹے موٹے کام خود کرنے کی عادت ڈالیں۔
٭ہم اپنے بچوں سے دھمکی آمیز لہجوں میں بات نہ کریں۔
٭ہم اپنے بچوں کے سامنے ہمارا میاں بیوی کا آپسی تعلق بہت اچھا اور خوشگوار بنائیں رکھیں۔
٭ہم اپنے بچوں کے لئے ایسے اسکول کا انتخاب کریں جس میں تعلیم و تربیت دونوں کو اہمیت دی جاتی ہو۔
٭ہم اپنے بچوں کے اساتذہ کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو بچپن ہی سے محنت و مشقت کاعادی بنائیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو کمیونیکیشن سکلز بہتربنانے پر بھی بھرپور توجہ دیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو سیروتفریح کے بھی مناسب مواقع فراہم کرتے رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو ٹائم ٹیبل کے مطابق زندگی بسر کرنے کا عادی بنائیں۔
٭ہم اپنے بچوں میں امتیاز برتنے سے احتیاط برتیں۔
٭ہم اپنے بچوں کو صحت بخش اور معتدل خوراک فراہم کریں۔
٭ہم اپنے بچوں کو بہادراشخاص کے قصّے اور کہانیاں سناتے رہیں۔
٭ہم اپنے بچوں میں صبح جلدی اُٹھنے اور رات میں جلدی سونے کی عادت ڈالیں۔
مندرجۂ بالامواد کو مزید بہتربنانے کے لئے آپ کی آراء کی پذیرائی کی جائے گی۔