از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
الیکشن تو ہوگیا ہے ، حکومت بھی بن گئی ہے ، اب بھارت کے مسلمانوں کے سامنے کئی طرح کے چیلنجس ہیں اور یہ چیلنجس اگلے پانچ سالوں کے لئے نہیں بلکہ آنے والے 50 سالوں کے لئے ہیں ، عام طورپر مسلمان یہ سمجھتے ہیں کہ الیکشن میں مل بیٹھ کر مشورے کرتے ہوئے الیکشن میں کسی خاص پارٹی یا امیدوار کو جتانا ہی فرض ہے ، اگر حکومت آئے تو خوش اور نہ آئے تو ناامید ہونا مسلمانوں کی زندگی کا حصہ بن گیا ہے ۔ درحقیقت بھارت کے مسلمانوںنے الیکشن کو ہی اپنی سماجی ، اخلاقی اور دینی ذمہ داری سمجھ رکھے ہیں اور انہوںنے اسکے علاوہ اور مسائل پر غور کرنا اہم نہیں سمجھا ۔مسلمانوں کو اب اپنے ہندو مسلم ، تعصب اور فرقہ وارانہ معاملات کے روایتی مدعوں سے آگے ہٹ کر اپنے آپ کو خود کفیل بنانے کے لئے آگے آنے کی ضرورت ہے جس کے لئے مسلمانوں کو بہت ہی سوچ سمجھ کر کام کرنا ہوگا۔ مسلمانوں کو الیکشن سے الیکشن تک فکر کرنے کے بجائے اگلے پچاس سالوں کے لئے قوم مسلم کے نوجوانوں کے لئے پلاٹ فارم تیار کرنے کی ضرورت ہے اس کے لئے سب سے اہم قدم تعلیم کے شعبے میں مسلمانوں کو کام کرنے کی ضرورت ہے ۔اپنے معاشرے یا اپنے علاقے میں غور کریں ، مسلمان اپنی نسلوں کو تعلیم سے آراستہ کرنے کے لئے کتنے فکر مند ہیں ؟۔ ویسے آج کل ہر کوئی اپنے بچوں کو اسکول یا کالج بھیج رہے ہیں لیکن ان بچوں کو مضبوط مستقبل دینے کے تعلق سے فکر کرنے والے نہ کہ برابر ہیں ۔ والدین تو اپنے بچوں کو ڈاکٹر یا انجنیئر بنوانے کا عزم لے کر نکل رہے ہیں لیکن کیا مسلم سماج کے مسلمانوں نے اس بات پر بھی غور کیا ہے کہ ہر بچہ ڈاکٹر یا انجنیئر نہیں بن سکتاہے ، اگر وہ ان شعبوں میں جانے سے ناکام ہوتا ہے تو اسکا مستقبل کیا ہوگا ؟۔ مسلمان اپنی نسلوں کی رہنمائی کے لئے نہ مراکز قائم کئے ہیں نہ ہی ایسے اداروں کی بنیاد رکھی ہے جس کا سہارا لے کر وہ آگے بڑھ سکیں ، معاشرے کے عمائدین اور اہل علم کا یہ کہنا ہے کہ مسلمانوں کی نسلیں تباہ ہورہی ہیں تو کیا کبھی اس بات پر غور بھی کیا گیا ہے کہ ان نسلوں کو تباہی سے بچانے کے لئے کیا کرنا چاہئے ؟۔ مسلمانوں میں جو لوگ مالدار ہیں ، صاحب حیثیت ہیں یا پھر باشعور ہیں وہ لوگ آخر قوم کی رہنمائی کے لئے عملی طورپر کیوں نہیں آرہے ہیں ۔جب تک حالات کو قابو میں لانے کےلئے مسلمانوں کے ذمہ دار آگے نہیں آتے اس وقت تک مسلمانو ں کی نسلیں تباہی کی جانب ہی جاتی رہیں گی ۔ الیکشن میں جس طرح سے سروں کو جوڑ کر ، مخالفین کو توڑ کرکام کیا جاتاہے اسی طرز پر حالات حاضرہ پر بھی کام کرنے کی ضرورت ہے ۔ کیا مسلمانوں کے پاس ایسا کوئی ڈیٹا ہے جس میں مسلمانوں کے معاشی ، سماجی ، تعلیمی حالات کا جائزہ لیا گیا ہو؟۔ کتنے بچے ڈراپ آئوٹ ہیں ، کتنے اعلیٰ تعلیم حاصل کررہے ہیں ، کتنے بچے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے بعد بیکا ر ہیں ، کتنے نوجوان روزگار میں رہ کر کس حال میں ہیں ، اگر وہ روزگار میں ہیں تو سماج کے لئے ان سے کیا کام لیاجاسکتاہے ؟۔ کیا ان باتوں پر غور نہیں کیا جاسکتا؟۔ کیا ان چیزوں کا ڈیٹا مسجد وار یا علاقہ وار حاصل کرتے ہوئے منصوبہ نہیں بنایا جاسکتا؟۔ آخر کب تک یوگی مودی کو گالیاں دیتے ہوئے ، سوشیل میڈیا پر تبصرے کرتے ہوئے وقت گزاری کرتے رہیں گے ؟۔ سوشیل میڈیا میں مودی یوگی کو گالیاں دینے سے یہ گالیاں ان تک تو نہیں پہنچیں گی نہ ہی اسکا کوئی اثر حریفوں پر پڑ سکتاہے ، البتہ ان کاموںمیں وقت گزاری ضرور ہوگی ، ان باتوں سے ہماری سوچنے سمجھنے کی طاقت ضرور ضائع ہوگی ، اسکے بجائے مسلمانوں کے مستقبل کے تعلق سے کام کرنا شروع کریں ، یہ کام آج کیلئے نہیں بلکہ کل کیلئے کرنا ہے تاکہ آنےوالی نسلوں کو فائدہ پہنچ سکے ۔
