سائبان

مضامین

از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملُاّ.ہبلی ۔990267208

ماضی کے یادگار لمحات ،نایاب جواہرات سے کچھ کم نہیں کیونکہ یہ ہماری زندگی کو مزید خوشگوار ساعتوں سے ہمکنار کرتے ہوئے مستقبل کو اپنی غیر معمولی چمک سے روشن کرتے ہیں۔ اپنے عزیزوں کے ساتھ مسکراتے، ہنستے لمحوں سے قلب ایک انمول خوشی سے ہمکنار ہوتا ہے اور دل کوسکون بخشنے والی خوشی سے ہماری روح بھی تازگی محسوس کرتی ہے ۔اس لیے کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساعتیں قدرت کی جانب سے انسان کیلئےبہترین تحائف ہیں۔بچپن کی معصوم ادائیں، دوستوں کے ساتھ گزرا خوشگوار وقت اور قدرتی مناظر ہماری لاشعور سے چسپاں ہوتے ہیں اور جب کبھی یہ یاد آ تے ہیں تو دل و دماغ کو ایک عجیب سی آسودگی کا احساس ہوتا ہے۔ ماضی کے یہ لمحات زندگی کا اٹوٹ حصہ بنے ہمیں مستقبل سے جوڑے رکھتے ہیں۔کیوں کہ یہ ہمارا اساسی اثاثہ ہیں ۔ اگر ہم اس اثاثہ کو بھول جائیں یا نظر انداز کر دیں تو زندگی بے کیف و بے ذائقہ ہو جاتی ہے۔زندگی کی قدردانی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کو یاد رکھیں کیونکہ یہ ہمیں اصل شناخت سے اگاہ رکھتا اور ہمیں مستقبل کے چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کا حوصلہ دیتا ہے۔
سن 1970 کے دہے میں قومی سطح پر معاشی تر قی وہ نہ تھی جو بعد کے سالوں میں ہوئی۔اس دہے میں عوام کی اکثریت روز مرہ کی زندگی سے لڑتے ہوئے اپنے محدود ذرائع آمدنی پر انحصار کر کیاپنے اہل خانہ کی کفالت کے لیے جان ہلکان کیے نظر آ تی ہے۔چونکہ ان کے لیے مستقل آ مدنی کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا۔البتہ تجارت سے وابستہ اور سرکاری ملازمتوں سے جڑا طبقہ مہینے بھر کا بجٹ بناتا اور مہینے بھر کا راشن خرید لاتا۔جبکہ اکثریت دال روٹی کے چکر میں اپنے دن گزارتی رہتی اور یہی ان کی سوچ ہوتی کہ اللہ کا شکر ہے آج کا دن گزر ہی گیا کل کا سورج بہتر پیغام لائے گا تو کچھ زائد آمدنی ہوگی۔اِس طرح اپنے آ پ کو تسلی دیتے ہوئے زندگی گزرتی رہتی۔
ہمارے گھر کی حالت بھی اس طبقے سے کچھ الگ نہ تھی۔ والد صاحب پیدائشی گونگے بہرے تھے۔وہ ایک مقامی فیکٹری میں بطور ٹیکنیشن کام کرتے تھے ان کے بہتر کام کو دیکھتے ہوئے مینجمنٹ انہیں روزانہ اور ٹائم دیا کرتا۔ والد صاحب ٹیلرنگ سے بھی واقف تھے اس لیے اتوار کو چھٹی کے دن وہ سلائی میں مصروف ہوتے تاکہ سلائی اور اوور ٹائم سے ہونے والی آ مدنی بھی ہم تمام بھائیوں کی تعلیمی و دیگر گھریلو ضروریات کے لیے آ سانی پیدا کرے۔
اولڈ ہبلی کے علاقہ آثار محلہ سے ودھیانگر کا فاصلہ چھ کلومیٹر بنتا ہے جہاں موجود ایچ ایس کوتمبری سائنس کالج میں میرا داخلہ ہوا تھا۔ کالج آ نے جانے کے لیے ماہانہ بس پاس دس روپے میں فراہم کیا جاتا تھا۔ والد صاحب کے پاس ایک سائیکل تھی جس پر وہ روزانہ فیکٹری آیا جایا کرتے تھے ۔ ہماری والدہ کو گھر کی کی معاشی حالت کا بخوبی اندازہ تھا۔ اس زمانے میں سائیکل تین سو روپیوں میں مل جاتی تھی مگر جنہیں ماہانہ بس پاس کے لیے دس روپیہ خرچ کرنا محال ہو انہیں سائیکل خریدنا دن میں خوابِ دیکھنے کے برابر تھا۔ روزانہ پیدل کالج جانے اور واپس بھی پیدل آ نے کے باعث بارہ کلو میٹر کی مسافت سے تھکان ہو جاتی تھی جسے والدہ جانتی تو تھیں مگر میرے ذہن سے تھکان کے احساس کو دور کرنے کیلئےچہل قدمی اور پیدل چلنے کے فوائد بتایا کرتیں کہ اس سے صحت پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ ان کی نصیحت سے مجھے حوصلہ اور توانائی حاصل ہوتی ۔انہوں نے مجھے کبھی کم مائیگی کا احساس ہونے نہیں دیا ان کا کہنا تھا دکھ درد اور محرومی کو صبر سے برداشت کر لیا جائے تو زندگی میں فسردگی در نہیں آ تی۔ میں تو ان کی آنکھوں سے چھلکتی ممتا بھاری مسکراہٹ کو اپنی روح میں سمیٹتے ہوئے ساری تھکان بھول جاتا۔
کالج کی آمد و رفت کیلئےمیں بس اسٹینڈ سے ویدیا نگر جانے والی ہائی وے پکی سڑک پر کچی سڑک کو ترجیح دی تھی جو شرور پارک سے ہوتے ہوئے ویدیا نگر تک جاتی تھی اور جس پر صرف بیل گاڑیاں ہی چلا کرتی تھیں۔اس کچیرہ گزر کے انتخاب کا فائدہ یہ تھا کہ ایک تو میں ٹرافک کے اڑدھام سے بچ جاتا اور دوسرا یہ کہ کچی سڑک کے دونوں طرف موجود آم ،امرود اور دیگر باغات کے درمیان کہیں کہیں سورج مکھی کی لہلہاتی فصل ،جب زور سے چل رہی ہوا کے بائث اپنے پتوں کے ساز پر اک لیئے سی سناتی تو میرے جسم سے ٹکرانے والے ہوا کے وہ جھونکے نہ صرف میرے جسم بلکہ میری روح میں بھی ایک تازگی سے بھر دیتے۔چار سو بکھرا ہوا قدرتی حسن اور مناظر کے امتزاج سے یوں محسوس ہوتا جیسے وقت تھم گیا ہو اور ہر چیز قدرت کی دھن پر جھوم رہی ہو۔اس تصور سے دل قدرت کی فراہم کردہ نعمت سے شْکر گزار ہوتا۔اور پھر یہ احساس بھی مجھے اک گونہ تسکین بہم پہنچاتا کہ مجھے شہر میں رہتے ہوئے بھی لمحاتی ہی سہی ،شہری آلودگی سے مفر حاصل ہو رہا ہے۔اور مسافت میں ایک کلو میٹر کی کمی بھی تو ہوتی ہے۔بہرِ کیف ،اس طرح میں نے اپنی پی یو سی سائنس کی تعلیم پیدل چل کر مکمل کی۔
گزشتہ پینتالیس سالوں میں شہر ہبلی بڑی تیزی کے ساتھ ترقی کر گیا ہے۔ شہر کے چاروں طرف نئی نئی بستیاں آ باد ہو گئی ہیں۔ میرا کالج جانے والاکچا راستہ اب پکی سڑک میں تبدیل ہو چکا ہے۔ کھیتوں اور باغات کی جگہ کمرشل کمپلیکس، ہسپتال اور سرکاری دفتروں نے لی ہے۔جب مجھے کسی نئے علاقے سے گزرنا پڑتا ہے تو یوں لگتا ہے کہ میں اپنے ہی شہر میں ایک سیاح کی طرح گھوم رہا ہوں۔
ہاں میں اپنی بات کی طرف پلٹتا ہوں پی یو سی سائنس کی تعلیم مکمل کرنے کے بعد میں نے انجینئرنگ کالج دھارواڑ میں داخلہ لیا جہاں سالانہ فیس صرف ایک سو باسٹھ روپیہ تھی مگر یہ ایک سو باسٹھ روپیہ بھی مجھ جیسے طالب علموں کے لیے بہت بڑی رقم تھی۔ بہرحال اس دن والدہ نے مجھے ایک سو پچہتر (175) روپے دے کر اجازت دی کہ فیس ادا کرنے کے بعد بقیہ رقم میں اپنی جیب خرچ کے لیے رکھ لوں ۔ پھر کیا تھا،اس دن فیس ادا کرنے کے بعد گھر میں بتائے بغیر ایک روپیہ پندرہ پیسے میں ایک پرانی فلم” رام اور شام” دیکھی اور بقیہ رقم سے اپنے محبوب قلمکار ابن صفی کی کتابیں خرید لیں۔
اس زمانے میں چالیس کلومیٹر کے اندر موجود کسی بھی تعلیمی ادارےکے طلباء کیلئےدس روپے میں ماہانہ بس پاس فراہم کیا جاتا تھا۔ پاس کی یہ سہولت جون تا مارچ یعنی تعلیمی سال کے اختتام تک ہوتی۔ اپریل اورمئی میں امتحانات اور تعطیلات کے پیش نظر یہ سہولت ختم کر دی جاتی تھی اس طرح تعلیمی سال کیلئےدس ماہ کا بس پاس ہوتا تھا اور جب امتحانات شروع ہوتے تو ہبلی سے کالج جانے کیلئےایک روپیہ بس کا کرایہ ادا کرنا پڑتا اس طرح آ نے جانے میں دو روپے خرچ ہوتے جو طبیعت پر بہت گراں گزرتے مگر امتحان تو بہرحال دینا ہی ہوتا تھا۔ تھیوری اور پریکٹیکل کے لیے کل گیارہ پرچے ہوا کرتے تھے جس کی وجہ سے بائیس روپیہ کا اضافی بوجھ بادل نخواستہ ہمیں برداشت کرنا ہی پڑتا تھا۔ ہال ٹکٹ پر امتحان کے پرچے کا نام تاریخ اور وقت درج ہوتا ہے مگر ان دنوں یہ رواج نہ تھا بلکہ امتحانات کے موقع پر تمام پرچوں کی تفصیلات نوٹس بورڈ پر لگا دی جاتی جسے طلباء اپنی نوٹ بکس میں لکھ لیا کرتے تھے اور روزانہ پرچہ ختم ہونے کے بعد اگلے پرچے کی جانکاری کے لیے بطور یاد دھانی نوٹس بورڈ کا رخ کرتے۔
اب دیکھیے میری شامت۔۔۔۔۔ موسم گر می کا، یوں بھی اپریل میں گرمی زیادہ ہی ہوتی ہے اور وہ دن تھا سنیچر کا جبکہ درجہ حرارت بھی معمول سے کچھ زیادہ ہی لگ رہا تھا۔ حسب معمول میں امتحان کا پرچہ لکھ کر آ تے وقت نوٹس بورڈ کی طرف بڑھا تاکہ دو دن بعد یعنی پیر کے دن امتحان کی تفصیلات دیکھ لوں۔ میں نوٹس بورڈ پر سرسری نگاہ ڈالی اور گھر جانے کی جلدی میں دوڑتا ہوا بس تک پہنچا اور ایک روپیہ کنڈکٹر کو تھما کر ہبلی کیلئےٹکٹ کٹوایا۔ ہبلی پہنچنے کے بعد جیسے ہی میں گھر میں داخل ہوا تو ذہن میں فوری ایک خیال سا آیا کہ پیر کے دن کون سا پیپر ہے ؟میرے ذہن میں جو پیپر ہے تو ٹھیک ہے ،اس کی جگہ کوئی اور مضمون ہو تو پریشانی ہوگی کیونکہ دیے جانے والے پیپر سے ایک دن قبل کی ورق گردانی سے ذہن میں مضامین تازہ رہتے ہیں اور پرچہ لکھنے میں آ سانی ہوتی ہے۔ پرچے کی تصدیق کے لیے کوئی دوسرا ذریعہ نہ تھا جس کی وجہ سے میں تذبذب کا شکار ہو گیا۔آج صبح بس کے لیے والدہ سے دو روپئےلے چکا تھا دوبارہ دو روپے مانگنے کی ہمت نہیں تھی۔ اب یہ اتفاق اس دن والد صاحب کی سائیکل گھر پر تھی میں نے موقع غنیمت جانا اور سائیکل اٹھائی اور دھارواڑ کے لیے چل پڑا تاکہ پیر کے دن ہونے والے امتحان کی جانکاری حاصل کروں۔موسم گرمی کا ، دوپہر کی چلچلاتی دھوپ اور سارے بدن سے بہتا پسینہ، ان تمام باتوں سے قطع نظر نوٹس بورڈ دیکھنے کی دھن میں تقریبا تئیس کلو میٹر فاصلہ طے کیا۔نوٹس بورڈ پر اس پرچے کی تفصیلات تھیں جو میرے ذہن میں تھیں۔میں نے اطمینان کی سانس لی، محض مغالطے کے باعث یہ زحمت اٹھانی پڑی ۔شام کو گھر پہنچا تو گرمی اور تھکاوٹ سے میرا برا حال تھا ۔ والدہ اس بات سے ہے خبر تھیں کہ میں کل پینتالیس کلو میٹر کی مسافت سائیکل سے طے کیا ہوں۔ والدہ کی روایتی استقبالیہ مسکراہٹ کو دیکھتے ہی ساری کوفت دور ہو گئی کیونکہ اب میں ممتا کے سایہ دار درخت کی چھاؤں میں پہنچ گیا تھا جہاں راحت ہی راحت تھی۔
گزشتہ چار دہوں میں ہوئی معاشی ترقی کے باعث ہر گھر میں جتنے جوان ہیں اتنی موٹر بائیک اور پھر بڑوں کے لیے ایک دو کاریں گھر کے باہر کھڑی دکھائی دیتی ہیں۔ ہماری نئی نسل تو جیسے پیدل چلنا ہی بھول گئی ہے۔ ان سے اگر کہا جائے قریب کی دکان سے کوئی چیز لے آؤ تو یہ پیدل جانے کی بجائے بائک ہی پر جائینگے۔ اس مادی ترقی کے دور میں ہم پانچوں بھائیوں کے حصے میں بھی خوشحالی ہی خوشحالی آئی ہے۔ایسی خوشحالی جس کا ہم نے کبھی گماں بھی نہیں کیا تھا۔یہ تو اللہ کا کرم اور شکر کہ اس نے ہمیں توقع سے بڑھ کر نوازاہے۔حاصل شدہ اس آ سودگی کے باوجود میں آج بھی جب اپنےگھر میں قدم رکھتا ہوں تو والدین کی غیر موجودگی کا احساس میری روح میں اتر جاتا ہے۔ والدہ کی محبت بھری نگاہیں اور وہ آ نکھیں یاد آ جاتی ہیں جو مسکراہٹ کے ساتھ میرا استقبال کیا کرتی تھی جنہیں دیکھ کر میں اپنی ساری تھکان بھول جاتا تھا اور اپنے اندر ایک نئی توانائی محسوس کرتا۔ والدہ کی وہ مسکراہٹ جو میرے لیے اک طرح کا سائبان تھی ،جس کے سائے میں اپنی ساری تھکان بھول جاتا اور یوں لگتا کہ میں ایک مضبوط حصار میں پہنچ چکا ہوں۔
ما لی نے ا پنے انگن میں بڑی محبت اور جتن کے ساتھ پودے لگائے تھے اور جب یہ پودے تناور درخت بن کر پھل دینے کے قابل ہوئے تو مالی اپنی محنت کا پھل حاصل کیے بغیر اس ملک عدم کو چلے گئے جہاں سے کوئی واپس نہیں آ تا۔