بھارت کے مسلمانوں کے تعلق سے ہمیشہ سےہی یہ رائے رہی ہے کہ وہ کچھ بڑا کام کرسکتے ہیں۔ بہت بڑی یونیورسٹیاں واسپتال بناسکتے ہیں۔ میڈیا ہائو س ونیوز چینلز بناسکتے ہیں۔ بڑی بڑی اسپتالیں اور ریسرچ سنٹرس بناسکتے ہیں، لیکن بھارت کی آزادی کے بعد 70 سالوں کا جائزہ لیں یا پھر بھار ت میں مغلیہ دورکے بابر سے لیکر بہادرشاہ ظفر تک کی حکومتوں کا جائزہ لیں تو ان ایام میں بھارت کے مسلمانوں نے اگر کچھ قائم کیا ہے تو صرف اونچی اونچی عمارتیں، محلات، میناریں، اورمقبرے پھر بعد میں جو آزادی کے بعد مسلمانوں نے کچھ قائم کئے تو اپنے لئے عالیشان بنگلے، حویلیاں، شادی محل، شادی ہال، اور شوق پورے کرنے کیلئے باغات میں آرام گاہیں۔ بس ہمارے آباواجداد نے یہی بڑے کام کئے ہیں، ہمارے پاس ترقی کی سوچ ، علم وعرفانیت کا احساس ،تحقیق وتدبیر کے چشمے پہلے بھی نہیں تھے اب بھی نہیں ہیں۔ بھلا ہو سرسید احمدخان، حکیم اجمل خان اور مولانا ابوکلام آزادجیسی ہستیوں کا جنہوں نے انگریزوں کی غلامی کے ایام میں بھی چند ایک تعلیمی ادارے شروع کئےاوروہ اس وقت بھارت کے مسلمانوں کیلئے کچھ حدتک تعلیم کے سرچشمے بنے ہوئے ہیں۔ اس وقت بھی بھارت میں مسلمانوں کے تعلق سے ایک بڑی اکثریت یہ رائے رکھتی ہے کہ وہ آنے والی نسلوں کیلئے یونیورسٹیاں بنائیں گے، میڈیا ہائوس بنائیںگےاوربڑے بڑے اسپتال بنائینگے، جہاں تک اس وقت ہم بھارت کے بیشتر مسلمانوں کی سوچ دیکھ رہے ہیں انکی سوچ کورونا میں بھی نہیںبدلی ہے تو عام دنوں میں کیسے بدلے گی ۔ کورونا کے موقع پر لوگ بھوکے مرتے رہے،بےروزگار ہوتے رہے، علاج کیلئے کوئی سہولیتیں میسر نہیںہوئی، دوائی کیلئے انتظام نہیں ہوا، پھر بھی قوم کا وہ طبقہ جو مالدار کہلاتا ہے اس کی طرف سے امداد کیلئے ہاتھ نہیں اٹھے، ہاں کچھ لوگوں نےپوری ایمانداری اورہمدردی کے ساتھ لوگوں کی مدد کی اور انسانیت کا ثبوت دیا۔ ہم اس وقت یہ بھانپ چکے ہیں کہ امت مسلمہ کے پاس اس وقت انسانیت کیلئے بڑے پیمانے پر کچھ کام کردکھانے کا جذبہ ناپید ہوچکا ہے۔ مسلمان صرف بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا جانتے ہیں نہ کہ چشموں کی کھدائی کرتے ہوئے بنجرزمین کو سیراب کرنے کا جذبہ ان میں باقی ہے۔ تحقیق وتعلیم کا سرمایہ 15ویں صدی میں ہی ختم ہوچکا ہے، اب تو مسلمان شاہانہ شان زندگی گذارنے کیلئے عادی ہوچکے ہیں۔ لوگ یہ امید کریں کہ مسلمانوں کی مدد کیلئے مسلمان بہت بڑے منصوبے بناسکتے ہیں تو یہ بات جھوٹ ہے ۔اگر ایسا ہوتاتو اس وقت ٹاٹا برلاکے کارخانوں کی طرح مسلمانوں کے بھی کارخانے ہوتے، زی نیوز ،آج تک کی طرح مسلمانوں کےبھی میڈیا ہائوس ہوتے، اوپولو، جئے دیوا، میدانتا،کرسچن میڈیکل کالج، فورٹیس ہاسپٹل، منی پال ہاسٹپلس جیسے اسپتال بنائے ہوتے،لیکن نہیں بن رہے ہیں کیونکہ وہ سوچ نہیں ہے۔ اب ایسے میں یہ پوچھا جائے تو کیا کرنا ہے تو ہم اتنا ہی مشورہ دینا چاہیں گے کہ حکومتوں کی طرف سے جو سہولیات عوام کو مل سکتی ہیں وہ سہولیتیں حاصل کرنے کیلئے ذرائع بنائیں جائیں،اسپتال نہ سہی کم ازکم انشورنس بنانے کی ترکیب بتاکر دیں یا پھر انشورنس بناکر دیں، اسپتالوں کا قیام نہ سہی دوائیاں لینے کیلئے مالی امداد منصوبہ بنایا جائے۔ زی ٹی وی، آج تک، این ڈی ٹی وی نہ سہی مگر جو مسلم میڈیا اس وقت چھوٹے پیمانے پر کام کررہا ہے انکی مالی امداد کی جائے، جو چھوٹے یوٹیو ب چینل ہیں انہیں کم ازکم لائک اورشیئر کریں، جو اخبارات ہیں انہیں خریدیں اوربروقت دیں۔ بڑے بڑے یونیورسٹی نہ بنائیںتو سہی ہےمگر موجودہ اسکول کالجوں میں جو مسلم اساتذہ خدمات انجام دے رہے ہیں ، انہیں مٹھی بھر تنخواہیں دیں،انکا حق ادا کریں، اوروہ زیر تعلیم بچوں کو اچھی سہولت فراہم کرنے کیلئے عام لوگ بھی تعاون کریں۔ لوگوں کوروزگار دینے کی طاقت نہیں کم ازکم انہیں لیبر کارڈبنانے میں مدد کریں یا ایسے مقامات پر انہیں روزگار دلوائیں جہاں پر آپ کی چلتی ہو۔ جو بچے تعلیم سے محروم ہیں ان بچوں کو تعلیم دلوائیں۔ بڑے اسپتالوں میں جو ضرورتمند مریض علاج کیلئے آتے ہیں ان مریضوں کی مالی امداد کیلئے اسپتالوں کے ساتھ تعلقات بنائیں رکھیں۔ آپ ایم پی ، ایم ایل اے نہ بن سکتے ہیں تو کم ازکم ایم پی ،ایم ایل اے کواپنی بات سننے والابنائیں، بہت بڑے پیمانے پر ہم اس وقت سب کچھ نہیں کرسکتے ، کیونکہ ہمارے پاس بڑا کام کرنے کیلئے بڑی سوچ نہیں ہے اورجن کے پاس سوچ ہے وہ متحد نہیں ہیں اورجو متحد ہیں انہیں کام کرنے کیلئے متحد رہنے نہیں دیا جاتا، جو کبھی قوم کیلئے ایک روپیہ صرف نہ کئے ہوں وہ بھی مشیر اعلیٰ بن جاتے ہیں اور اپنے آپ کو وزیر اعلیٰ سمجھ بیٹھتے ہیں۔ اس لحاظ سے ایک احسان یہ ہونا چاہئے کہ بڑے کام کرنے کے بجائے ، چھوٹے چھوٹے کاموں سے لوگوں کی مدد کی جائے۔
از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔9986437327

