بزرگوں کی معاشرتی اہمیت

مضامین

از:۔محمد صفی اللہ شریف ۔9008331858

سارامش فلم کا ایک مشہور ڈائیلاگ جس میں اداکار انوپم کھیر جو ایک عمر رسیدہ آدمی کا کردار ادا کرتے ہیں۔ اس میں اپنی اداکارہ بیوی کو کہتے ہیں “پاروتی تمہارے چہرے کی جھریوں میں میرے جیون کا سارامش ہے-“ (یعنی خلاصہ)-اس ڈائیلاگ سے ہمیں بہت کچھ سیکھنے کو ملتا ہے اس میں سے ایک یہ کے ظاہری خوبصورتی سے کہیں زیادہ اہمیت زندگی کے تجربات ، قربانیاں ، نشیب و فراز ، مشکلات اور آرام کے ساتھ گزرے ہوئے لمحات کی ہے- اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کے عمر بڑھنے کے ساتھ کس طرح تعلقات کی گہرائی اور قدر بھی بڑھ جاتی ہے۔ یہ وہ انمول چیزیں جو کہیں سے نہ خریدی جاسکتی ہیں اور نہ ہی یہ علم پڑھایا جا سکتا ہے۔ یہ خالص انسان کا تجربہ ہے جو وقت خود اسے سکھاتا ہے۔
جس طرح انسان کی بناوٹ اس کے چال چلن ، پسند نہ پسند میں مشابہت نہیں ہوتی اسی طرح کسی دوسرے انسان کے تجربے میں مماثلت بھی نہیں ہوتی۔
ہر اک کشتی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے دریا میں
سفر میں روز ہی منجدھار ہو ایسا نہیں ہوتا
کہانی میں تو کرداروں کو جو چاہے بنا دیجے
حقیقت بھی کہانی کار ہو ایسا نہیں ہوتا
ندا فاضلی
یہ مختلف قسم کے تجربے مستقبل میں مسائل کا حل نکالنے میں کارگر ثابت ہو سکتے ہیں۔ اور یہ سرمایہ بغیر کسی تفریق کے ہر ایک بزرگ کے پاس ہوتا ہے۔ چونکہ ہر کسی کے پاس الگ تجربہ ہوتا ہے ہر کوئی اپنے اندر ایک خاص منفرد علم رکھتا ہے- اس بنا پر یہ تجربے کسی بڑی ڈگری سے زیادہ اہمیت رکھتے ہیں – اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ معاشرہ کا ہر بزرگ قابل احترام ہوتاہے- ان بزرگوں کا احترام کرنا ان کے تجربوں سے استفادہ کرنا ہر کسی کیلئے لازمی ہے۔ استفادہ کیسے کیا جائے ؟ اور معاشرہ میں معمر حضرات کا کیا رول ہونا چاہئے؟ اب اس سلسلے میں کچھ نکات پر روشنی ڈالی جائے۔
ایک عمر کے بعد انسان اپنے کو اکیلا محسوس کرنے لگتا ہے جو ایک فطری عمل ہے – یہاں پر ان کے ساتھ وقت گزارا جائے ان سے پرانی باتوں کو چھیڑ کر ان کی گزری ہوئی زندگی کی داستانیں سنیں جائیں، سمجھا جائے کیسے مشکل حالات میں انہوں نے صبر کا دامن تھامہ رکھا اور کامیابی حاصل کی- اس کے ساتھ ان کی زندگی میں نا کامیابیوں کا بھی ذکر کیا جائے اور سمجھا جائے کیسے وہ ناکامیابی کو کامیابی میں بدل سکتے تھے کیا ان سے غلطیاں ہوئی۔ اس سے دو فائدہ ہو سکتے ہیں ایک وہ اپنے کو اکیلا کم محسوس کرینگے اور ان کے ماضی سے سیکھنے کو بھی ملے گا- اس طرح ان کی نصیحتوں اور تجربوں سے فائدہ اٹھاکر زندگی کو بہتر بنا سکتے ہیں اور اپنی کامیابی میں بھی اضافہ کر سکتے ہیں۔
اچھا سننے والا ہی ایک اچھا مقرر بن سکتا ہے- ماضی کے حالات اور تجربوں کو جب کوئی بڑی عمر والے بیاں کرتے ہیں تو اکثر تفصیل کے ساتھ دیر تک بیان کرتے ہیں اس کو اگر صبر سے سنا جائے تو سننے میں مہارت حاصل ہو سکتی ہے جو ایک اچھے مقرر کے لئے ضروری ہے۔ کمیونٹی کاموں میں اگر بزرگ طبقہ نوجوانوں کی رہنمائی کریں تو ان کی صحت میں چستی کے ساتھ کاموں کو بہتر انداز سے کرنے میں بھی مدد ملے گی- ان کاموں میں اس طبقہ کا متحرک ہونا بہت ہی ضروری ہے۔بیں المذاہب ہم آہنگی کو برقرار رکھنے اور کسی بھی طرح کے نا خوشگوار واقعہ کو روکنے اور اپنے علاقہ میں امن و امان کو قائم رکھنے میں بزرگ طبقہ کا تعاون بڑی حد تک فائدہ مند ثابت ہوسکتا ہے۔
ذاتی اور گھریلو تنازوں کا حل نکالنے کے لئے دونوں طرفیں کی مکمل سماعت کے بعد مناسب کونسلنگ سے متبادل نقطہ نظر فراہم کرکے مسلہ کا حل نکالنے میں بھی بزرگ طبقہ معاشرہ کی مدد کرسکتا ہے۔
جو بزرگ کتاب پڑھنے کا شوق رکھتے ہوں وہ اصلاحی کہانیاں سناکر خاص کر فلسفہ کے تعلق سے نوجوان نصل کو کچھ الگ سوچنے پر آمادہ کر سکتے ہیں- اس سے غلط اور صحیح کی پہچان کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ ہو سکتاہے غلط کاموں میں پھنسے ہوئے نوجواں اس سے باہر آسکیں۔
جذباتی سپورٹ کے ذریعہ زندگی کی مشکلات میں مبتلہ افرادکواپنے تجربے کی روشنی میں حوصلہ اور ہمت فراہم کرسکتے ہیں- پیش آنے والے چیلنجز میں صبر اور تحمل کا درس دیکر ایک مثبت ماحول بنا سکتے ہیں۔
روایات اور ثقافت کے تحفظ کیلئے چھوٹے چھوٹے پروگراموں کے ساتھ بڑے پراجیکٹس پر کام کرکے نئی نسل کو ثقافت ادب اور روایات کے ساتھ جوڑ کے رکھنے میں مدد ہوسکتی ہے۔
یہ بہت ضروری ہے کے بزرگوں کی قیادت اور رہنمائی حاصل کرنے کے لئے بین النسلی فاصلوں کو کم کیا جایا – دونوں نسلوں کے درمیان مکالمے ہوں بات چیت کا سلسلہ جاری رہے – ایک دوسرے کی سوچ اور جذبات کو سمجھتے ہوئے متحد ہوکر سماج کے لئے ایک نئی صبح اور ایک نئی شام پیدا کی جاسکتی ہے-
معمر اور تجربہ کار کسی بھی معاشرہ کے لئے ایک بہترین اثاثہ ہیں – ان سے بہترین تعلق بنائے رکھنے میں ہی معاشرہ کی فلاح و بہبودی ہے۔
اب اس بات پر بھی غور کیا جائے کے معاشرہ کا رویہ بزرگ طبقہ کے ساتھ کیسا ہو؟ بزرگوں کے ساتھ مناسب اور عزت و احترام سے پیش آنا ہماری تہذیب اور معاشرتی اقدار کا ایک اہم حصہ ہے۔ ان کے ساتھ حسنِ سلوک اور ادب کا مظاہرہ کرنا نہ صرف ان کی عزت افزائی ہے بلکہ معاشرے میں اخلاقیات اور باہمی احترام کو فروغ دیتا ہے۔
کچھ چیزیں ہیں جس کا خیال کرنا ضروری ہے- جیسا کے احترام اور ادب کے ساتھ پیش آنا ، ان سے صبر اور تحمل سے پیش آنا، ان کی رائے کا احترام کرنا ، ادب کے ساتھ اختلاف رائے رکھنا ، اختلاف رائے کی صورت میں نتیجہ خیز دلائل کے ساتھ اپنی بات یا نقطہ نظر کو ماننے پر راضی کرنا یا یقین دلانا۔ وقتاً فوقتاًہیلتھ کیمپس کا انتظام کرنا۔
بزرگ افراد نے اپنی زندگی میں معاشرتی اور خاندانی خدمات سرانجام دی ہوتی ہیں۔ ان کی خدمات کا اعتراف کریں اور ان کا شکریہ ادا کریں۔ ان کی قربانیوں کی قدر کریں تاکہ وہ خود کو اہم اور مفید سمجھیں۔
معمر طبقہ معاشرہ کا اہم اور معزز طبقہ ہونے کے ناتے ان کے کاموں میں جہاں ممکن ہو سکے ان کی مدد کریں۔ان کے ساتھ بیٹھیں، بات چیت کریں اور ان کے تجربات سنیں۔ آپ کی توجہ ان کے لیے خوشی کا باعث بنے گی۔بزرگوں کے ساتھ حسنِ سلوک اور عزت و احترام سے پیش آنا ہماری معاشرتی ذمہ داری ہے۔ ان کی عزت اور دیکھ بھال نہ صرف ہماری تہذیب کا حصہ ہے بلکہ ہمیں زندگی میں کامیاب اور پرسکون بنانے میں بھی مدد دیتی ہے۔ بزرگوں کے ساتھ بہترین برتاؤ کا مظاہرہ کر کے ہم ایک بہتر اور باہمی احترام پر مبنی معاشرہ تشکیل دے سکتے ہیں۔
اب ان نکات پر بھی بات کی جائے کے وہ کونسی چیزیں ہیں جس سے اجتناب کیا جائے اور کیوں؟ بزرگ افراد اکثر اپنے مسلک یا سیاسی نظریات کے ساتھ گہری جذباتی وابستگی رکھتے ہیں۔ ان کے عقائد اور نظریات زندگی بھر کے تجربات اور ذاتی مطالعے کا نتیجہ ہوتے ہیں، اور وہ ان کو مضبوطی سے تھامے رکھتے ہیں۔ مسلکی یا سیاسی موضوعات پر بات چیت کے دوران ان کے جذبات مجروح ہو سکتے ہیں، جس سے نہ صرف گفتگو ناخوشگوار ہو سکتی ہے بلکہ ان کی دل آزاری کا خدشہ بھی ہوتا ہے۔ مسلکی اور سیاسی معاملات میں اختلافِ رائے بہت حساس ہو سکتے ہیں، اور یہ اختلافات عموماً نتیجہ خیز مباحثے کی بجائے تنازعے کا سبب بن سکتے ہیں -لہٰذا مسلکی و سیاسی باتوں سے پرہیز برتا جائے- گفتگو میں مثبت پہلو پر توجہ دی جائے منفی خیالات کو دور رکھا جائے- بزرگوں کی ضرورت کو نظر انداز کرنا ایک بڑی غلطی ثابت ہوسکتی ہے -کیوں کے تجربہ وہ چیز دے سکتا ہے جو اکثر کتابوں سے حاصل نہیں ہوتی۔ اور بزرگوں سے الجھنا یا ان سے سخت لہجے میں بات کرنا انتہائی نامناسب ہوسکتا ہے- ان سب چیزوں کے ساتھ بزرگ حضرات کی بھی اخلاقی ذمہ داری ہوتی ہے کہ اپنے وسیع تجربے اور علم کی بنا پر کسی کے بھی ساتھ تنازع کے صورت میں صبر تحمل اور حکمت سے کام لیں اور ہر ممکن کوشش کریں کہ اپنے چھوٹوںکیلئے قابل تقلید شخصیت بنے۔
آخر میں ایک بات ذہین میں آرہی ہے کے بیشک ہمارے بزرگوں کے عظیم کام ہی ہیں جو ہمیں متائثر اور متاثر کرتے ہیں- جس کے ذریعہ ہم رہنمائی بھی حاصل کرسکتے ہیں اور زندگی کے میعار کو بہتر سے بہتر بناسکتے ہیں۔امید ہے کہ بتائی گئی باتوں پہ عمل کرکے مستقبل میں ایک مثالی معاشرے کی تشکیل عمل میں آئیگی آج کیلئے یہ ایک خواب ہے ایک دن یہ حقیقت بن کے رہے گی۔ انشاء اللہ