ہبلی:۔معروف شاعرو صدر ادراہ ادب اسلامی ہبلی مرحوم محمد حنیف چودھری کے سانحہ ارتحال پر ادراہ فروغِ اردو ہبلی کی جانب سے تعزیتی اجلاس کا انعقاد کیا گیا۔اس موقع پر خالد احمد جمعدار ، ریٹائرڈ جوائنٹ کمشنر انکم ٹیکس و صدر ادراہ فروغِ اردو ہبلی نے اپنے افتتاحی خطاب میں کہا کہ ” مرحوم محمد حنیف ایک ممتاز ادیب و شاعر تھے، جنہوں نے اپنی زندگی کو علم، ادب ، دین اور سماجی خدمات کے لیے وقف کیا۔ ان کی تخلیقی صلاحیتوں نے اردو ادب کو نئے افق عطا کیے اور اسلامی فکر کو معاشرتی اور فکری حوالے سے مضبوطی دی۔ان کے انتقال سے علمی،ادبی اور اسلامی ،سماجی حلقہ آپ کی ذات سے محروم ہو گیا۔ مرحوم نے اپنے قلم اور فکر اور سماجی خدمات کے ذریعے لوگوں کے دلوں کو مسخر کیا اور ان کی خدمات ہمیشہ کے لیے ہماری رہنمائی کرتی رہیں گی۔ ان کی شخصیت کا نور اور علم کا سمندر ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔ہم دعا گو ہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے، ان کی روح کو سکون عطا فرمائے، اور ان کے اہل خانہ کو اس صدمے کو برداشت کرنے کی توفیق عطا کرے۔ ان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہیں گی اور ہم سب کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گی۔ اللہ ان کے درجات کو بلند فرمائے۔پروفیسرمشتاق احمد یس ملا ریٹائر پرنسپل ٹیپو شہید پولی ٹیکنیک ہبلی و نائب صدر ادراہ فروغِ اْردْو ، ہبلی نے اس موقع پر کہا کہ ” میر تقی میر کا یہ شعر مت سہل ہمیں جانو پھرتا ہے فلک برسوں،تب خاک کے پردے سے انسان نکلتے ہیں مرحوم حنیف اور ان جیسے اوصاف حمیدہ رکھنے والے احباب پے پوری طرح صادق آتا ہے۔انہوں نے اپنے اور مرحوم کے دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ قریباً چالیس سال پہلے وہ جب طلباء تنظیم سٹوڈنٹ اسلامک آرگنائزیشن سےجڑےتھے، پروگرا مو ں کے دعوت نامے لکھوانے مرحوم کے پاس آنا جانا ہوتا۔آپ ایک ماہر خطاط اور خوش خط نویس بھی تھے۔پھر بعد ازاں مرحوم نے قافلہ تحریکی اسلامی میں شمولیت اختیار کرلی اور ادراہ ادب اسلامی ہبلی کے صدر منتخب ہوئے۔ان سالوں میں مرحوم سے تعلقات میں چاشنی پیدا ہوگئی۔آپ کی خاص بات یہ تھی کہ وقت اور نظم و ضبط کے بڑے پابند اور آپ کا خطاب بلکل موضوع پے ہوتا ۔ مرحوم کا خطاب کتابی جملوں پے مشتمل ہوتا اور آپ کو اس پر مہارت حاصل تھی۔پروفیسرمشتاق احمد نے بتا یا کہ آج کے اس سوشل میڈیا کے دور میں ہر کوئی اپنے آپ کو متحرک رکھنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے،ایسے دور میں مرحوم اپنے آپ کو نام و نمود سے دور اپنا کام کرتے رہے ،انہیں شاید لگتا کہ اللہ کی خوشنودی کے سوا دنیا سے کیا غرض۔ انہوں نے کہا کہ ادرہ فروغِ اردو ہبلی مرحوم کے تخلیقات کو مرتب اور شائع کرنے کا اہتمام کرے گا۔شبیر احمد کردی گڈ میمبر ادراہ فروغِ اردو ہبلی نے کہا کہ مرحوم حنیف ایک نہایت مخلص، ملنسار اور خوش مزاج شخصیت کے مالک تھے۔ ان کی سادگی اور ہنس مکھ طبیعت ہر ایک کو متاثر کرتی تھی۔ آپ نے ہمیشہ اپنے اخلاق اور کردار سے لوگوں کے دل جیتے۔ دینی اور سماجی اور ادبی خدمات میں آپ کا کردار ہمیشہ نمایاں رہا، لیکن آپ نے کبھی اس کا دکھاوا نہیں کیا اور نام و نمود سے دور رہے۔ حنیف صاحب اردو کے ایک بہترین خط نویس تھے، جن کے خطوط میں نہ صرف زبان کی مٹھاس بلکہ فکر کی گہرائی بھی محسوس ہوتی تھی۔ اردو ادب کے فروغ میں آپ کی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں۔ آپ نے ہمیشہ اپنی زندگی کو خدمت خلق کے لئے وقف رکھا، چاہے وہ دینی خدمات ہوں یا سماجی۔ آپ کے انتقال سے جو خلا پیدا ہوا ہے، اسے پر کرنا بہْت مشکل ہے۔ظہور احمد یادگیری سکریٹری ادرہ ادب اسلامی، ہبلی نے کہا کہ مرحوم ایک خاموش انقلاب لانے والی ذات تھی۔ آپ کے رحلت پر ادرہ ادب اسلامی ہبلی میں جو خلا پیدا ہوا اسے پر کرنا مشکل ہے۔ عبدالحمید بپاری نے اپنے خیالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مرحوم کو جان لیوا مرض لاحق ہو گیا تھا لیکن بڑے ہی صابر رہے، بیماری کے درد کو خاموش برداشت کرتے رہے لیکن لب پے کوئی شکایت نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مرحوم کے آخری دنوں میں انکا اکثر وقت انکے ساتھ گزرتا رہا۔ محمد ایوب خان سونور ،میمبر ادرہ فروغِ ہبلی نے اپنے اور مرحوم کے برسوں پرانے تعلقات کو یاد کیا اور کہا کہ "آپ کی اسلامی،ادبی اور سماجی خدمات کو عرصہ دراز تک یاد رکھا جائیگا۔محمد حنیف صاحب کو مرحوم کہتے ہوئے دل بھر آتا ہے لیکن ہم سب مشیت الٰہی کے آگے بے بس ہیں۔ جلسے سے مرحوم کے فرزندان ،اور دیگر محبان اْردْو نے اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ جلسے میں ادرہ فروغِ اردو ہبلی کے ممبران،عمران، شاہ نواز ملا،اقبال چتے والے ،شفیع مود بھال ، مجیب مکاندار کے علاوہ دیگر محبان اردو شریک رہے۔پروگرام کی نظامت مجیب مکاندا ر نے کی ۔ پروگرام کے آخر میں مرحوم محمد حنیف چودھری کے لیے مغفرت کی دعا کی گئی۔
