دہلی:۔سنٹرل وسٹا کیس میں سپریم کورٹ نے منگل کے روز سماعت کے دوران دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے پر پابندی لگانے سے انکار کرتے ہوئے عرضی خارج کردی۔ اس کے علاوہ ہائی کورٹ کی جانب سے درخواست گزار پر عائد ایک لاکھ جرمانہ بھی برقرار رکھا گیا ہے۔ سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے کہا کہ درخواست گزار صرف سنٹرل وسٹا منصوبے کے سلسلے میں صحت عامہ کے امور کے بارے میں سلیکٹیو کیوںہیں۔ درخواست میں اس وقت دیگر عوامی منصوبوں پر کوئی تحقیق نہیں دکھائی گئی ہے۔ عدالت نے کہا کہ آپ صرف ایک پروجیکٹ کے بارے میں سلیکٹیو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ سنٹرل وسٹا کیس میں دہلی ہائی کورٹ کے فیصلے کو چیلنج کرتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی گئی تھی۔ درخواست گزاروں نے دہلی ہائی کورٹ کے 31 مئی کے حکم کو چیلنج کیا ہے ، جس میں وسٹا پروجیکٹ کی تعمیر کو روکنے سے انکار کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ یہ منصوبہ قومی اہمیت کا حامل ہے۔ ہائی کورٹ نے درخواست گزاروں پر 1 لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا ۔ دہلی ہائی کورٹ نے سیٹرل وسٹا منصوبے کے تعمیراتی کام کو روکنے سے انکار کردیا تھا۔ عدالت نے اس منصوبے کو اہم اور قومی اہمیت کا حامل قرار دیا تھا۔ اسی دوران سماعت کے بعد بنچ نے اس درخواست گزار کے ارادے پر بھی سوالات اٹھائے تھے۔ عدالت نے کہا کہ یہ درخواست ایماندارانہ نہیں ہے۔ دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے حکم میں کہیں بھی تعمیراتی کام روکنے کی بات نہیں ہے جس کا ذکر کیا جارہا ہے۔ اس منصوبے کی قانونی حیثیت سپریم کورٹ میں ثابت ہوگئی ہے۔ انہیں کام 2021 تک مکمل کرنا ہے۔ اس معاہدے میں وقت کی بہت اہمیت ہے ، کام کسی بھی حالت میں مکمل کرنا ہے۔ ہائیکورٹ نے ایک لاکھ روپے جرمانہ بھی عائد کیا تھا۔
