از:۔ نقاش نائطی۔نائب ایڈیٹر اسٹار نیوز ٹیلوزن دہلی۔966562677707 +

اپنی آل اولاد کو،قرآن و سنت کا بنیادی،ایمانی مضبوطی والا،دین اسلام اور اسکے افکار واقدار سکھانا ہر والدین کا فرض ہے۔ جس طرج بچہ اگر بڑا ہوکر دہشت گرد یا کسی ملک کا باغی دشمن بن جاتا ہے تو حکومت اسکے ساتھ،اسکے والدہن کو بھی،اذیت وتکلیف اور ذہنی تناو کا شکار بناتی ہے، بالکل اسی طرح، اپنی اولاد کو، دنیوی علوم سکھانے کے تفکر میں، اگر ہم نے، اپنی اولاد کو، ضروری دینی علوم سے محروم رکھا اور جوان ہونے پر، دینی افکار فقدان کے سبب، اولاد کسی بھی سبب سے، لادین ہوگئی اور بظاہر مرتد ھندو بن گئی یا اپنے دین پر قائم رہتے ہوئے بھی، دینی شعور فقدان باعث، مشرک ھندو سے شادی کئے،دنیوی رسوم بندھن میں بندھتے ہوئے بھی، زندگی بھر، زنا، جسے عمل گناہ کبیرہ مرتکب ہوتے، یا اختلاط معاشرہ تہذیب نو، زنا شراب نوشی جیسے گناہ کبیرہ کی مرتکب ہوگئی تو، یقین مانئے اس کی دنیا و آخرت تو برباد یوگی ہی، لیکن کل یوم محشر، ہم والدین بھی، اسکی وجہ سے قہر خداوندی یا عتاب و سزا محشر پا رہے ہونگے۔
ساٹھ ستر سالہ زندگی میں جوان ہونے سےپہلے والے، بیس سال اور نانا نانی بننے کے بعد والے بڑھاپے کے بیس سال منہا کردیں توباقی بچے تیس چالیس سالہ دنیوی عیش و عشرت کے مزے لوٹنے کے چکر میں، بعد الموت قبر و عالم برزخ کی کئی سو، ہزار سالہ زندگی نار جہنم کی تپش یا باد نسیم جنت والی فرحت بخش زندگی میں سے، ہم اپنے لئےکیا پسند کریں گے؟ اس کا فیصلہ ہمیں دنیا میں رہتے ہوئے ہی، کرنا ہے۔ ہمارے اپنے جد امجد دادا پڑ دادا کتنے سو ہزار سال سے قبر و عالم برزخ میں، کس حال تکلیف و راحت میں ہیں ہمیں نہیں پتا؟ اور ہمارے مرنے کے بعد، قیامت کتنے سال، سو ہزار سال بعد، آنے والی ہے۔ کوئی عالم بزرگ شیخ بھی نہیں بتلا سکتا ہے، اس کا مطلب صاف ہے۔ ہمیں بھی کئی سو ہزار سال قبر میں رہنا پڑسکتا ہے۔ شادی بعد بچہ پیدا ہوتے، ماں بنتے ہی، ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے اس کا اپنا چھوٹا سا، مگر اچھا سلیقے والا گھر ہو۔ تو پھر کیوں نہ ہم، بعد الموت بیسیوں ہزاروں سال رہنے والی قبر والے ہمارے گھر ہی کو، باد نسیم جنت کی ہوائیں چلنے والے روشندان کھڑکیوں والے، اور اپنی قبر میں رہتے، کھڑکیوں سے جنت کے حسین وادیوں کی سیر کرنے، اپنے قبروالے گھر تعمیر کرنے کی فکر کرنے والوں میں سےبنیں۔ رزاق دو جہاں کے وعدہ کئے رزق متعین کو،ہر کسی کو ملنا ہے ہی، اسکا ایمان و یقین رکھنے والے ہم مسلمان مومن، اپنی اولاد کو دنیا کمانے والی روبوٹک مشین بنانے کے ساتھ،انہیں دین اسلامی، قرآن و حدیث کی ضروری، ایمان مضبوط ہوتی تعلیم سے، انہیں آراستہ و پیراستہ کرتے ہوئے، بعد الموت اپنی قبر و محشر والی زندگانی کو محفوظ کرنے والے بنیں۔ وما التوفیق الا باللہ
