ایک اور شادی محل

مضامین

از۔ڈاکٹر محمد نصراللہ خان(شیموگہ)۔9845916982

زندگی اور موت دنیا کے دو حقائق ہیں ۔ہر ایک کی زندگی میں شادی ایک اہم مرحلہ و مقام ہے۔نظام کائنات میں انسانی سماج کا ایک اہم حصہ شادی ہے ۔اکثر لوگ شادی کرکے بھی پچھتاتے ہیں اور نہ کر کے بھی پچھتاتے ہیں۔کئی قوموں میں لوگ شادیاں نہیں کرتے بس خدمت خلق میںزندگی گزاردیتے ہیں۔ اب یہ بھی کوئی قابل قبول بات تو نہیں ہے۔’’ سنسار سے بھاگے پھرتے ہو بھگوان کو تم کیا پائوگے‘‘ کے مصداق شادی ضروری ہے ۔زندگی کی تکمیل کیلئے شادی ضروری ہے۔ شادی اور موت سے متعلق مشتاق احمد یوسفی لکھتے ہیں ’’شادی بعد از وقت اور موت قبل از وقت معلوم ہوتی ہے‘‘ یہ ایک ایسا عمل ہے جس سے ہر ایک کی زندگی کے خد وخال طئے ہوتے ہیں۔شادی کو خانہ آبادی کہا جاتا ہے بالکل درست بھی ہے۔دنیامیں امیر ہو یا غریب شادی ضرور کرتا ہے۔چلے جو موضوع پرہے اس پر آجائیں ۔لفظ شادی اکثر و بیشتر روز مرہ زندگیوں میں ہم سنتے ہیں۔
ہر لفظ کے دو معنی ہوتے ہیں ایک لفظی معنی اور دوسرا اصطلاحی معنی ۔ لفط شادی کے لفظی معنی تو خوشی ، شاد ، مسرت یا شادمانی کے آتے ہیں ۔ لیکن اصطلاحی معنی میںشادی نکاح ،عقد یا جوڑ کو کہا جاتاہے ۔شادی ایک بندھن ہے جو ایک مرد اور عورت کے بیچ ہوتا ہے ۔ اس رشتہ کی تکمیل کے لئے یا نکاح کے لئے ایک وکیل ، دو گواہ اور دفتر کے ساتھ قاضی کا ہونا ضروری ہے ۔ وقت کے ساتھ ساتھ زندگی کے طور طریقے بدلتے رہتے ہیں ۔ الفاط اور اس کے معنی بھی بدلتے رہتے ہیں۔استعمال بھی بدلتے رہتے ہیں آج کل لفظ شادی ،بیاہ جو رشتئہ ازدواجی ہے اس کے لئے خوشی کے معنی تو ٹھیک ہے لیکن شادی کے لئے نکاح یا عقد یا جوڑ کے لئے استعمال ہونا چاہئے ۔ ہر کوئی ایسا کہے گا کہ فلاں شادی کو جا رہا ہوں ۔فلاں کے نکاح میں شریک ہونے جا رہا ہوں یہ بھی کہیںسننے کو مل جائے گا ۔ فلاں کے عقد یا جوڑ کی تقریب میں شریک ہونے جا رہا ہوں ایسا کہا نہیںجاتا ۔حقیقی معنی میں فلاں کے نکاح میں شریک ہونے جا رہاہوں صحیح ہے۔ زندگی کے طرز عمل نے ہمارے رہن سہن کو بدل دیا ہے ۔ انسانی سوچ کس قدر بدلنے لگی ہے اس سے اس کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔
اب چلے مقام شادی پر بات کریں۔جس مقام پر یا جس ہال یا جس عمارت یا جس بلڈنگ میں شادی ہوگی (گھر کو چھوڑ کر )اس کو شادی محل کہتے ہیں ۔ ویسے بھی ہندوستان میں صدیوں تک مسلمانوں کی حکومتیںرہی ہیں تو محل بہت مشہور ہے ۔ جیسے تاج محل ، ممتاز محل ،رنگ محل ، شاہی محل، گل محل وغیرہ۔ اب جو نکاح کی کاروائی جس مقام پرہو گی اس مقام کو یا اس عمارت کو ہم نے شادی محل بنادیا ۔ جہاں تک دین اسلام یا شریعت کا سوال ہے شادی محل کا تصور دور دور تک اسلام میں نہیں ہے۔نہ حضور ﷺ اور نہ کسی صحابیؓ نے شادی محل بنائے اور نہ کبھی اس کی تعمیر کا حکم دیا۔ کسی بزرگان دین کی واعظموں میں بھی شادی محل کا تصور نہیں ملتا۔ ہاں اسلام میں ، مساجد، مدرسے ، قیام گاہیں، درسگاہیں، آرام گاہیں،مسافر خانے ،دوا خانے ، یتیم خانے ، رہائش گاہیں وغیرہ کا تذکرہ ملتا ہے ۔ کہیں بھی اور کبھی بھی شادی محل کا تصور نہیں ملتا۔ یہ سب بہت قریب کے دور کی ایجاد ہے ۔ خاص کر شہروں کی بڑھتی ہوئی آبادی سے ہی اس کا وجود عمل میں آیا ہوگا۔ ورنہ بادشاہوں کے دور میں بھی شادی محل نہیں ہوتے تھے۔
اصل میں نکاح کی تقریب مسجد میںہونا ہے ۔اور مختصر لوگوں کے بیچ ہونا ہے ۔اس لئے کہ لوگ مسجد میں با وضو ہوتے ہیں ۔ نکاح کا خطبہ سننا دو رکعت فرض نماز کا ثواب بھی ہے ۔اب شادی محل میںجو نکاح کی تقریب ہوگی اس میں ہزاروں لوگ ہوتے ہیںاب اس میںکتنے باوضو ہوں گے یہ سوالیہ نشان ہے۔
جہاں تک نکاح ی کا سوال ہے میرا مطلب شادی کا سوال ہے اسے تو سادی(سیدھی سادھی) ہونا چاہئے ہم نے اسے شادی بنا دیا ۔ اب مسلمانوں میں شادی محلوں کی تعمیر میں ایک ہوڑ سی لگی ہے کہ میرا شادی محل سب سے بڑا ہونا چاہئے ۔شادی محل بنانے والوں میں مقابلہ آرائی شروع ہوگئی ہے کہ میرا شادی محل ایسا ہونا ہے ، سب سے اچھا ہونا ہے، دیکھنے میں سب کو متاثر کرنے والا ہو ،ہر طرح سے آرائش و زیبائش کے ساتھ شہر میں بڑا دکھنا ، خوب صورت دکھنا اور لوگ میرے شادی محل کی جانب مائل ہونا وغیرہ وغیرہ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ ’’قرب قیامت عرب کے لوگ جو کبھی بھوکے ، ننگے اور بغیر چپل پہنے رہنے پر مجبور تھے وہ عمارتیں بنانے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں مصروف ہوں گے کہ میری عمارت سب سے اونچی ہے‘‘۔یہ بات بھی واضح کرتا چلو کہ وہ حدیث میں کہی ہوئی بات سچ ثابت ہو رہی ہے کہ ’’بر ج خلیفہ ‘‘جو دنیا کی سب سے بڑی عمارت ہے اب اس کا رکارڈ ٹوٹنے والا ہے سعودی عرب میں دنیا کی سب سے بڑی عمارت بن گئی ہے عنقریب اس کا افتتاح ہونے والاہے۔ پھر دیکھئے مسلمان عمارتیں بنانے میں دوسری قوموں سے کتنے آگے ہیں بالخصوص اہل عرب کے لوگ چھوٹی چھوٹی ڈگریوں کیلئے دور دراز بیرونی ممالک کا سفر کرتے ہیں ۔اب اس صورت حال کو ہم چراغ تلے اندھیرا ہی کہہ سکتے ہیں۔دولت کو عیاشی میں برباد کر رہے ہیں۔ وہ لوگ جہاں اللہ کا کلام ان کی اپنی زبان میں نازل ہوااور سب سے اہم اللہ کی نبی ﷺ ان میں سے ہیں ۔ اس سے بڑھ کر ایمان کی کمزوری اور کیا ہوسکتی ہے واقعی دولت انسان کو نکمہ کر دیتی ہے ۔اللہ خیر کرے ۔
اب ان بڑے اور نامور شادی محلوں میں اپنے بچوں کی شادیاں کرنے والوں میں بھی ایک ہوڑ سی لگی ہے کہ میری بیٹی یا بیٹے کی شادی فلاںشادی محل میں ہی ہونی چاہئے تاکہ دنیا دیکھے کتنی زبردست شادی ہوئی ۔ اس کی سجاوٹ ، لائٹنگ ،ڈکوریشن ،بورڈس ، نام ، نصب ، شجرہ ، وراثت ، محلہ وغیرہ درج ہوگا جیسے مرثیہ میں کسی پہلوان کی جنگ میں آمد سے قبل اس کے باب دادا، خاندان اور قبیلے کے اہم افراد کے کارناموں کاذکر ہوگا تاکہ دشمن پرلرزہ طاری ہو اور وہ جنگ بہ آسانی جیت جائے۔ شادی محل مختلف سمت اور مرحلوں پر مشتمل ہوتا ہے باہر کا ڈکوریشن اور اندر کا ڈکوریشن ایسالگتا ہے کہ دلہن کی طرح شادی محل کو سجادیا گیا ہے ۔ اب یہ پتہ لگانا مشکل ہے کہ شادی کس کی ہو رہی ہے کیا دلہا دلہن کی شادی ہو رہی ہے یاشادی محل کی شادی ہو رہی ہے یہ بتانا مشکل ہے ۔ ساتھ ہی کار کی سجاوٹ گویا کار خود کار ہوکر دوسروں کو بیکار بنارہی ہے۔ اس کے علاوہ بونس کے طور پر گانا ، باجا ، ڈھول ، ڈھپہ ، موسیقی ، رقص ، پٹاخے ، گھوڑا گاڑی ، رنگ وروغن ، فوٹوگرافی ویڈیو گرافی ایسی کہ کوئی فلم کی شوٹنگ ہو رہی ہو ، آرکسٹرا ، قوالی ، غزل ،گویئے ، ناچ گانا ، میوزک ، گیت ، سنگیت یہ ان شادیوں کے مناظر ہوتے ہیں۔ اب یہ شادیاں بھی قسطوں میں ہوتی ہیں ۔ برائڈ ٹو بی ، بیچلرس پارٹی(مغرب کے واہیات رسمیں) ہمارے سماج میں عام ہو رہے ہیں۔ ہلدی ، مہندی ، شکرانہ ،نذرانہ ، باراتی ، نکاح ، منڈوا، جلوہ ، وداعی غرض کہ مشرق و مغرب کا ایسا حسین سنگم ہمیں صرف ہماری شادیوں میںملے گا ۔ایسا ناچ گانا کیا دلہا کیا دلہن ، کیا بڑے کیا چھوٹے ، کیا عورتیں کیا مرد ، کیا بچے کیا جوان ایسے مست ہاتھی کی طرح ناچتے ہیں کہ گویا ان کی زندگی کے پورے چودہ طبق روشن ہوگئے ہیں اور اب اور کوئی طبق باقی نہیں ہے روشن ہونے کیلئے یا ایسا بھی ہوسکتا ہے کہ انہیں کسی طرح کشف (علم) ہوگیا ہے ہو کہ اب کبھی بھی موت نہیں آئیگی اور اسی دنیا میں ہم کو مستقل رہنا ہے۔یہ شادیاں بدکاریوں کا ایسا نمونہ بن گئے ہیں۔لعنت ہے ان کے سوچ پر ان کے نظرئے پر اور ان کے عمل پر جہاں لوگ سمجھ رہے ہیں کہ ہم ایک تاریخ رقم کر رہے ہیں ۔ اصل میں تاریخ رقم نہیںمسلمانوں کی تاریخ ختم کر رہے ہیں ۔
مسلمان ہر ایک میں سمجھوتہ کرسکتی ہے کبھی کھانے کے معاملے میں کسی طرح کا سمجھوتہ نہیں کرسکتی۔ اس حسین موقع پر لذیذ پکوان ، مرغ مسلم ،گوشت ، کباب ، شامی ، تندوری (درجنوں قسم ہاں قسم کے گوشت ، روٹیاں، بریانیاں)مچھلی ، انڈا، بکرہ ، بریانی اس کی مقدار ، ان پکوانوں کے ساتھ فروٹ ، سافت ڈرنکس ، جوس، آئیس کریم ،پان ایسا لگتا ہے کہ سارے پکوان آسمان سے اتاریں گئے ہیں اس میںرنگ برنگ سویٹ ، مٹھائی ، کھجور ، بادام ، مسری ، چاکلیٹ ، کلفی ،غرض کہ جنت کی نعمتوں کو زمیں پر لایا کر سجا یا گیا ہے ۔ مرازا غالب سے کسی نے پوچھا کہ آپ کا دستر خوان تو بہت ہی اعلیٰ ہے ۔تو غالبؔ نے اس کا جواب یوں دیا کہ’’ میرا دستر خون دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ یہ یزید کا دستر خوان ہے ۔اس میں کھانے کی مقدار کو دیکھیں تو معلوم ہوگا کہ یہ با یزید کا دستر خوان ہے‘‘۔ اس طرح ہم ایک دن کی شادی کیلئے ہزاروں لاکھوں ،کروڑوں روپئے پانی کی طرح بہا رہے ہیں ۔ان شادیوں میں جو کھانے پکائے جاتے ہیں اسے دیکھ کر ایک بات معلوم ہوتی ہے کہ ہم دنیا میں صرف اور صرف کھانے کیلئے آئے ہیں۔اگر فیضؔ احمد فیض ہوتے تو ان کی مشہور نظم کا مصرعہ شاید یوں ہوتاکہ ’’اور بھی کام ہیں دنیا میں کھانے کے سوا ‘‘۔ چند گھنٹوں کے بعد ان قیمتی پکوانوں کا یہ حال ہوتا ہے کہ وہ یاتوکچرے میں پھیکا جاتا یا اور کسی طرح برباد کیا جاتا ہے۔ شادی محل بھی ایسے کہ اس کے نام بھی سیدھا آسمان سے ہی اتا رے گئے ہیں ، کسی کا نام آسمان سے منسوب تو کسی کا نام تاروں ، ستاروں سے منسوب ، کسی کا چاند سے منسوب توکسی کا سورج سے کسی کا جنت سے منسوب تو کسی کا اور کسی سے غرض کہ پوری کائنات دیکھنا ہو تو ان شادی محلوں کے ناموں سے بھی آپ اندازہ لگا سکتے ہیں۔ یقیناً اس کے نام رکھتے وقت یا اس کی تعمیر کے وقت ضرور فرشتے آکر وحی کے ذریعے بتائے ہونگے کہ یہی نام رکھنا ہے۔ اس لئے کہ اس میں پورے نظام شمسی کو مد نظرکھ کر ہی نام کا انتخاب ہوتا ہے۔کیا عربی ، کیا فارسی ، کیا اردو کیا انگریزی لگ بھگ ہر زبان میںان شادی محلوں کے ناموں کے مطالیب کو دیکھ کر رکھے ہونگے۔ ورنہ آج کل بچوں کے نام بھی اس قدر تحقیق کرکے نہیں رکھے جاتے۔واقعی یہی سوچ کر ایسے ایسے نام رکھے ہونگے کہ رحمت کے فرشتے اپنا شادی محل چھوڑ کر اور کہیں نہیں جائیں ۔
ان شادی محلوں کی تعمیر بھی ایسی کہ تاج محل اور لال قلعہ بنانے والے آرکٹکٹ بھی پھیکے پڑ جائیں گے۔ پھر اس پر سجاوت اس طرح کہ ہر کوئی ان کی جانب مائل ہوجاتا ہے ۔ تاکہ شہر گائوں میں چرچا کہ میں اپنے فرزند یا دختر کی شادی فلاںشادی محل میںکیا گویا ایسا لگتا ہے کہ وہ دنیا کی آخری شادی ہے ۔ اس کے بعد کوئی شادی نہیں ہوگی ۔بس ایک دن کی تقریب کے لئے سارا آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔کسی چیز کی بھی کمی نہ ہو پائے ۔گویا ایسا لگتا ہے کہ مرنے کے بعد فرشتے سب سے پہلے یہی سوال کرینگے کہ تم نے اپنی بیٹی یا بیٹے کی شادی میں آئیس کریم کیوں نہیں دیا ۔فروٹ کیوں نہیں دیا ۔ گوشت کے درجن یا آدھا در قسمیں کیوں نہیں بنائے۔فلاں کیٹرنگ والے کو کیوں نہیں دیا۔شادی یا شادی محل گویا اشتہار بازی کا ایک اہم مرکز ہے۔
شادیوں کی قسمیں اس عنوان سے ہر کوئی چونک سکتا ہے کہ شادیاں تو شادیاں ہوتی ہیں اس کی قسمیں کیسی۔ غور کیجئے تو شادیوں کی قسمیں ہوتی ہیں جیسے سیاسی شادیاں، آج کل سیاسی شادیوں کا چلن بہت عام ہوگیا ہے اس میں زیادہ تر براہ راست یا بلا وسط طور پر سیاستدانوں کی شمولیت ہوتی ہے۔ اس میںاکثر و بیشتر لوگ یاتو سیاست کے سورما ہوتے ہیں یا پارٹ تائم سیاست دان ہوتے ہیں۔ جو بھی ہو لیکن بھیڑ اتنی کہ شادی محل بھی اپنے آپ کو یہ کہتے ہوئے معلوم ہوتا کہ کاش میرا دامن اور وسیع ہوتا ۔ اس بھیڑکو میں اپنے کلیجے سے لگا لیتا ۔جہاں دیکھوں بس لوگ ہی لوگ ۔ جسے بیٹھنے کی جگہ مل گئی سمجھ لیجئے کہ وہ آج کا سب خوش قسمت انسان ہے ۔ جسے وقت پر کھانا مل گیا سمجھ لیجئے کہ وہ پورے رمضان کے روزے رکھ رکھ کر دعا کر کے آیا ہوگا کہ مجھے پہلی صف میں جگہ مل جائے اب شرف قبولیت کا مقام ہے ۔ ایسے ماحول میں کئی لوگ اس سے کیسے بچ کر نکلنا ہے یہ سوچ کر پریشان ہوجاتے ہیں۔ اس طرح کی بھیڑ کو دیکھ کر ایک مضمون مجتبیٰ حسین کا لکھا جس کا عنوان ہے ’’ریلوے منتری مسافر بن گئے ‘‘ کی یاد تازہ ہوتی ہے ۔ اتنی بھیڑکو اور لوگوں کو جو پریشانیاں ہو رہی ہیں اس کے علاوہ باہر جو کاریں، سواریاں ہیںاس سے اندازہ لگا یا جا سکتا ہے کہ یہ غیر معمولی شادی ہے ۔جسے کار پارکنگ یا گاڑی کھڑا کرنے کی جگہ مل گئی تو سمجھ لیجئے کہ اس کی کئی ہفتوںکی دعا قبول ہوگئی ہے۔
افیشل شادیاںیہ شادی دراصل وہ شادیاں ہیں جو زیادہ تر آفیسرس، سرکاری یا غیر سرکاری ملازم اپنے گھروںکی شادیاں اتنے دھوم دھام سے کرتے ہیں کہ سارا عملہ اس میںشریک ہو کر شادی کے افیشل ہونے کا ثبوت پیش کرتا ہے ۔ کم وبیش ایسی شادیاں بھی انہیں شادی محلوں میں ہوتی ہیں جہاں اپنی عزت اپنا وقار اور اپنی پہچان ثابت ہو ۔ورنہ چھوٹے موٹے شادی محلوں میںشادیاں کرنے سے برادری میںناک کٹ جائیگی۔جس سے اپنے افیشل پن کا مزاق اڑجائیگا ۔ شادی صرف شادی نہ رہی بلکہ ایک کارنامہ ہے جو ہر کس و ناکس سے ممکن نہیں۔ اس کیلئے بہت پاپڑ بیلنے نہیں پڑتے بلکہ پاپڑ کے فیکٹریاںبنانے پڑتے ہیں ۔
بڑے کار وباری گھرانوں کی شادیاں، نام سے ہی ظاہر ہے کہ بڑے اور کار وباری گھرانے اپنے گھروں کی شادیوں کو بھی بڑے دھوم دھام سے کرتے ہیں ۔ اپنے پیشہ سے وابسطہ لوگ تو شریک ہوتے ہیں ۔ اس کے علاوہ ان لوگوں کوبھی مدعو کیا جاتا ہے جو کسی نہ کسی طرح ان کیلئے فائدہ مند ہو آج نہیں تو کل وہ ضرور ان کیلئے سود مند ہونگے ۔ دراصل یہ سب فیوچر پلان ہوتا ہے۔شادی اب شادی نہیں رہی بلکہ ایک مستقبل کا ایک پلان ہے جس کو بہت سوچ سمجھ کر عملی جامہ پہنایا جاتا ہے ۔ اس کا لائحہ عمل تیار کیا جاتا ہے یا ایسا بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک طرح کی سرمایہ کاری ہے جو آگے چل کر نفع دے گی۔ویسے بھی آج انسان کی سوچ اور فکر پر شرافت اور انسانیت نہیں بلکہ تاجرانہ ذہنیت حاوی ہے۔
اب بچے عام لوگ جو یا تو غریب ہوتے ہیں یا مشکلوں سے زندگی گزار تے ہیں ۔درمیانی طبقے سے جڑے ہوئے لوگوں کے لئے شادی ایسا مسئلہ ہے جس کو عیاں اور بیاں کرنا نہایت ہی مشکل کام ہے۔ شہر و گائوں کا ماحول ایسا بنادئے ہیں کہ وہ اپنی استطاعت سے بڑھ کرخرچ کرنے پر مجبور ہوجاتے ہیں ۔ جس کیلئے کسی کو ادھار لینا پڑتا ہے تو کسی کو اپنا گھر ، کھیت یا باغ بیچنا پڑتا ہے ۔ کسی کو بینک ،فینانس یا سوسائٹی سے لون لینا پڑتا ہے تو کسی کو گھر ، کھیت ، باغ ، سونا یا کوئی قیمتی شئے گروی رکھنا پڑتا ہے ۔ کسی کو سود پر پیسہ لینا پڑتا ہے تو کسی کو اپنی چھوٹی موٹی تجارت کو ختم کرنا پڑتا ہے ۔دورِ حاضر کے بے لگام تقاضے ہمیں دنیا میں جہنم کی سیر کرا رہے ہیں۔سماج میں پھیلے ہوئے بے جا رسومات اور اصراف خرچ کے ریگستان ہماری زندگیوں کو اس طرح سو کھا کر دئے ہیںکہ اب ہر نفس جینے کیلئے قطرئہ آب کو ترس رہی ہے۔ فرسودہ اور بیکار اعمال نے ہمیں دکھاوا ، ریاکاری اور بدکاریوں کے علاوہ کچھ نہیں دیا ۔ان سب کو ہم نے زندگی کا نصب العین سمجھ لیا ہے۔واقعی جلال الدین محمداکبر اور اس کے ہم خیال دیگر بادشاہ و نوابوں نے ہمیں کچھ دیا ہے یا نہیں پتہ نہیں لیکن غیر اسلامی رسومات کا تحفہ ضرور دیا ہے ۔ آج اتنے علم والے اتنے سمجھ دار اتنے تجربہ کار ہونے کے باوجود لوگ انہیں رسموں ، ریتوں اور رواجوں کو گلے لگائے بیٹھے ہیں ۔جو ایک خرافاتی عمل کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ جس میں ہمار پیسہ ، ہمارا سرمایہ ، ہمارا وقت سب برباد ہو رہا ہے۔ اس پر ان شادیوں میں فلموں کے گانوں پر دھن پر ناچتے گاتے ہمارے بچے ،نوجوان ، لڑکے لڑکیاں،صرف نوجوان کیا بڑے بھی چند گھنٹوں کیلئے فلموں کے ہرو وہیروئن کو بھی مات دے دیتے ہیں۔ گویا شادی محل ناچنے گانے کے اڈے بن گئے ہیں۔ نوشاہ کی آمد گھوڑی پر ہوکے سوار سے ہوتی ہے۔کیا آمد ہے ایسا لگتا ہے کہ گوڑی بھی سوچنے پر مجبور ہوجاتی ہے کہ میں تو جانور ہوں یہ مجھ پر جو بن سنور کر کون سوار ہے ؟ اور میرے آگے پیچھے جو ناچتے گاتے ہوئے چل رہے ہیں ان کا تعلق کس برادری سے ہے ؟۔ ایسا لگتا ہے کہ شادی فضول خرچیوں کا ایک دفتر ہے۔ جس میں بد کاریوں کی محفلوں کو آراستہ و پیراستہ کیا جاتا ہے۔یہ سب شادیاں کم تماشہ زیادہ معلوم ہوتے ہیں۔ اس طرح کے غیر شرعی عمل سے یقینا قوم کے لئے تباہی و بربادی کے سوا کچھ حاصل نہیںہو گا۔ اللہ خیر کرے۔
سر سید احمدخاں نے مولانا حالیؔ سے مد و جزر اسلام یعنی مسدس لکھوائی جس میں اسلام کے نشیب وفراز کے تفصیلات ملتے ہے ۔ جس سے متعلق خود سر سید کہتے ہیں کہ ’’قیامت میں اللہ تعالیٰ اگر مجھ سے پوچھے کہ دنیا میں کونسا اچھا کام کیا ہے تو میںبلا شک و شبہ کہوں گا کہ میں نے حالیؔ سے مسدس لکھوائی ہے‘‘۔اس طرح قوموںکی زندگیوں میںعلم وادب کی اہمیت ہوتی ہے ۔ سرسید ایک دور اندیش اور وسیع النظر انسان تھے ۔اس لئے آپ نے علم و ادب کے مراکز قائم کئے ۔ شادی محل نہیں۔’’آثارلصنادید‘‘ ایک بڑی تصنیف ہے آپ کی جس میں مسلمانوں کی تعمیر کردہ دلی کی قدیم عمارتوں کا تذکرہ ملتا ہے ۔ جس میں قلعے ، گنبدیں، مسجدیں، میناریں،درسگاہیں اور سرکاری کاموں کے دفتروں جیسے محلات وغیرہ کا ذکر کیا ہے اگر کوئی موجودہ دور میں آثارلصنادید جیسی تصنیف لکھنے کی کوشش کرے گا تو یقینا اس میںآج کے شادی محلوں کا تذکرہ ضرو ملے گا۔
ہماری حکومتیں چلی گئی، سلطنتیں ختم ہوگئی،بادشاہت ، نوابیت سب ختم ہوگئے ۔ وطن کی تقسیم نے ہمیں وہ رونا رلا یا ہے رلاہی ہے کہ اب آنسو کم پڑنے لگے ہیں ۔ بالکل’’ لمحوں نے خطا کی تھی صدیوں نے سزا پائی‘‘ کہ مصداق ہماری زندگی ہوگئی ہے۔ احساس مرچکا ہے ، جذبات ختم ہوچکے ہیں یا زنگ آلود ہوچکے ہیں۔ لیکن ہم آج بھی اسی طرز کی زندگی جینے کی کوشش میں لگے ہیں۔وہی اکڑ وہی غرور وہی رنگ ڈھنگ ۔ کاش کہ ان سب فضول خرچیوں کے بجائے اچھے اسکول ، اچھے مدرسے ، اچھے کالج ، اچھے یونیورسٹیاں ، اچھے تعلیم و تربیتی ادارے ، اچھی درسگاہیں قائم کرلیتے تو ہمارے نسل زیور تعلیم سے آراستہ ہوجاتی۔حصول علم کی خاطر در بدر بھٹکنے سے بچ جاتے ۔غیروں کے اداروں میں اپنے بچوں کی تعلیم کے لئے کٹورا ہاتھ میں لئے کھڑے ہوکر بھیک مانگنے کی نوبت نہیں آتی۔ ، اچھے اسپتال، اچھے نرسنگ ہوم بنالیتے تو علاج کیلئے در در بھٹکنے کی نوبت نہیں آتی ،اچھے ہاسٹل، ٹریننگ سنٹرس کارآمد انجمنیں ، مثالی تنظیمیں ، جدید علوم کے مراکز ، سائنس وٹکنالوجی کے ادارے ، ادبی انجمنیں، سماجی فلاح وبہبود کی تنظیمیں قائم کرتے تو یقینا ہماری قوم آج ہندوستان میںترقی یافتہ قوم کہلاتی ۔ اور ہمیں غیروں کے اداروں میںاپنے بچوں کو داخلہ دلواکر غیروں کی تہذیب کو نا چاہتے ہوئے بھی اپنا نا نا پڑ تا ہے۔جو غلط رسم و رواج ، جو نشہ،جو غلط کاریاں، مرتد ہورہی ہماری لڑکیاں، جو تباہیاں ، جو بربادیاں ہو رہے ہیں سب اسی کا نتیجہ ہیں کہ ہم ان تعمیری کاموں کے بجائے دکھاوے کے کام کررہے ہیں۔ افسوس اس بات کا ہے کہ اتنی کثیر آبادی ہونے کے باوجود ہم نہایت ہی کسمپرسی کے عالم میں گھٹ گھٹ کر سسکیاں لے لے کر جینے پر مجبور ہیں۔ جتنا خرچ ایک شادی محل پر ہوتا ہے۔اس میں ایک، ایک دودو یا اس سے زیادہ اسکول کالج بہ آسانی بن جاتے ہیں ۔ اس بات سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اگر کسی شہر میں جتنے شادی محل ہیں اگر اتنے ہمارے اسکول یا کالج یا اور کوئی ادارے انجمنیں ہوتے تو قوم کا مستقبل کس قدر روشن ہوتا۔ ہم نے قیمتی سرمایہ کو قوم کی فلاح کے بجائے ایسے فضول خرچیوں میں لگادیا ۔ یہ سب ایمان کی کمزوری ،دین سے دوری ،دور اندیشی کا نہ ہونا اور تنگ نظری کا ثبوت ہے۔ افسوس نہ ہمیں علم کی قدر معلوم ہے اور نہ تعلیمی اداروں کی اہمیت ۔ کاش ہم ان شادی محلوں اور شادیوںکے غیر ضروری بے جا اصراف سے بچ کر سماج اور قوم کا بھلا کرپاتے۔ تو ایک اچھے اور صحت مند سماج کی بنیاد رکھ پاتے ۔ موجودہ نسل اپنے سنہرے مستقبل کے خواب دیکھ پاتی جس سے آنے والی نسلیں بھی ہماری مرہونِ منت ہوتیں۔ افسوس صد ہا افسوس ۔