از ۔ڈاکٹر محمد نصر اللہ خان(شیموگہ)۔9845916982
ہند کے شاعرو، صورت گر و، افسانہ نویس
آہ بیچاروں کے آعصاب پر ہے عورت سوا ر
شعر درا صل ’’شعرٌ‘‘ ہے جو عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنی بال کے آتے ہیں۔ حقیقت میں بال کوجب چھوتے ہیں تو ایک احساس ہوتاہے ۔شعر اسم شاعر فاعل اور مشعور مفعول ہے ۔ شعر سن کر جو یا جس پر احساس ہوتا ہے وہی مشعور ہے لیکن اردو میں مشعور کا استعمال بہت کم ہوا ہے یا بہت سے لوگوں کو یہ معلوم بھی نہیں ہے۔ چونکہ زبان وبیان کی خوبصورتی ،لطافت اور موزنیت کا پتہ ہمیں عربی زبان میں کثرت سے دکھائی دیتاہے ہے۔ قرآنِ مجید کی کئی صورتیں شاعرانہ انداز میں ملتی ہے ۔ قرآن ِ مجید کلام اللہ ہے اس لئے شعرو شاعری کی بنیاد بھی قرآن سے ثابت ہے ۔عرب میں شعر وشاعری کی بنیادی جزیات پر بڑی باریک بینی سے اظہار خیال اور اظہار نظریہ کے واضح شواہد ملتے ہیں۔ وہی باتیںعربی سے فارسی اور فارسی سے اردو میں منتقل ہوئی ہیں۔
خلیل بن احمد فراہیدی عروض کا موجد ہے ۔ جس کا تعلق عرب سے تھا ۔دنیا اس بات کااقرار کرتی ہے کہ اکثر وبیشتر علوم کی ابتداء عرب سے ہوئی اسی طرح شعر گوئی کاچلن بھی عرب کی سرزمین سے ہونے کی بات ثابت ہے۔ شاعری سرور ونغمگی سے پر نور ہو تو کلام کاسیدھا اثر دل پر ہوتاہے ۔ شاعری ایک فطری چیز ہے شعر کہنے کی صلاحتیں فطرتاً شاعر کے ذہین وفکر میں سرایت ہوتی ہیں۔
شعر موزوں اور بااثرہو اس کلام کو شعر کہتے ہیںلفظوں کا وہ مجموعہ جس میں موزنیت کے صفات موجود ہو مصرعہ ہوتا۔اس طرح دو مصرعوں کے مابین فکری تسلسل یا معنوی اعتبار سے ربط ہو مکمل شعر بنتا ہے۔
شعر گفتن گرچہ در سقتن بود
شعر فہمیدن بہ از گفتن بود
یعنی شعر کہنا اور سمجھنا دونوں بہت مشکل کام ہیں ۔
شاعری کیا ہے دلی جذبات کااظہار ہے
دل اگر بیکار ہے تو شاعری بیکار ہے
بقول مرزا غالب’’شاعری قافیہ پیمائی کانا م نہیں معنی آفرینی کانام ہے‘‘۔
مغربی تہذیب نے ساری دنیا میں اپنا سکہ اس طرح جمایا کہ یکے بعد دیگر ممالک ، قومیں،تہذبیں،نسلیں اور علاقیںاس کی زد میں آگئے ۔ مادہ پرست طاقتوں نے عورت کے مقام ومرتبے کے مفہوم کو بدل کر اس کوایک چیز ایک شئے کے طور پر پیش کیا ۔دنیا نے اُس کو بنفس نفیس قبول کیا۔ وجود زن اور معاملات نسواں کو تجربے کا مرکز بنایا گیا کہ ساری دنیا دنگ رہ گئی اور نت نئے تجربات کو دنیا کی کامیابی اور جدید زندگی کا نام دے کر عورت کو بناوٹی مجسمہ بنا کر پیش کیا ۔ جس سے عورت کی حقیقی عظمت ،مقام وکردار کو ختم کرکے خارجی حسن ، چال چلن اور حرکات وسکنات کو اہمیت دی گئی ۔ جبکہ عورت کا مقام اس قدر اعلیٰ ہے کہ مقام ومنزلت کے تمام مراحل ومراکز اس کے پائوں تلے نظر آتے ہیں۔
عورت ایک ماں ہوتی ہے جس کے پائوں تلے جنت ہے ،عورت ایک بہن ہوتی ہے جو الفت ومحبت کے عظیم رشتوں میں شمار ہوتی ہے ۔ عورت جب بیوی بن کر گھر میں قدم رکھتی ہے تو اس ویران گھر کو بھی محبت وخلوص سے خوش نما گلشن بنادیتی ہے ۔ یہی عورت جب بیٹی بنتی ہے تو محبت کی انتہا بن کر مرجھائے دلوں میں آرزو اور محبت کے چراغوں کو روشن کردیتی ہے ۔یہ چاروں مقام عورت کی عظمت ، عزت اور وقار کو بلندیوں تک پہنچادیتے ہیں۔ا س کے علاوہ بھی اور کئی رشتے ایسے ہوتے ہیں جیسے ،خالہ، پھوپی،چاچی، مامی، نانی، دادی وغیرہ ۔ مغربی طرز زندگی نے یہ تمام رشتوں کو اس کی مرکزی حیثیت کوختم کرکے عورت کو مخصوص طور پر ایک محبوب کے طور پر پیش کیا جس سے عورت کے مرتبے کی بنیاوں کو کمزور کرکے صرف اس کے خارجی پہلوئوں کو اجاگر کیا ،پوشاک ،گیسو، سینڈل ،زیورات اور دیگر عورت کے آرائش وزیبائش کے چیزوں کو یعنی اس کے ظاہری حسن کو موضوع ِ سخن بنایا جاتا، اگر صاف الفاظ میں یوں کہاجائے تو بیجانہ ہوگا کہ ہماری شاعری عورت کے اطراف طواف کررہی ہو اور ہمارے شعراء مریدِ زن بن کر طواف ِزن کے بعد مقبول حج کے حاجی بن کر دنیا جہاں میں اپنے خدمات کا بوریا بستر بچھارہے ہیں۔ جس پر چل کر مزید نئے شعراء اپنے کمال فن اور جوہر الفاظ کے بل پر نئے نئے تراکیب ،نئی نئی بندیشوں کو ایسے تلاش رہے ہوں جیسے اب دنیا انہیں کے ایجاد کے بعد اختتام پذیر ہوجائے گی۔
ہمارے شعراء وادبا ء پیمانہ وفا بھول کر حیات وکائنات کے مسائل سے دور ایک ایسی دنیا بسادی جہاں دیکھے تو صرف حسن ،عشق، پیار ومحبت ، خوشی ،اقرار ،آرزو ، اظہار ،انکار، روٹھنا ،منانا ،امنگیں ،چاند ،تارے ، گلستاں، جھرنیں،نہریں، جنگل ،جھیل ،ہرن ،صندل، مخمل ،مور، کوئل، منجملہ پیچیدہ اور اہم مسائلِ زندگی سے ہٹ کرعوام الناس کادھیان ان چیزوں میں لگا رکھا جس طرح آج کا میڈیا حقیقی مسائل کو چھوڑ کر اپنے پسند ومنتخب معاملات کو پیش کرتاہے ۔ واضح الفاظ میں یوں کہا جائے تو غلط نہ ہو گا کہ اُن شعراء وادباء میں اور آج کے میڈیا والوں میں کئی باتوں میں مماثلت پائی جاتی ہے۔جس طرح دو چور گائے چرا کر گائے کوایک جانب لے جاتاہے تو دوسرا اس کے گلے کی گھنٹی نکال کر ہلاتے ہوئے دوسری جانب لے جاتاہے گائوں والے اٹھ کر جدھر گھنٹی کی آواز آتی ہے اُدھر گائے تلاش کرنے لگتے ہیں۔ نتیجہ آپ کے سامنے ہے۔ بالکل اسی طرح ہمارے شعراء واجب مسائل کو موضوع بحث بنانے کے بجائے تفریحی سامان کا گرویدہ بناکے رکھ دیا ۔اورآج کے شعراء اُسی سامان تفریح کو متبرک مان کر سرمہ کی طرح آنکھوں سے لگائے ہوئے ہیںاور یہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم نے شاعری کا حق ادا کردیا ہے۔
شاعری، ڈرامے ، افسانے ، ناول ادب کے اکثرا صناف میں مرکزی خیال ونظر عورت ہی ہوتی ہے ۔ یہ مغربی طرزِ ادب اور طرزِ زندگی کی نمائندہ ہے جس کومشرق والوں نے خاص کر اردو شعراء وادباء نے اپنالیا ۔ یہ بات سچ ہے کہ ایک ادیب وشاعر میں جو ہمت وہ حوصلہ ہوتاہے وہ نہایت ہی اہم ہے کیونکہ بڑے سے بڑے طوفان سے ٹکرانے کی جرأت ایک ادیب وفنکار میں ہوتی ہے ۔ آئین جوانمردی کے اُصول یہی ہیں کہ شاعر وادیب بیباک اور حق گوہو تبھی وہ اپنے فن سے انصاف کرپائے گا۔ ورنہ بھرتی کافنکار ہوجائے گا جس کاسماج کو ہونا یا نہ ہونا دونوں برابر ہیں۔
ائے اہل نظرذوق نظر خوب ہے لیکن
جو شئے کی حقیقت کو نہ سمجھے وہ نظر کیا
قدیم شعراء نے گو کہ عورت کو محبوب مانا مگر یہ محبوب سراپا حسن اور پرستش کے قابل بنادیاچونکہ نوابوں اور بادشاہوں کادور تھا دل لگی کے اکثر مواقع مل جاتے اور یہ دل لگی اکثر وبیشتر عورت کے مقام مرتبہ پر بد نما داغ دے جاتی ، عورت کی پاکیزگی اور عصمت کا بے دردی سے پردہ چاک کیا ،عریانیت اور عیاشی کومعیار سخن قرار دیا ۔ عورت کو بے وفا ستم شعار قاتل کے روپ میں پیش کیا۔ حالی قدیم شاعری کے موضوعات سے اُکتا گئے بالکل صاف الفاظ میں واضح کردیا کہ’’ ہماری شاعری شعر وقصائد کا ناپاک دفتر بن کے رہ گئی ہے‘‘۔ایک حد تک مان بھی لے کہ آج کی طرح اُ س دور میں زندگی کے معاملات زیادہ الجھے ہوئے نہیں تھے ۔خوش حالی تھی ہندوستان سونے کی چڑیا تھی عیش وعشرت کے چراغ روشن تھے اس کا مطلب یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم سارا دھیان سارا وقت بے معنی چیزوں و باتوں پر لگا دیں ۔ جس طرح دور حاضر میں عرب ممالک کے اکثر وبیشتر امراء اور عوام عیش وعشرت کے نام پر حقیقی زندگی کو بھول گئے ہیں۔حق اور باطل میں امتیاز کرنے کی صلاحیتوں سے دور ہوئے ہیں۔ جس سے سماج وملک تعمیر کے بجائے تخریب کی جانب رواں دواں ہے۔احساس سنجیدگی نہ ہو تو معاملات ایسے ہی ہوتے ہیںجس کاخمیازہ دور حاضر کے ساتھ مستقبل کی نسلیں بھی ادا کریں گی۔فیضؔ کی یہ نظم حقائق کی ترجمانی کی بہترین مثال ہے۔
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
میں نے سمجھا تھا کہ تو ہے تو درخشاں ہے حیات
تیرا غم ہے تو غم دہر کا جھگڑا کیا ہے
تیری صورت سے ہے عالم میں بہاروں کو ثبات
یوں نہ تھا، میں فقط چاہا تھا یوں ہوجائے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
ان گنت صدیوں کے تاریک بہیمانہ طلسم
اب بھی دلکش ہے ترا حسن مگر کیا کیجیے
اور بھی دکھ ہیں زمانے میں محبت کے سوا
راحتیں اور بھی ہیں وصل کی راحت کے سوا
مجھ سے پہلی سی محبت مری محبوب نہ مانگ
اکثر وبیشتر شعراء نے شاعری کو تفنن طبع کی خاطر لکھا۔بادشاہوں نوابوں کے درباروں سے وابستگی نے جھوٹ ،مبالغہ اور بے معنی ومطالیب کو شاعری کا حصہ بنادیا ۔ صحیح معنی میں شاعری احساسات ،جذبات اور خیالات کی ترجمانی ہوتی ہے ۔ حالات کے تناظر میں تصور وتخیل کی گہرائی تجربہ ومشاہدہ کلام میں جدّت ،وزن اور وقار پیدا کردیتاہے۔ ذوق زبان اور ذوق ادب سے شاعری مسلسل رفعت وبلندی کی مینار نور سے روشن ہوتی جاتی ہے۔
آج کل مشاعروں میں شعراء کم گو ئیّے زیادہ نظر آتے ہیں۔ سامعین کاذوق بھی شعر پر کم سُر لے اور آواز پر زیادہ مرکوز ہوتاہے۔ حقیقی معنی میں جس کی آواز میں جادو ئی کیفیت ہو وہ آواز کو ترنم کے جھنکار سے پیش کردیتا ہے ۔ جس سے شعر میں لطافت کی چاشنی سامعین کو محظوظ کرتی چلی جاتی ہے۔ یہ جادو بیانی اور سحرانگیز پیشکش کا نمونہ ہو کر رہ جاتی ہے ۔ مذکورہ آواز اور ترنم سے بے تکاشاعر بھی ملک سخن کا بادشاہ بن جاتاہے۔ سامعین کا ذوقِ سلیم یہاں پوری طرح مات کھاجاتا ہے۔ جبکہ صحیح معنی میں یہ عارضی چیزیں ہیں حقیقت شعرمیں شعریت اور حالات کے تناظرمیں زندگی کے مسائل کا عکس ہونا ہے۔
اپنے من میں ڈوب کر پاجا سراغ زندگی
توا گر میرا نہیں بنتا نہ بن ،اپنا توبن
وہ کلام قابل قدر اور اعلیٰ مقام حاصل کرسکے جس میں زندگی کے مسائل کو فنکارانہ بصارت وبصیرت کے ساتھ پیش کیاجائے اور ساتھ ہی شاعر کی پہچان صرف گفتار سے نہ ہو ۔ بلکہ کردار سے بھی وہ میدان عمل کاشاہسوار ہو ۔ اپنی باتوں پر اپنے تفکرات پر خود عمل نہ کریں تو اُس کی شاعری ردّی کے ڈھیر کی مانند نظر آئے گی۔ اکثرو بیشتر شعرا ء جو کہتے ہیں یا لکھتے ہیںوہ اُن کی دماغی اُپچ ہوتاہے لیکن اُن کی باتیں صرف باتیں بن کررہ جاتی ہیں جب عمل کی بات آئے تو دوسروں کوچھوڑئے خود کے لکھے ہوئے باتوں پر عمل پیرائی نہیں ہوتی ۔شاعر یا تو دنیا کا واحد واعظ بن کر نصیحت کرتا ہے یا دنیا کاواحد پولیس والا بن کر ڈھنڈا لیکر ڈرانے لگتاہے۔ اس طرح اُس کی باتوں سے یا ڈرانے سے کوئی حاصل نہیں ہوگا۔ فرض کیجئے کہ کوئی مولانا لوگوں کو دن میںپانچ وقت کی نماز باجماعت پڑھنے کی تلقین کرتارہے اور خود اس پر عمل پیرا نہ ہو تو اُس کی باتوں پر کون اعتبار کرے گا۔شعراء کے کلام سے ایسا محسوس ہوتاہے کہ شرافت کے سارے جام خود پی لئے ہو اور دنیا کو شرافت کا درس دے رہے ہیں ۔ اب خود میں کتنی شرافت باقی ہے یہ دیکھنے والی بات ہے ۔ اس لئے شاعر اپنے اقوال کو عملی زندگی کا نمونہ بنا کر پیش کرے تو کچھ بات بنے گی ۔شاعر کی زبان الفاظ ،اندازاور موضوع ایسا ہو کہ سننے والے کے دل وجاں پر گہرا اثر کرجائے اور وہ میدان سخن کا غازی نظر آئے ۔
اکثر دیکھا گیا ہے کہ شاعر ا پنے آپ کو با وفا اور دنیا کو بے وفا ثابت کرنے کے لئے الفاظ ومعنی کے ڈھیر لگا دیتاہے یہ زبان وادب کے ساتھ سماج کے لئے ستم ضریفی نہیں تو اور کیا ہے۔ سستی شہرت کی تمنا وآرزو میں شاعری جیسے مقدس ومعتبر فن کو فرسودہ خیالات وبے تکے نظریات سے پسپائی کی جانب ڈھکیلا جارہاہے ۔ جس سے صحت مند شاعری کے خدوخال کو نقصان ہی نقصان ہو رہا ہے۔ اس کی منزلت ،عظمت، وافادیت پرگہرئی چوٹ لگ رہی ہے ۔
تخیل وتصور کی گہرائی ، خیالات کی پاکیزگی ، موضوع کاسنجیدہ پن ، زبان وبیان کی خوبصورتی ،الفاظ کا مناسب رکھ رکھائو، واجب تراکیب وترتیب، حسین اور دلکشی پیرائے اظہار ،تجربے اورمشاہدے کا نچوڑ نظراور نظر ئے کا عمدہ پن، نادر تشبیہات کااستعمال ، باریک بینی اور نازک خیالی کا وصف، روشن خیال ودل کا احساس ،جذبات کی صحیح عکاسی ، حقائق کی ترجمانی ، معاملات کی بے باکی ،فن شاعری سے الفت ولگائو، فنکارانہ بصارت ،بصیرت ِشعر فہمی ، مسلسل کوششوں اور کاوشوں کی سکت، تاریخ کا صحیح علم ، حالات حاضرہ کا مشاہدہ، فن شاعری کی باریکیوں کا علم ، ذوق تجسس، ذوق زبان وادب ،انسان اور سماج سے محبت ،تخلیقی ہنر ، تعمیری مقصد کسی بھی فنکار کو معراج کمال کادرجہ عطا کرتے ہیں۔
میں اور تم سے ترکِ محبت کی آرزو
دیوانہ کر دیا ہے غمِ روزگار نے
شاعری ایک فطری عمل ہے یہ ہر کس وناکس کاکام نہیں اور نہ ہی یہ زبر دستی کا سودا ہے ۔ غالب نے حالی سے متعلق بجا فرمایا تھاکہ’’ اگر تم شعر نہ کہو گے تواپنی طبیعت پر ظلم کرو گے‘‘ کیونکہ غالب نے حالی کی جذبۂ شاعری کے ذوق کو پہلے ہی پہچان لیا تھا اگر کوئی اپنے ذہن وفکر کو مجبور کرکے شاعر بننا چاہے تو خود پر ظلم کرے گا ہی ساتھ میں شعر وشاعری کی عظمت کو پامال کرتے ہوئے سخن کے گلستان میں غیر ضروری اور مرجھائے پھولوں کو رکھنے کی کوشش کرے گا جس سے اچھے پھول اور پودوں کو بھی نقصان اٹھانا پڑے گا۔ ضروری ہے کہ ایسے نام نہاد شعراء اپنے قلم پر زور دینے کے بجائے اپنے ذہن پر زور دیں، خاموشی اختیار کرتے ہوئے صحیح شاعری کے دریا کو پھیلنے کا موقع دیں تا کہ اس کے پانی کی گہرائیوں سے بیش قیمت موتی نکالے جائیں۔ضرورت اس بات کی ہے کہ گلستانِ سخن کو صاف رکھیں تاکہ اس کی مہک اور خوشبودار ہوائوں سے دنیا آباد رہے ۔
