آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسیشن کے شیموگہ ضلع شاخ کی آغاز؛ افتتاحی کارگاہ کامیاب

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر

علم اور اردو زبان کی بقاء کے لئے اجتماعی جدوجہد کی ضرورت: مفتی محمد علی قاضی
نجی اور غیر اردو اسکولوں میں اردو زبان پڑھانے کے لئے آگے آنا ہوگا: یم یل سی بلقیس بانو

شیموگہ:۔ آل انڈیا آئیڈل ٹیچرس اسوسیشن کی شیموگہ شاخ کے افتتاحی جلسے میں کرناٹکا اردو اکادمی کے ریاستی صدر مفتی محمدعلی قاضی نے علم اور اساتذہ کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ اسلام کی بنیاد علم پر ہے اور یہ کسی ایک طبقے تک محدود نہیں بلکہ مرد و عورت دونوں کے لیے یکساں ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ "آدمی بوڑھا ہوسکتا ہے، لیکن علم کبھی بوڑھا نہیں ہوتا۔” علم انسانی عقل کو مضبوط کرتا ہے اور دنیا کے نظام کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔اتوارکو شہرکے اخلاص انگلش اسکول میں منعقدہ افتتاحی تقریب میں انہوں نے مزید کہا کہ علم کے ساتھ حکمت اور سمجھداری بھی ضروری ہیں کیونکہ یہ تینوں عناصر آپس میں جڑے ہوئے ہیں۔ ایسے علم کی تعلیم دینی چاہیے جو تعمیر و ترقی کا باعث بنے، نہ کہ نقصان کا۔ استاد کی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ایک سچا استاد اپنے شاگردوں کی نہ صرف علمی بلکہ ذہنی اور اخلاقی تربیت بھی کرتا ہے۔ اس موقع پر مہمان خصوصی یم یل سی بلقیس بانو نے اپنی تقریراردو زبان کی بقاء پر تبصرہ کرتے ہوئے کہاکہ میں خود بھی معلمہ رہ چکی ہوں اور مجھے اچھی طرح سے معلوم ہے کہ اساتذہ کی ذمہ داری کیاہے ، اساتذہ اگر اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے ادا کرتے ہیں تو قوموں کا مستقبل روشن ہوگا۔ اردو زبان کو درپیش مسائل پر بات کرتے ہوئے کہا کہ پس پردہ ایسی سازشیں جاری ہیں جن کا مقصد اردو اسکولوں کو بند کرنا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اردو زبان کی بقاء اور ترقی کے لیے این جی اوز کو متحرک ہونا ہوگا۔ انہوں نے سوال کیا، جب ہر کوئی انگریزی کو ترجیح دے رہا ہے تو اردو کون پڑھائے گا؟۔بلقیس بانو نے تجویز دی کہ نجی اور غیر اردو اسکولوں میں اردو زبان کی تعلیم کا بندوبست کیا جائے۔ اساتذہ کو مہم چلا کر اردو کے فروغ کے لیے تیار ہونا چاہیے تاکہ یہ زبان اپنے ورثے کے ساتھ زندہ رہ سکے۔ علم اور اردو زبان دونوں ہی ہماری تہذیب اور ترقی کے ستون ہیں، اگر ہمیں ایک روشن مستقبل کی طرف بڑھنا ہے تو علم کے فروغ کے ساتھ اردو زبان کی حفاظت بھی ہماری ذمہ داری ہے۔اس موقع پر ایم ایل سی بلقیس بانو کو آئیٹا کے تعلقہ کنوینیر حبیبہ نصرت،ناظرہ سلمہ نےتہنیت پیش کی ۔ اس موقع پر صاحب وسائل کے طورپر شریک ہونے والے ماہر تعلیم و سنٹرل ایجوکیشن بورڈ نئی دہلی کے دائرکٹر سید تنویر احمدنےموجودہ حالات میں اساتذہ کا مقام، مرتبہ اور احساسِ ذمہ داری پر گفتگو کرتے ہوئے کہاکہ اساتذہ میں تین خوبیوں کا ہونا ضروری ہےجس میں گفتار،کردار اور دستارشامل ہیں۔مزید انہوں نےاین ای پی2020 اور اساتذہ کی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ استاد ایک مربی ہوتا ہے اور کئی حکمتِ کا تذکرہ کرتے ہوئے اساتذہ کو ذمہ داریوں کا احساس دلایا گیا۔آئیٹا کے قومی سکریٹری مختاراحمد کوتوال نے تعلیمی مقاصدکے حصول میں اساتذہ کا رول کے عنوان پر خطاب کیا۔جلسہ کی تمام نگرانی امیرجان اے این نے بخوبی انجام دی۔اسٹیج پر آئیٹا کے ریاستی صدر ایم رضا مانوی،سکریٹری یاسین بکبہ،ای سی او سید مستفیض الحسن ، ذاکر حسین ، اخلاص انگلش اسکول کے سکریٹری سید نورالحق، آئیٹا کے ضلعی جنرل سکریٹری عبد القدیر بیگ ، پروفیسر عائشہ بھارتی ،سیہادری کالج کے پرنسپل ڈاکٹر سید ثناء اللہ موجود تھے ۔ جلسے کاآغاز آئیٹا کے تعلقہ سکریٹری نعمان بیگ کی تلاوت قرآن مع ترجمے کے ساتھ ہوا، نعت شریف معلم بی ذوالفقار علی نے پیش کی ، جلسے کی صدارت اور صدارتی خطبہ آئیٹا کے ریاستی صدر رضامانوی نے کیا ۔ مہمانوںکااستقبال آئیٹا کے تعلقہ صدر مختار احمد کیا ۔تعارفی کلمات آئیٹا کے ضلعی صدر بشیر احمد نےپیش کیا، مہمانوں کا تعارف ادارے کے میڈیا سکریٹری یس کے عابد اور سی آر پی محبوب علی نے کیا ۔ نظامت کی ذمہ داری ادارے کے ڈائرکٹر عاصم اللہ شریف اور شاہین بانو نے انجام دی تھی۔ مہمانوں کا شکریہ آئیٹا کے تعلقہ نائب صدر امتیاز احمد ایچ نے اداکیا۔تعلقہ آئیٹا کے سید امیر جان،الطاف،الیاس شیخ،شاہیلہ انجم نے اس جلسے کو کامیاب بنوانے کیلئے بڑھ چڑھ کرحصہ لیا۔سال24-2023 کے ایس ایس ایل سی امتحان کے اردوزبان میں125 میں سے114 نمبرلینےوالےالحبیب انگلش اسکول کے طالب العلم دکشت کوآئیٹا کی جانب سے نقد انعام سےنوازاگیا،ساتھ ہی تعلقہ سطح پرسات تعلقہ جات کے ہر ایک طالب العلم کوایس ایس ایل سی میں نمایاں کامیابی حاصل کرنےوالے کو نقدرقم اور مومنٹو سے نوازاگیا۔