نئی تعلیمی پالیسی کے ذریعہ کنڑازبان کی بے عزتی برداشت نہیں کی جائیگی : کے سدالنگپا 

اسٹیٹ نیوز
چنگیری:۔تعلق کے سنتے بنور میں کنڑا ساہتیہ پریشد کنڑا پرچارک۔ کنڑاحمایتی تنظیموں کے اشتراک سے حکومت کے خلاف ” خطرے کی گھنٹی” اجلاس منعقد رہا جس میں مادری زبان کنڑا کو نئی تعلیمی پالیسی میں تین سالہ اعلیٰ تعلیم میں دو سال مشق اور تربیت کا جو موقع تھا اس کواب گریڈ کے نام پر چار سالہ ڈگری میں مشق اور تربیت کو موقع فراہم نا کرتے ہوئے مادری زبان پر شب خون مارنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ اس بارےمیں ماہرین تعلیم ۔ کنڑابورڈ ۔ کنڑاساہتیہ پریشد ۔ و دیگرحمایتی تنظیموں کے ساتھ اجلاس منعقد کرتے ہوئے تبادلہ خیال کے ذریعہ نظر ثانی کی ضرورت ہے حکومت کے سامنے ہماری طرف سے پرزرو گذارش ہے ۔  تاریخ کے ماہر محقق تاریخ سمیت یندر ناڈگ نے کہا صرف اسباق کی بحد تک تبدیلی نہیں ہوئی بلکہ کرناٹک تاریخ کو نکال کر بھارتی تاریخ میں تبدیلی کی جاچکی ہے اس سے ہم خود اپنی زبان کی حفاظت میں کمزور ثابت ہورہے ہیں ہم خود پاؤںپر کلہاڑی چلانے کی مصداق مشغول ہیں ہمیں احساس نہیں ہورہا کیا ہورہا ہے ۔ حکومت کو چاہئے کنڑا زبان کو دیگر زبانوں پر فوقیت دینی چاہئے ۔ وظیفہ یاب کنڑا مدرس عبدالواجد نے کہا کہ بینکوں و دیگر دفاتیر میں زبان جانتے ہوئے کنڑا زبان بات کرنے کترانے کا ماحو ل پایا جارہا ہے یہ حالت دیکھ کر ان دیکھی کنڑا زبان سے غداری کہ مترادف ہوگا ۔ ضلع کنوینر کنڑا ساہتیہ پریشد ۔ سابق ضلع وقف بورڈ نائب چیرمن ۔ تعلق ورکنگ جرنلسٹ اسو سیشن کے اعزازی صدر کے سراج احمد نے عرضداشت لیتے ہوئے کہا کہ ضلع کنڑا ساہتیہ پریشد ۔ ریاستی کنڑا بورڈ ۔ اور حکومت تک اس عرضداشت کو پہچانے کا کام کیا جائیگا ۔ اجلاس میں گانایوگی پریشدکے ریاستی جنرل سکریٹری یم بی ناگراج کاکنور ۔ کے یس ویریش پرساد ۔ یس جے کرن کمار ۔ یم ماروتی ۔ کے بی تپننا ۔ جی یس پرسنا گوڈرو ۔ ہیچ بی انجلی دیوی ۔ پاروتمہ ۔ بھوانی ۔ سنیتا ۔ راجمہ کے یل ۔ وشالاکشمہ جیوتی ۔ زینت انساء ۔ یاسمین وغیرہ شریک رہے۔