اک عجب کارگزاری شہرِ چتردرگہ کرناٹک کی!!!!

مضامین
از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349
حضرت انس ؓ راوی ہیں کہ سرکار دو عالم نے فرمایا۔ علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد و عورت پر فرض ہے اور نااہل کو علم سیکھانا ایسا ہی ہے جیسے کوئی آدمی سور کے گلے میں جواہرات، موتیوں اور سونے کا ہار ڈال دے۔ (ابن ماجہ) اور بیہقی نے اس روایت کو شعب الایمان میں لفظ مسلم تک نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ اس حدیث کا متن مشہور ہے اور اسناد ضعیف ہیں اور یہ حدیث مختلف طریقوں سے بیان کی گی ہے اور وہ سب ضعیف ہیں۔ (ابن ماجہ)
تشریح اس حدیث سے علم کی اہمیت و عظمت اور اس کی ضرورت واضح ہوتی ہے کہ ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے علم کا حاصل کرنا ضروری ہے، اس لئے کہ انسان جس مقصد کے لئے خلیفۃ اللہ بنا کر اس دنیا میں بھیجا گیا ہے وہ بغیر علم کے پورا نہیں ہوسکتا۔ انسان بغیر علم کے نہ اللہ کی ذات کو پہچانتا ہے اور نہ اسے اپنی حقیقت کا عرفان حاصل ہوتا ہے۔ جیسا کہ پہلے بھی بتایا گیا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم دین ہے جس کی ضرورت زندگی کے ہر دور اور ہر شعبہ میں پڑتی ہے، مثلاً جب آدمی مسلمان ہوتا ہے یا احساس و شعور کی منزل کو پہنچتا ہے تو اسے اس بات کی ضرورت ہوتی ہے کہ وہ اپنے پیدا کرنے والے کی ذات اور اس کی صفات کی معرفت حاصل کرے اور عرفان الہٰی کی مقدس روشنی سے قلب و دماغ کی ہر ظلمت و کجروی کو ختم کرے۔ اسی طرح رسول کی نبوت و رسالت کا جاننا یا ایسی چیزوں کا علم حاصل کرنا جن پر ایمان و اسلام کی بنیاد ہے اس کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ پھر جب عملی زندگی سے اسے واسطہ پڑتا ہے تو اسے ضرورت ہوتی ہے کہ اعمال کے احکام کا علم ہو۔ یعنی جب نماز کا وقت آئے گا تو اس پر نماز کے احکام و مسائل سیکھنا واجب ہوگا۔ جب رمضان آئے گا تو روزے کے احکام معلوم کرنا اس کے لئے ضروری ہوگا۔ اگر اللہ نے اسے مالی وسعت دی ہے اور صاحب نصاب ہے تو زکوٰۃ کے مسائل جاننا ضروری ہوگا۔ جب شادی کی تو بیوی کو گھر میں لایا تو حیض و نفاس کے مسائل طلاق وغیرہ اور ایسی چیزیں جن کا تعلق میاں بیوی کی باہمی زندگی اور ان کے تعلقات سے ہے ان کا علم حاصل کرنا واجب ہوگا۔ اسی طرح تجارت و زراعت اور خریدو فروحت کے احکام و مسائل سیکھنا بھی واجب ہوگا گویا زندگی کا کوئی شعبہ ہو خواہ اعتقادات ہوں یا عبادات، معاملات ہوں یا تعلقات، تمام چیزوں کی بصیرت حاصل کرنا اور ان کو جاننا سیکھنا اس پر فرض ہوگا، اگر وہ ایسا نہ کرے گا تو اس کی وجہ سے وہ ہر جگہ حدود شریعت سے تجاوز کرتا رہے گا اور دینی احکام و مسائل سے ناواقفیت کی بنا پر اس کا ہر فعل و عمل خلاف شریعت ہوگا جس کی وجہ سے وہ سخت گناہ گار ہوگا۔ بعض حضرات نے یہ بھی کہا ہے کہ یہاں علم سے مراد علم اخلاص اور آفات نفس کی معرفت ہے۔ یعنی ہر مسلمان مرد و عورت کے لئے ضروری ہے کہ وہ نفس کی تمام برائیوں مثلاً حسد، بغض، کینہ اور کدورت کو پہچانیں اور ان چیزوں کا علم حاصل کریں جو اعمال خیر کو فاسد کرتی ہیں۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ علم کی مقدس روشنی تو انہیں کے نصیب میں ہوتی ہے جو اس کے اہل ہوتے ہیں اور جن کی صلاحیت طبع کا میلان اس طرف ہوتا ہے نیز جس کی جتنی استعداد و صلاحیت ہوتی ہے اسے علم سے اتنا ہی حصہ ملتا ہے۔ لہٰذا علم سکھانے میں اس بات کا خیال بطور خاص رکھنا چاہئے کہ جس کی جتنی استعداد ہو اور وہ جس معیار کی صلاحیت رکھتا ہو اسی اعتبار سے اسے علم سکھایا جائے۔ یہ نہ ہونا چاہئے کہ کسی آدمی کی استعداد و صلاحیت تو انتہائی کم درجہ کی ہے مگر علم اسے انتہائی اعلیٰ وارفع سکھایا جا رہا ہو اسی طرح ہر علم کے سکھانے کا موقع و محل ہوتا ہے۔ جو علم جس موقع پر ضروری ہو اور جس علم کا جو محل ہو اس کے مطابق سکھایا جائے۔ مثلاً اگر کوئی آدمی عوام اور جہلاء کے سامنے یکبارگی تصوف کے اسرار و معانی اور اس کی باریکیاں بیان کرنے لگے تو انہیں اس سے فائدہ ہونا تو الگ رہا اور زیادہ گمراہ ہوجائیں گے  ۔
اقبال پر یہ اعتراض تجدید پسند حلقوں کی جانب سے اکثر کیا جاتا ہے کہ وہ عورت کو جدید معاشرہ میں اس کا صحیح مقام دینے کے حامی نہیں ہیں جبکہ انھوں نے اس باب میں تنگ نظری اور تعصب سے کام لیا ہے اور آزادی نسواں کی مخالفت کی ہے۔ یہ اعتراض وہ لوگ کرتے ہیں جو آزادی نسواں کے صرف مغربی تصور کو پیش نظر رکھتے ہیں اور اس معاشرتی مقام سے بے خبر ہیں جو اسلام نے عورت کو دیا ہے اقبال کے تمام نظریات کی بنیاد خالص اسلامی تعلیمات پر ہے اس ليے وہ عورت کے بارے میں وہی کچھ کہتے ہیں جس کی تعلیم اسلام نے دی ہے۔ چنانچہ اس سلسلہ میں اقبال کے خیالات کا جائزہ لینے سے پہلے آزادی نسواں کے مغربی تصور اور اسلامی تعلیمات کا مختصر تعارف ضروری ہے۔
اقبال عورت کے ليے تعلیم کو ضروری سمجھتے ہیں لیکن اس تعلیم کا نصاب ایسا ہونا چاہیے جو عورت کو اس کے فرائض اور اس کی صلاحیتوں سے آگاہ کرے اور اس کی بنیاد دین کے عالمگیر اُصولوں پر ہونی چاہیے۔ صرف دنیاوی تعلیم اور اسی قسم کی تعلیم جو عورت کو نام نہاد آزادی کی جانب راغت کرتی ہو۔ بھیانک نتائج کی حامل ہوگی۔
تہذیب فرنگی ہے اگر مرگ امومت
ہے حضرت انسان کے ليے اس کا ثمرموت
جس علم کی تاثیر سے زن ہوتی ہے نازن
کہتے ہیں اسی علم کو اربابِ نظر موت
بیگانہ رہے دیں سے اگر مدرسہ زن
ہے عشق و محبت کے ليے علم و ہنر موت
اقبال کے خیال میں اگر علم و ہنر کے میدان میں کوئی بڑا کارنامہ انجام دے سکے تو اس کا مرتبہ کم نہیں ہو جاتا۔ اس کے ليے یہ شرف ہی بہت بڑا ہے کہ زندگی کے ہر میدان میں کا رہائے نمایاں انجام دینے والے مشاہیر اس کی گود میں پروان چڑھتے ہیں اور دنیا کا کوئی انسان نہیں جو اس کا ممنونِ احسان نہ ہو۔
روزِ ازل سے اللہ تعالی نے عورت کو ایک اونچا مقام و مرتبہ عطا فرمایا ہے ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی صورت میں ان کے الگ الگ درجات متعین فرمائے ہیں  ۔ بقول شاعر
جہاں میں نسلِ آدم کے لیے احسان ہے عورت
سکونِ دل جگر کے واسطے درمان ہے عورت
قلم کی نوک سے جس نے کئی مصرعے سنوارے تھے
اُسی شاعر کی غزلوں کا حسیں دیوان ہے عورت
تری آمد سے مہکا ہے مرے گھر کا ہر اک کمرہ
سمجھنے میں ہوئی تاخیر کے لوبان ہے عورت
فقط ہونٹوں کی جنبش سے مسلسل گل برستے ہیں
ذرا تم غور سے دیکھو تو اک گلدان ہے عورت
اگر وہ عزم کر لے تو مکرتی ہی نہیں ہرگز
ستم رانوں کے جگ میں پیکرِ پیمان ہے عورت
وجودِ زن کو وہ عالمؔ بڑا مشکل سمجھتا ہے
اگر جذبات کو سمجھو بڑی آسان ہے عورت
آفتاب عالمؔ شاہ نوری
عام طور سے اگر دیکھا جائے تو مردوں کے لئے علمِ دین سکھانے کے معقول انتظامات ہر جگہ ہوتے ہی رہتے ہیں جیسے دینی مجالس،  درس قرآن، درس حدیث، اجتماعات وغیرہ کے عنوان سے مرد حضرات دین سیکھ لیتے ہیں مگر عورتوں کے باب میں اکثر مقامات پر کمی کوتاہی ہو رہی ہے بعض جگہوں پر کم تو بعض جگہوں پر زیادہ  ۔  ۔ ایسی ہی ایک عجیب و غریب کارگزاری شہرِ چتردرگہ کرناٹک سے ہے  ۔
چتردرگہ، جو کرناٹک میں ایک تاریخی شہر ہے، ایک طویل اور شاندار تاریخ رکھتا ہے۔ اسے مختلف ادوار میں مختلف ناموں سے پکارا گیا، جیسے "کلنکوٹے” اور "کلنگوڈ”۔ اس شہر پر کئی نامور راجاؤں اور سلطنتوں نے حکومت کی، جن کی وجہ سے یہاں کی تاریخ اور ثقافت میں تنوع پایا جاتا ہے۔
چتردرگہ قلعہ
چتردرگہ کی تاریخ کا سب سے اہم حصہ اس کا عظیم الشان قلعہ ہے۔ یہ قلعہ جنوبی کرناٹک کے سب سے بڑے اور اہم قلعوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے۔ اسے "سات پردوں کا قلعہ” بھی کہا جاتا ہے کیونکہ اس میں حفاظت کے سات پرت ہیں، جو اسے ناقابل تسخیر بناتے ہیں۔ یہ قلعہ 11ویں صدی میں تعمیر کیا گیا تھا اور بلند و بالا پہاڑوں پر ہونے کی وجہ سے دشمنوں کے لیے اس پر حملہ کرنا بہت مشکل تھا۔
حکمران:
چتردرگہ پر مختلف ادوار میں مختلف خاندانوں نے حکومت کی۔
 * ہویسل اور وجے نگر: 1336 عیسوی سے 1565 عیسوی تک ہویسل اور وجے نگر کی سلطنتوں نے یہاں حکومت کی۔
 * چتردرگہ نائک: وجے نگر کے بعد چتردرگہ نائک یہاں کے حکمران بنے، جنہوں نے قلعہ کو مزید مضبوط بنایا۔
 * حیدر علی اور ٹیپو سلطان: میسور کے حکمرانوں حیدر علی اور ان کے بیٹے ٹیپو سلطان نے اس قلعے کو فتح کیا۔ انہوں نے قلعے کو فتح کرنے کی کئی کوششیں کیں اور آخر کار کامیاب ہوئے۔
ثقافتی ورثہ:
چتردرگہ کے قلعے میں مختلف حکمرانوں نے اپنی یادگاریں چھوڑی ہیں۔ یہاں کئی تاریخی مندر اور مساجد موجود ہیں، جو اس شہر کی متنوع ثقافتی تاریخ کی عکاسی کرتے ہیں۔
یہ قلعہ آج بھی سیاحوں کو اپنی طرف متوجہ کرتا ہے اور اس کی تعمیر، نقش و نگار اور پہاڑی پس منظر اسے ایک دلکش تاریخی مقام بناتے ہیں۔
اتنے سارے خوبیوں سے بھرا یہ شہر مگر افسوس عورتوں کی دینی تعلیم سے کوسوں دور یہ صرف اسی شہر کا مسئلہ نہیں بلکہ ہر ملک کے ہر شہر گاؤں کا یہی معاملہ ہے  کہ عورتیں دینی تعلیم سے کوسوں دور ہیں  ۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے  ۔
باتوں سے بھی بدلی ہے کسی قوم کی تقدیر
 بجلی کے چمکنے سے اندھیرے نہیں جاتے
ہم سب لوگ مسئلہ کو جانتے ہیں اس کے حل کی فکر نہیں کرتے مگر شہرِ چتردرگہ کی معروف شخصحیت الامداد فاؤنڈیشن کے صدر ڈاکٹر نصر اللہ شریف( آئی ٹی)، ڈاکٹر صاحب کے اہلِ خانہ میں ان کی اہلیہ ، ہمشیرہ ، معلمات اور حضرت قاری شہاب الدین صاحب کے علاوہ ان کی مکمل ٹیم نے  اس چیز کو بھانپ لیا اس مسئلہ کو حل کرنے کی فکر کرنے لگے ڈاکٹر صاحب بڑے قابل مخلص اور دین دار انسان ہیں  ۔  ان کی فکر کی وجہ سے اللہ نے راستے کھولنے شروع کئے  ۔  ۔ بقولِ شاعر
سن لے اے دوست! جب ایام بھلے آتے ہیں
گھات ملنے کی وہ خود آپ ہی بتلاتے ہیں
ڈاکٹر صاحب نے اپنے شہر کے حالات وقت کے ایک بڑے اللہ والے حضرت مفتی عبدالحمید قاسمی نقشبندی دامت برکاتہم عالیہ ستارہ مہاراشٹرا کو سنائے ۔ جو ڈاکٹر صاحب کے شیخ بھی ہیں ،حضرت نے ڈاکٹر صاحب کی دعوت پر شہرِ چتدرگہ کا دورا کیا تو یہاں کے حالات ابتر پائے  ۔  خصوصی طور پر لڑکیوں دینی علوم سے نا آشنا ہونا، بڑی عمر کی خواتین میں دین سے دوری، حتیٰ کے چھوٹے چھوٹے پاکی نا پاکی کے مسائل کی لاعلمی کو دیکھ کر حضرت نے الامداد فاؤنڈیشن کے اشتراک سے ستمبر 2024 میں مدرسہ امداد البنات نامی ایک لڑکیوں کے مدرسے کی بنیاد ڈالی گئی ۔
حضرت مفتی عبدالحمید صاحب قاسمی نقشبندی ساتارا مہاراشٹر کے جید عالم دین صاحبِ نسبت بزرگ ہیں اور ساتھ ہی ساتھ خلیفہ ومجاز حضرت اقدس قطب الدین صاحب ملا بیلگام وخلیفہ مجاز حضرت مولانا محمد سالم صاحب رحمتہ اللہ علیہ دیوبند ۔ ۔
حضرت کی سرپرستی میں چلنے والے ادارے وخانقاہوں کی فہرست مندرجہ ذیل ہے ۔ ۔
(1) جامعہ حضرت عائشہ للبنات
آجرہ کولہا پور مہاراشٹر
(2)خانقاہ فیض صالحین آجرہ کولہاپور مہاراشٹر
(3) مدرسہ دارالعلوم جامعہ حسینیہ ساتارا مہاراشٹر
(4) مدرسہ دارالعلوم ناگٹھانہ ضلع ساتارا مہاراشٹر
(5) مدرسہ جامعہ دارارقم مڈرگی ضلع گدک کرناٹک
( 6) خانقاہ حضرت قطب الدین نیپانی ضلع بیلگام کرناٹک
(7) خانقاہ فیض صالحین دھارواڑ کرناٹک
(8 ) خانقاہ قطب الارشاد مدینہ مسجد گوکاک ضلع بیلگام کرناٹک
(9 ) خانقاہ حمیدیہ گاندھی نگر بیلگام کرناٹک
(10) خانقاہ فیض قطب جامع مسجد اتھنی ضلع بیلگام کرناٹک
(11)  مدرسہ دارالعلوم محمودیہ
 وخانقاہ فیض صالحین ساتارا مہاراشٹر
(12) مدرسہ جامعہ علوم القرآن ست پورہ کھیری سہارنپور یوپی
(13) مدرسہ دارالعلوم رفیقیہ وخانقاہ ہاشمیہ سیڑکی ضلع سہارنپور یوپی
(14) مدرسہ اشرف العلوم بنہٹی وخانقاہ مسجد عرفات ربکوی بنہٹی ضلع باگل کوٹ کرناٹک
(15 ) مدرسہ امداد البنات چترادرگہ کرناٹک
الامداد فاؤنڈیشن کا مقصد دینی اور دنیوی اور عصری تعلیم کا نظام اور رفاعی کام  ہیں۔ شروع  شروع میں قلیل تعداد میں بچیاں اور بڑی عمر کی خواتین نے مدرسہ میں داخلہ لیا،  مگر دھیرے دھیرے یہ تعداد بڑھتی گئی  ۔ اب اس مدرسے میں تقریبا 140 طالبات زیر تعلیم ہیں جن کی عمر تقریبا سات سال سے 80 سال تک کے درمیان ہے تقریبا 21 طالبات نے نورانی قاعدہ تجوید کے ساتھ مکمل کیا ہے جن کی عمر تقریبا 25 سال سے 80 سال کے درمیانی ہے  ۔ ان میں سے اکثر وہ بڑی عمر کی خواتین تھیں جن کو کلمہ تک پڑھنا نہیں آتا تھا  ۔  بہت ساری طالبات ایسی تھیں جنہیں اسلام کے اعتبار سے تعلیم و تربیت اور سنت فرض احادیث اور نماز کے متعلق بھی معلومات نہیں تھی  ۔ یہ مدرسہ بغیر کسی فیس کے اہلِ خیر حضرات کی جانب سے چلتا ہے ۔ ۔ اس نظام میں پچھلے 10 ماہ میں جو بھی طالبات زیر تعلیم ہیں اسی چیز کو مدنظر رکھتے شعبہ نورانی قاعدہ مکمل کرنے پر 11 جولائی 2025 چتردرگہ میں حضرت مفتی عبدالحمید کی رہبری میں سالانہ انعامی جلسہ منعقد کیا گیا ہے جس میں حضرت مولانا قاری رشید احمد اجمیری دامت برکاتہم العالیہ، حضرت مولانا اکبر شریف صاحب ندوی دامت برکاتہم العالیہ ، حضرت قاری شہاب الدین صاحب اور حضرت سید وسیم نقشبندی دامت برکاتہم العالیہ مدرسے میں مہمانِ خصوصی کے اعتبار سے مدعو رہے اور شہر کی کثیر آبادی نے ان حضرات کے بیانات سے فیض حاصل کیا ۔ مدرسہ امداد البنات کی طالبات اور ان کے اہل خانہ نے بھی حضرت کی باتوں سے فیض حاصل کیا  ۔  ہمیں چاہیے کہ شہر چتردرگہ کے احباب کی طرح ہم بھی اپنے اپنے علاقوں میں اس طرح سے بڑی عمر کی خواتین بچیوں کے لیے مکتب کا انتظام کریں  ۔ تاکہ ہماری آنے والی نسلوں میں دین زندہ رہے  ۔ عورتوں کی دینی تعلیم کا معاملہ بڑا ہی حساس ہے لہذا اس معاملہ میں جتنی جلدی ، فکر اور کوشش کی جائے گی اتنا ہی امت کے لئے بہتر ہے ۔