از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349

تاریخ ایک ایسا مضمون ہے جس کہ ذریعہ انسان ماضی کے آئینے میں جھانک کر حال کو سنوار سکتا ہے ۔ جن کو تاریخ سے دلچسپی ہوتی ہے، وہ اپنے گھر کے بڑے بزرگوں سے اپنے آبا و اجداد کے قصے ،طور طریقے ،ان کا انداز ِ زندگی ، ان کا رہن سہن ،موسم ، کھیت کھلیان ، تہذیب و تمدن کے واقعات کو دلچسپی سے سنتے ہیں ۔
تاریخ اور شرافتِ نسبی : تاریخ میں چونکہ اچھے آدمیوں کی خوبیاں اور برے لوگوں کی برائیاں لکھی جاتی ہیں لہذا کسی رذیل یا کمینہ خاندان والے کو علم تاریخ سے بہت ہی کم محبت ہو سکتی ہے شریف قوموں کا اپنے آبا و اجداد کے کارہائے نمایاں یاد ہوتے ہیں جن کی پیروی کو اپنی شرافت قائم رکھنے کے لیے ضروری سمجھتے ہیں رزیل قوم میں امتداد زمانہ کے سبب اپنے بزرگوں کے بزرگ کاموں کو بھی بھول جاتی ہیں ۔ کسی خاندان یا قوم کو جس کے باپ دادا نے خدا پرستی جونمردی علم و ہنر جاہ و حشمت وغیرہ میں خصوصی امتیاز حاصل کیا ہو اور وہ اس کو بالکل فراموش کر چکے ہوں تو ان کو بزرگوں کے بڑے بڑے کارنامے بار بار یاد دلا کر عزم و ہمت اور غیرت و حمیت ان میں پیدا کر سکتے ہیں مگر رزیل قوموں کے اندر یہ کام نہیں ہو سکتا ، یہی سبب ہے کہ علمِ تاریخ کا شوق رکھنے والے اکثر شریف القوم ، عالی نسب ، بزرگ زادے اور نیک آدمی ہوتے ہیں ۔ کوئی کمینہ خاندان کا آدمی یا خدائے تعالی کا منکر یعنی دہریہ یا کوئی بزدلی میں شہرت رکھنے والا دنیا میں اعلیٰ درجے کا مورخ اور تاریخ کا امام نہیں گزرا ۔ ( تاریخ ِ اسلام جلد اول مولانا اکبر شاہ نجیب آبادی )
حضرت عمر بن خطابؓ فرماتے ہیں کہ نسب نامہ سیکھو عراق کے نبطہ کی طرح نہ بن جاوُ کہ جب اس میں سے کسی سے پوچھا جائے کہ تم کس خاندان سے ہو جواب دیتے ہیں کہ ہم فلاں شہر سے ہیں ۔ ( ارض القرآن جلد نمبر ٢ سید سلیمان ندوی )
میراثی ہندوستان کی ایک مشہور قوم ہے جو غیر منقسم ہندوستان اور بعد از تقسیم ہند و پاک میں جابجا آباد ہے۔ میراثی قوم پیشہ ورانہ طور پر انساب کی ماہر، ڈوم اور رقاص ہوتی ہے۔ اس قوم کے افراد اپنے اہل تعلق کے خاندانوں کے شجرہ ہائے نسب یاد کرنے اور یاد رکھنے میں ید طولیٰ رکھتے ہیں، چنانچہ برصغیر میں کسی خاندان کا نسب معلوم کرنا ہو تو ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں، نیز شادی بیاہ کی تقریبات اور ناچ رنگ کی محفلوں میں بھی انہیں بلایا جاتا ہے جہاں یہ اپنے فن نغمہ سرائی کا مظاہرہ کرتے ہیں۔ لفظ "میراثی” اردو لفظ میراث سے مشتق ہے جس کے معنی وراثت کے ہیں ۔ کنڑا زبان میں اسے ہیڑوا کہا جاتا ہے ۔ ۔ حوالہ ویکی پیڈیا
کروشی پٹیل برادری کے اس بوڑھے میراثی کی عمر تقریبا 82 برس ہے ہر سال نومبر سے ڈسمبر کے مہینے عین فصلوں کی کٹائی کے وقت یہ گاؤں آتا ہے ۔ اگر گھر میں کسی بچے کی پیدائش ہوئی ہو تو اس کے نام کا اندراج اپنی مخصوص ڈائری میں کرتا ہے اور اول تا آخر ہمارا مکمل نسب سناتا ہے ۔ اس طرح ہمارے آبا و اجداد کی یاد ہمارے ذہنوں میں پھر سے تازہ کر کے کھیتوں میں فصل کی صورت میں جو موجود ہو وہ اناج اور رقم لیتا ہے ۔ زمانہ قدیم سے ان کا ایک اور کام یہ بھی رہا ہے کہ الگ الگ گاؤں کے پٹیل برادری کی آپسی رشتے کروانا ۔ اس طرح تقریبا 50 سے زائد گاؤں کے پٹیل ، دیسائی اور انعامدار کے علاوہ دیگر برادری کے درمیان یہ میراثی برادری ایک پُل کا کام کرتی آ رہی ہے ۔ ۔ ۔ اس بوڑھے کی 18 پشت ہے جو اس کام کو کر رہی ہے ۔ ۔ یہ لوگ بنجاروں کی طرح زندگی بسر کرتے ہیں ۔ ان کی پوری برادری ریاست کے الگ الگ علاقوں میں بنجاروں کی طرح زندگی بسر کرتی ہے ۔
میراثیوں کے کچھ خاندان ہندوؤں میں نچلی ذات سے تعلق رکھتے تھے، پھر وہ مسلمان ہو گئے۔ جبکہ کچھ خاندانوں کا دعویٰ ہے کہ اصلاً وہ ہندوؤں کی چارن برادری سے تھے۔ تیرہویں صدی عیسوی میں ان خاندانوں نے اس وقت کے مشہور صوفی شاعر امیر خسرو کے ہاتھوں پر اسلام قبول کیا۔ شمالی ہندوستان کے میراثی پانچ ذیلی گروپوں میں منقسم ہیں: ابل، پوسلا، بیت کٹو اور کالیٹ۔ان کے رسم و رواج انساب کی ماہر ایک دوسری برادری مسلمان رائے بھٹ سے خاصے ملتے جلتے ہیں۔ میراثی قوم ہی کی ایک برادری پنواڑیا کہلاتی ہے جو اصلاً داستان گو تھی لیکن انھیں گویوں اور بھانڈ کی حیثیث سے بھی یاد کیا جاتا تھا۔
نغمہ سرائی کے دوران میں میراثی قوم پکھواج کا استعمال کرتی ہے، اس بنا پر ان کو پکھواجی بھی کہا جاتا ہے۔ یہ قوم اپنے متعلقین کے انساب کو حفظ کرنے اور انھیں سینہ بسینہ منتقل کرنے میں خاص امتیاز رکھتی ہے۔ اسی بنا پر شادی بیاہ کے معاملات میں ان سے خاص مدد لی جاتی ہے۔ ماہر انساب کی حیثیت سے میراثی قوم "نسب خواں” کے لقب سے بھی معروف ہے۔اس قوم کے افراد شمالی ہندوستان میں ہر جگہ آباد ہیں۔ روایتی طور پر وہ شادی بیاہ کی تقریبات وغیرہ میں لوک گیت گاتے ہیں۔ اس قوم کی کچھ برادریاں کاغذی پھول کی صنعت سے بھی وابستہ ہیں۔ پنجاب کے دیہی علاقوں میں ان کی خوب پزیرائی ہوتی ہے اس لیے وہاں ان کی کثیر آبادی ہے۔ تاہم کچھ برسوں سے بہت سے میراثی پنجاب سے ہجرت کرکے راجستھان، بہار، گجرات، ہریانہ اور مغربی اترپردیش میں جا بسے ہیں۔ویکی پیڈیا
اگر کوئی اپنے خاندانی حالات اپنے آبا و اجداد کے نام جاننا چاہتا ہے تو ان خانہ بدوش لوگوں سح جان سکتا ہے ان کا لباس سادہ ہوتا ہے کندھوں پر جامنی رنگ کی چادر اور اسی میں لوگوں کے آبا و اجداد کی فہرست ہوتی ہے ۔ ۔ اگر کسی موقع پر یہ لوگ آپ کو نظر آئیں تو ضرور ان سے بات کریں اور اپنی معلومات حاصل کر لیں ۔
