ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے۔ایچ،
جامعہ کوویمپو، شعبہ اردومطالعہ و تحقیق، سہیادری کالج کیمپس، شیموگہ۔9945304797

مہاراجہ سر کشن پرشاد شادؔ 25 فروری 1864ء کو چند و لال دیوڑھی، حیدرآباد میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک علمی، ادبی اور سیاسی شخصیت تھے۔ آصف جاہی دور میں وزیرِاعظم کے منصب پر فائز رہے۔ اردو اور فارسی کے معروف شاعر تھے اور شادؔ تخلص کرتے تھے۔ان کا تعلق کھتری خاندان سے تھا جس نے مغلیہ دور میں راجہ ٹوڈرمل اور آصف جاہی دور میں مہاراجہ چندولال جیسی عظیم شخصیات کو جنم دیا۔ چندولال اُن کے جدِّ اعلیٰ تھے۔ ابتدائی نام پرشوتم داس رکھا گیا، لیکن نانا مہاراجہ نریندر پرشاد نے کشن پرشاد کہہ کر پکارا اور یہی نام مشہور ہوا۔
کشن پرشاد نے داغ دہلوی سے اصلاح لی اور انہیں حیدرآباد بلا کر اعزازات سے نوازا۔ ان کے ادبی رسالے محبوب الکلام کا آغاز آصفؔ (محبوب علی خان) کی غزل سے ہوتا تھا۔ وہ ہندو مسلم یکجہتی کے حامی اور محبوب علی خان کے سچے عقیدت مند تھے۔دیوالی کی روشنی کو انہوں نے غفران مکاں کی وفات کے بعد ہمیشہ کے لیے موقوف کر دیا۔1889ء میں نانا کی وفات پر انہیں بھاری جائداد ورثے میں ملی۔ وہ صدرالمہام فوج، وزیرِفوج اور وزیرِاعظم جیسے اہم عہدوں پر فائز رہے۔9 مئی 1940ء کو ان کا انتقال ہوا۔
مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ: ایک صاحبِ ذوق اور ادبی شخصیت
مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ ایک غیر معمولی ادبی ذوق کے حامل اور فیاض طبیعت کے شخص تھے۔ ان کی سرپرستی میں کئی نامور ادیب و شاعر پروان چڑھے۔ مولانا حالیؔ نے انہیں مسدس سنائی، شبلیؔ نے شعر العجم کا تحفہ پیش کیا، علامہ اقبالؔ نے اسرارِ خودی و رموزِ بے خودی سمجھائے، اور اکبرؔ الہ آبادی نے حکیمانہ اشعار سنائے۔ شاعر قزلباشؔ، رشید، عروجؔ، اختؔر مینائی، دلو رام کوثری، علامہ نظم طباطبائی، جلیل مانک پوری، پنڈت رتن ناتھ سرشار جیسے اہلِ قلم ان کے احسان مند تھے۔
شعر و ادب میں مہاراجہ کا مقام بلند ہے۔ انہوں نے حمد، نعت، منقبت، قطعات اور بالخصوص مرثیے میں نمایاں کام کیا۔ واقعۂ کربلا پر ان کی تین اہم تصانیف دینِ حسینؑ، نوحۂ شادؔ اور ماتمِ حسینؑ ہیں۔ ماتمِ حسینؑ میں حضرت مسلم بن عقیلکے احوال کو منظوم انداز میں بیان کیا گیا ہے، جو ان کے عمیق مطالعے اور عقیدت کا مظہر ہے۔ ان کا مشہورشعر
پہلے مسلم کو کیا قتل مسلمانوں نے
ہائے کیا ظلم کیا بے سروسامانوں نے
مہاراجہ کا طرزِ زندگی صوفیانہ تھا۔ ہندو ہوتے ہوئے بھی انہوں نے اسلام اور دیگر مذاہب سے گہرا ربط رکھا۔ مندروں میں قشقہ لگاتے، مسجدوں میں نماز پڑھتے اور مجالس عزا میں اشک بہاتے تھے۔ ان کے کلام میں مذہبی رواداری کی جھلک ملتی ہے:
؎میں ہوں ہندو، میں ہوں مسلماں، ہر مذہب ہے میرا ایماں
شاد کا مذہب شاد ہی جانے، آزادی آزاد ہی جانے
انہوں نے اپنے بیٹے راجہ راجن کمار عرف راجہ خواجہ پرشاد کو جانشین مقرر کیا۔ اپنی وصیت میں وہ لکھتے ہیں:
"میں سر کشن پرشاد… میرا اعتقاد ہے کہ کوئی معبود سوائے اللہ کے نہیں۔”
سالار جنگ میوزیم حیدرآباد میں ان کی 74 کے قریب کتب محفوظ ہیں (بحوالہ: مولوی محمد عبداللہ قریشی)۔
مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ نہ صرف ایک بلند پایہ شاعر تھے بلکہ ایک وسیع النظر، روادار اور صاحبِ مطالعہ شخصیت بھی تھے جن کا ادبی و ثقافتی اثر آج بھی محسوس کیا جاتا ہے۔
ہوں قوم کا سپاہی، رہوں گا سپاہی میں
توحید میرا دین ہے، دوں گا گواہی میں
صوفی ہوں اور عارفِ ذاتِ الٰہی میں
اور ہوں طریقِ عشق میں، اے شادؔ! راہی میں
جیسا کہ اعتقاد مجھے انبیاء سے ہے
ویسا ہی اعتقاد مجھے اولیاء سے ہے
اس اعتقادی اظہار کے بعد وہ اکثر ایک پُراثر دعا کیا کرتے تھے:
اپنے خدا سے دل سے دعا مانگ تو یہ، شادؔ
بہرِ حسینؑ و شیرِ خدا دل کی دے مراد
کر ذوالفقارِ قہر سے اعدا کا انسداد
اولادِ شادؔ شاد رہے، عمر ہو دراز
ایمان پر ہو خاتمہ، دنیا میں آبرو
دل میں ہو عشق تیرا، رہے تیری آرزو
ایمان اور عشقِ اہلِ بیت کی یہ آرزو مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ کے روحانی رجحان کی غمازی کرتی ہے۔ وہ زندگی کے آخری ایام میں کس حال میں تھے، یہ تو صرف وہی رب جانتا ہے جو سمیع و بصیر ہے، مگر یہ حقیقت ہے کہ ذکرِ امامِ مظلومؑ کا صلہ ہر مخلص ذاکر کو ضرور ملتا ہے۔
مہاراجہ شادؔ نے حضرت امام حسینؑ کی عظمت، صبر اور حوصلے کی تعریف میں اپنے آخری صفحات پر کچھ بلیغ جملے تحریر کیے:
"حسینؑ پر فدا ہو، حسینؑ کے نام پر جاں نثار کرو۔ دشتِ کربلا کی خاک کو خاکِ شفا جانو، آنکھوں کا سرمہ بناؤ، سعادت کے چہرے کو روشن کرو۔ ناروا کوششوں سے باز آؤ، آپس کی کدورتوں میں آگ لگا کر اسے خاک میں ملاؤ۔ حسینؑ کا نام جپو،حسینؑ کا حکم پڑھو۔”
شادؔ امام حسینؓ اور اہلِ بیتؓ سے گہری عقیدت رکھتے تھے۔ انہوں نے کئی مراثی اور نوحے نظم کیے جن میں امام حسینؓ کے کردار، بلند حوصلگی اور قربانی کو مؤثر انداز میں بیان کیا ہے۔ ان کا مرثیہ "ماتم حسینؓ”ان کے فنی کمال کی مثال ہے، جو مسدس میں تحریر کیا گیا ہے۔ اس مرثیے میں جذبات نگاری، منظر کشی اور کردار نگاری میں الفاظ کا برجستہ اور بامعنی استعمال ملتا ہے۔
شادؔ کے اشعار میں امام حسینؓ کی شہادت، حضرت مسلمؓ اور ان کے بچوں کا واقعہ، حضرت سکینہؓ کی پیاس اور حضرت عباسؓ کی جرأت مندانہ کوششوں کو سادہ لیکن پُراثر انداز میں بیان کیا گیا ہے:
؎ حق کو دیا نہ ہاتھ سے، سر اپنا دے دیا
راہِ خدا میں جان کو اپنی فدا کیا
؎ پیاس ایسی تھی کہ بچوں کا بہت غیر تھا حال
گھر میں سلطانِ دو عالم کے یہ پانی کا تھا کال
؎ موزے پہنے ہوئے، چھاتی پہ چڑھا شمر لعین
تیر پیوست ہوئے، کانپ گیا عرشِ بریں
مرثیے "ماتم حسینؓ”میں کل 91 بند ہیں (کتاب میں غلطی سے 92 درج ہیں)۔ اس میں مدینہ سے روانگی، کربلا پہنچنے، حضرت مسلمؓ کی شہادت کی خبر، پانی کی بندش اور آخر میں امام حسینؓ کی شہادت تک کے واقعات مکمل جزئیات کے ساتھ بیان کیے گئے ہیں۔
شادؔ تصوف، مشترکہ تہذیب اور ہندو مسلم اتحاد کے علمبردار تھے۔ ان کے مراثی ہندوستانی سماج اور رسوم کے تناظر میں لکھے گئے ہیں، جو ان کی وسیع فکر اور فن پر مکمل عبور کا مظہر ہیں۔
مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ کی علمی و ادبی سرگرمیاں آصف جاہی دور کے ساتھ ہی کم ہو گئیں، تاہم آخری عمر تک وہ رسائل و جرائد کی ترتیب و تدوین میں مصروف رہے۔ ان کے انتقال کے بعد مجلہ عثمانیہ نے ایک "شاد نمبر” شائع کیا اور ان کی سوانح حیات مہدی نواز جنگ کی نگرانی میں مرتب ہوئی، لیکن ان کی علمی خدمات پر خاطر خواہ توجہ نہ دی گئی۔
شادؔ اردو و فارسی کے بلند پایہ شاعر اور عمدہ نثر نگار تھے۔ ان کی مشہور تصانیف میں باغ شادؔ، نسیم سحر، نغمہ شادؔ، شگوفۂ بہار، رباعیات شادؔ، خدمات شادؔ، نور چشم اور ماتم حسینؑ (منظوم) شامل ہیں۔ انھیں تصوف، موسیقی اور رعایا پروری سے خاص لگاؤ تھا۔ ان کی دیوڑھی تہذیب، وقار اور رواداری کی مثال تھی جہاں تمام مذاہب کے لوگ عزت پاتے۔ ہر ماہ حضرت خواجہ اجمیریؒ کی فاتحہ اور قوالی کا اہتمام ہوتا۔ وہ مذہبی رواداری کے قائل اور ہر درگاہ و مندر میں حاضری دینے والے انسان دوست تھے۔
شادؔ نہ صرف ایک کامیاب منتظم اور وزیر اعظم ریاست حیدرآباد تھے بلکہ انسانیت کے علمبردار بھی تھے۔ وہ ہر مذہب کا احترام کرتے، نفرت سے گریزاں رہتے اور اپنی اولاد کو بھی یہی تعلیم دیتے۔ ان کا ماننا تھا کہ ملک کی خدمت اہلیت، دیانت اور خلوص سے ہونی چاہیے، ذات و نسل کی بنیاد پر نہیں۔ ان کا ایک شعر ان کے وسیع نظریے کا آئینہ دار ہے:
؎میں آئینہ ہوں، نظر مجھ سے جو ملاتا ہے
وہ جیسا آپ ہے ویسا ہی مجھ کو پاتا ہے
شادؔ نے نہ صرف قومی رہنماؤں جیسے سر اقبالؔ، مولانا محمد علی جوہر اور گاندھی جی سے تعلقات قائم رکھے بلکہ وہ سوت کاتنے جیسی گاندھیائی روایت میں بھی شریک ہوئے۔ ان کی سیاست سے بڑھ کر ان کی انسان دوستی اور مذہبی ہم آہنگی اہم ہے۔
وہ بہت فیاض تھے، سواری میں سکہ و اشرفیاں ساتھ رکھتے اور ضرورت مندوں میں بانٹتے۔ انھوں نے میر پنجاب نامی سفرنامہ بھی لکھا، جو 1923 میں شائع ہوا۔ وہ اردو، فارسی، عربی، سنسکرت، انگریزی اور جنوبی ہند کی مختلف زبانوں پر عبور رکھتے تھے، حتیٰ کہ یورپی زبانوں سے بھی واقف تھے۔ علم نجوم اور رمل کے ماہر بھی تھے۔
شادؔ نے ہندو اور مسلم دونوں مذاہب کی خواتین سے شادیاں کیں اور ان کی اولاد میں دونوں مذاہب کے لوگ شامل
ہیں۔ اس سے ان کی سیکولر سوچ اور وسیع القلبی کا اندازہ ہوتا ہے۔
ان کی نثری کتابوں کی تعداد تقریباً 70 ہے جن میں سے بعض نایاب ہو چکی ہیں۔ ان کی معروف تصانیف میں پریم درپن، نذر عقیدت، پیمانۂ عقیدت اور ہندو مسلم اتحاد شامل ہیں۔ انھوں نے دیوان حسن سحری کی اشاعت سے فارسی ادب کی بھی خدمت کی۔ وہ ادب کے خادم، اہل قلم کے قدر دان اور سچے معنوں میں ایک ہمہ گیر شخصیت تھے۔
شاؔد کو تاریخ میں ایک باوقار مہمان نواز شخصیت کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔ انہیں مہاراجہ بیکانیر، دھولپور، نواب خیرپور، نواب لوہارو، سر مرزا اسماعیل، سرتیج بہادر سپرو، ڈاکٹر انصاری، مولوی باسط حسن، پنڈت دین دیال اور سر رابندر ناتھ ٹیگور جیسی اہم شخصیات کی میزبانی کا شرف حاصل ہوا۔ شعراء میں وہ علامہ اقبال سے گہری عقیدت رکھتے تھے، جس کا اظہار ان کے خطوط سے ہوتا ہے۔
حضرت خواجہ حسن نظامی اور حضرت کلیسی شاہ شاد کے ہاں تشریف لاتے رہتے تھے۔ پنڈت جگت پرشاد کو مہینوں بارہ دری میں قیام کی سہولت فراہم کی۔ شاد کو اسلامی تہذیب، شریعت اور اولیاء کرام سے قلبی لگاؤ تھا، جس کا عکس ان کی تحریروں اور تصنیف روزنامچہ گلبرگہ میں ملتا ہے۔
شاعری کے میدان میں شادؔ نے غزل، حمد، نعت، منقبت، قصائد، رباعیات اور قطعات میں روحانی جذبات کے ساتھ اظہار خیال کیا۔ ان کی رباعیات کی تعداد تقریباً 425 ہے، جن میں توحید، تصوف، عزائے امام حسینؑ، تاسف بر زندگاں جیسے موضوعات شامل ہیں۔ کئی قطعات ریاستی حالات و واقعات اور شاہ دکن کی سرگرمیوں سے متعلق ہیں۔
ان کی تخلیقات رسالہ زمانہ(1903–1948) میں تواتر سے شائع ہوتی رہیں۔ مدیر دیا نرائن نگم ان کے مداح تھے اور ان کی ہر نگارش کو شامل اشاعت کرتے تھے۔ شادؔ نے شخصی مرثیے بھی کہے، جیسے نظم طباطبائی کی وفات پر تعزیتی نظم جس میں سوز و گداز نمایاں ہے:
تیغِ الم سے آج مرا دل فگار ہے
خونِ جگر سے دیدۂ دل اشکبار ہے
واحسرٰی کہ نظمِ جہاں سے گزر گئے
حکمِ خدا سے سوئے قضا و قدر گئے
ان کا علمی و ادبی سرمایہ متنوع ہے، اگرچہ اس میں کوئی منظم پیغام نہیں ملتا، جس کی وجہ ان کی انتظامی مصروفیات ہو سکتی ہیں۔ اس کے باوجود ان کی نگارشات اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہیں۔
شادؔ ریاست حیدرآباد کا وہ درخشندہ کوہِ نور ہیں، جس کی تابناکی آئندہ نسلوں کو بھی روشن کرتی رہے گی۔ وہ 9 مئی 1940ء کو انتقال کر گئے۔ ان کی سمادھی مہاراجہ چندولال اور مہاراجہ نریندر پرشاد کے درمیانی حصے میں ندی کے کنارے واقع ہے۔ ان کے انتقال پر ریاست بھر میں سوگ منایا گیا۔
مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ ایک اعلیٰ پایہ کے شاعر، علم دوست منتظم، مہمان نواز اور روحانیت سے وابستہ شخصیت تھے۔ وہ نہ صرف اعلیٰ طبقہ کی ممتاز شخصیات کے میزبان رہے بلکہ علمی و ادبی دنیا میں بھی ان کا ایک نمایاں مقام تھا۔ انہیں اسلامی تہذیب، شریعت، صوفیاء کرام اور اولیائے دین سے گہری عقیدت تھی، جس کا اظہار ان کی تحریروں، رباعیات اور قصائد میں ہوتا ہے۔
انہوں نے غزل، حمد، نعت، مرثیہ، منقبت، رباعی اور قطعات کے ذریعے روحانی اور فکری جذبات کی ترجمانی کی۔ ان کا تخلیقی سرمایہ زیادہ تر رسالہ زمانہ میں شائع ہوا۔ ان کی شاعری میں اقبالؔ سے قلبی وابستگی اور کربلائی مرثیوں میں سوز و گداز نمایاں ہے۔ ان کی شخصی مرثیہ نگاری، خاص طور پر نظم طباطبائی کی وفات پر لکھی نظم، ان کے فکری و جذباتی حسنِ اظہار کی عمدہ مثال ہے۔
انتظامی مصروفیات کے باعث اگرچہ ان کی تحریروں میں کسی منظم پیغام کی کمی محسوس ہوتی ہے، لیکن ان کا شعری و نثری سرمایہ اردو ادب کا قیمتی اثاثہ ہے، جسے آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔مہاراجہ کشن پرشاد شادؔ اردو ادب، سیاست، روحانیت اور تہذیب کے حسین امتزاج کا نام ہے۔ ان کا فکری ورثہ، شاعری اور ادبی خدمات آج بھی رہنمائی کا ذریعہ ہیں۔ ان کی شخصیت مذہبی رواداری، انسان دوستی اور فن پرستی کی درخشاں مثال ہے۔ ان کا ادبی و روحانی سرمایہ آئندہ نسلوں کے لیے باعثِ فخر اور قابلِ مطالعہ ہے۔
