از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملّا۔ہبلی۔9902672038

آج دنیا میں 55 سے زائد مسلم ممالک موجود ہیں جن کے پاس بے پناہ مادی وسائل، قدرتی ذخائر، تیل، گیس اور انسانی سرمایہ موجود ہے۔ تعلیمی ادارے، مساجد، اور دینی مدارس کی کثرت ہے۔ ٹیلی ویژن چینلز پر دینی پروگرام، اذکار، قرآن فہمی، اور سیرت النبی ﷺ جیسے موضوعات پر علمی گفتگو ہو رہی ہے۔ حج و عمرہ کی ادائیگی میں بھی اضافہ ہوا ہے اور شعائرِ اسلامی کی ادائیگی میں بظاہر بیداری نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود اُمت مسلمہ دنیا میں سیاسی، معاشی، سائنسی اور سماجی میدانوں میں پستی اور زوال کا شکار ہے۔ نہ اتحاد ہے، نہ قیادت کا فقدان پورا ہوا، نہ علمی میدان میں وہ مقام حاصل کیا جا سکا جس کے ہم وارث تھے۔ مغربی تہذیب نے فکری غلامی کا ایسا جال بچھایا ہے کہ ہم اپنی اصل شناخت بھول بیٹھے ہیں۔
یہ سب کچھ ایک لمحہ فکریہ ہے۔ آخر اس کی وجہ کیا ہے؟اور اس المیے سے نکلنے کا راستہ کیا ہے؟
قرآن سے دوری اور دین کے ظاہری پہلو پر اکتفا
قرآن مسلمانوں کی روحانی، سماجی، سیاسی اور علمی رہنمائی کرتا ہے۔ مگر آج مسلمان قوم نے قرآن سے رسمی تعلق بنائے رکھا ہے۔ احکامِ الٰہی، عدل، صداقت، قربانی، اتحاد، امانت، تحقیق ، نظم و ضبط جیسے عملی پہلو زندگی سے غائب ہو گئے ہیں۔ دین صرف عبادات، وظائف اور رسومات کا مجموعہ بنا دیا گیا ہے، جبکہ قرآن کہتا ہے۔’’ومن لم یحکم بما أنزل اللّٰہ فأولئک ہم الظالمون‘‘ (جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں، وہ ظالم ہیں) اگر دین کو مکمل نظامِ حیات کے طور پر اپنایا جائے تو انفرادی اور اجتماعی اصلاح ممکن ہے۔
علم و تحقیق سے دوری
آج کی دنیا علم، تحقیق، ٹیکنالوجی اور جدت کی بنیاد پر ترقی کر رہی ہے۔ مگر مسلم دنیا علم سے دور ہو چکی ہے۔ ہمارے تعلیمی ادارے نمبروں کی دوڑ میں ہیں، تحقیق کا معیار پست ہے، نوجوانوں کو تخلیقی سوچ، سوال کرنے کی صلاحیت اور سائنسی شعور نہیں دیا جاتا۔ ہمارا ماضی عباسی، اندلسی اور عثمانی ادوار میں سائنس، طب، فلکیات، فلسفہ، ادب اور معاشرتی علوم کا امام تھا، مگر آج ہم دوسروں کے محتاج بن چکے ہیں۔
سیاسی انتشار اور قیادت کا بحران
مسلم دنیا میں زیادہ تر حکومتیں غیر جمہوری، آمریت زدہ یا مغرب کی کٹھ پتلی ہیں۔ ان کی ترجیح عوامی فلاح، تعلیم، صحت، انصاف اور آزادی نہیں بلکہ اقتدار کا دوام ہے۔ فلسطین، شام، یمن، افغانستان، لیبیا اور سوڈان جیسے ممالک تباہی کا شکار ہیں، مگر مسلم دنیا خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ او آئی سی (OIC) جیسا ادارہ بے اثر ہو چکا ہے۔ ہم عالمی فورمز پر اپنے مفادات کا دفاع نہیں کر پاتے۔ فلسطین کے مسائل پر مسلم ممالک کے حکمرانوں کا ردِعمل رسمی اور کمزور ہوتا ہے۔
مادی وسائل کا ضیاع اور کرپشن
سعودی عرب، قطر، ایران، نائیجیریا، انڈونیشیا، الجزائر جیسے ممالک قدرتی وسائل سے مالامال ہیں، مگر عوام کی اکثریت اس مادی خوشحالی سے محرومی ہے جو دراصل درکار ہے۔ اس کی بڑی وجہ وسائل کی غیر منصفانہ تقسیم، کرپشن، ناقص قیادت اور غیر ملکی انحصار ہے۔ IMF، World Bank جیسے ادارے مسلم ممالک کی معیشت کو کنٹرول کرتے ہیں۔ ان کے سودی قرضے معیشت کو غلامی کی زنجیروں میں جکڑ رہے ہیں۔5۔ فکری یلغار اور مغربی اثرات مغربی میڈیا، فیشن، سوشل میڈیا اور نظام تعلیم نے مسلمانوں کی فکری خودی کو تباہ کر دیا ہے۔ ہم اپنی زبان، ثقافت، تعلیم اور اقدار سے شرمندہ اور مغرب کی اندھی تقلید میں مصروف ہیں۔ مغربی نظامِ زندگی کو ”ترقی” اور ”جدیدیت” سمجھ کر اپنا لیا ہے، جبکہ وہ ہمیں اخلاقی گراوٹ، فحاشی، بے حیائی اور خاندانی بگاڑ کی طرف دھکیل رہا ہے۔
امت میں اتحاد کا فقدان
آج مسلمانوں میں مذہبی، لسانی، مسلکی اور جغرافیائی بنیادوں پر شدید تفرقہ ہے۔ شیعہ، سنی، عرب، عجم، ترک – سب اپنی شناخت میں محدود ہو چکے ہیں۔ امتِ واحدہ کا تصور محض کتابوں میں رہ گیا ہے۔اسلام دشمن طاقتیں ہمارے اسی انتشار سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔ راہِ نجات اور موجودہ دور کے تقاضے، عملی رجوع الی القرآن و سنت۔ہمیں چاہیے کہ قرآن کو رہنمائے زندگی کا ذریعہ بنائیں۔ سنت ِ رسول ﷺ کو عملی نمونہ سمجھ کر اپنائیں۔ مساجد کو صرف عبادت گاہ نہیں، تربیت گاہ اور تعلیمی مرکز بنایا جائے۔ تعلیم و تربیت کا انقلابی نظام مدارس اور اسکولز میں دینی و دنیاوی تعلیم کو ایک لڑی میں پرویا جائے۔ نئی نسل کو تحقیق، سوال، سائنسی شعور، اخلاقی تربیت اور زبان دانی میں مہارت دی جائے۔ Artificial Intelligence، Data Science، Renewable Energy، طب، قانون، اور دیگر جدید علوم میں مسلمانوں کی شراکت ضروری ہے۔ سیاسی شعور اور قیادت کی تربیت امت کو دیانتدار، مخلص اور باصلاحیت قیادت کی ضرورت ہے۔ نوجوانوں کو صرف مذہبی جلسوں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ انہیں سماجی خدمات، خدمتِ خلق، مشورہ سازی، انصاف، دیانت اور قیادت کی تربیت دی جائے۔ معاشی خود کفالت اور حلال معیشت سودی نظام معیشت سے چھٹکارا، زکواۃ کا موثر نظام، اسلامی بینکاری، مقامی صنعت و حرفت کا فروغ اور منصفانہ معیشت کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔ ہر ملک کو اپنے وسائل خود استعمال کرنے کا سلیقہ آنا چاہیے۔
میڈیا، ابلاغ اور بیانیہ کی جنگ
مسلمانوں کو میڈیا، فلم، سوشل میڈیا اور نصاب کے ذریعے اپنا بیانیہ قائم کرنا ہوگا۔ اسلاموفوبیا کا مقابلہ صرف احتجاج سے نہیں بلکہ علم، کردار، میڈیا اور فکری قوت سے کیا جا سکتا ہے۔ عالمی اتحاد اور مشترکہ لائحہ عمل او آئی سی کو مؤثر بنایا جائے۔ مسلم ممالک مشترکہ دفاعی، تعلیمی، سائنسی اور معاشی منصوبے بنائیں ۔ ایک دوسرے کی ترقی میں مدد کریں، نہ کہ سازش۔موجودہ عالمی تناظر میں آج فلسطین کے حالات ہم سب کوخون کے آنسو رلا دیتے ہیںفلسطین وہ مقدس سرزمین ہے جہاں انبیاء کرامؑ کے قدموں کی برکتیں بسی ہیں، آج اس مقدس وادی میں جو کچھ ہورہا ہے، اس سے اللہ تعالیٰ خوب باخبر ہے۔ اسرائیلی وزیرِاعظم کا یہ دعویٰ کہ ”ہم نے ایران کی فضاؤں پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے”، درحقیقت اس زعمِ باطل کی عکاسی ہے جو دنیاوی طاقت اور عسکری ساز و سامان کے غرور سے پیدا ہوتا ہے۔یہ الگ بات ہے کہ ایران نے بھی جوابی کاروائی کے ذریعے بتا دیا کہ کس ملک کی فضاؤں میں کس کا کنٹرول ہے۔حالانکہ زمین و آسمانوں کی حقیقی میراث تو صرف اور صرف اللہ ربّ العالمین کے اختیار میں ہے۔ اسرائیل آج اپنی فوجی قوت اور اسلحے کی نمائش میں مدہوش ہے، مگر تاریخ گواہ ہے کہ جب فرعون کی شدت اور نمرود کا غرور اپنی انتہا کو پہنچا، تو قدرت نے کس طرح ان کے تاج و تخت کو خس و خاشاک کی طرح بہا کر رکھ دیا۔
جب ظلم حد سے بڑھ جاتا ہے، تو ربِ کائنات کا عدل حرکت میں آتا ہے۔ کیا مسلم ممالک کے حکمران اب بھی اس انتظار میں ہیں کہ آسمان سے کوئی فیصلہ اترے؟ جب اللہ تعالیٰ مظلوموں کی فریاد سنتا ہے اور اپنے عدل سے فیصلہ فرماتا ہے، تو نہ ظالموں کے قلعے محفوظ رہتے ہیں اور نہ ہی وہ حکمران جو خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں اور نہ ہی مسلم ممالک کے شہری جو کم از کم اپنے احتجاج کے ذریعے اپنے ملک کے حکمرانوں کو انکی ذمداری کا احساس دلاتے، اللہ کی پکڑ سے بچ پاتے ہیں ۔ اور ہمیں بھی یہ نہایت سنجیدگی سے اپنے دل و دماغ کے آئینے میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم بحیثیت اُمتِ مسلمہ فلسطین کے مظلوم و محصور بھائیوں کے دکھ اور غم میں کس درجے شریک ہیں۔ کیا واقعی ہمارے دل اُن کے زخموں کی تپش محسوس کر رہے ہیں؟ کیا ہماری زبانیں اُن کے حق میں دعا کے کلمات میں تر ہیں اور ہمارے ہاتھ بارگاہِ الٰہی میں پُر خلوص التجاؤں کے لیے اٹھ رہے ہیں؟ یہ محاسبہ نہ صرف ہماری ایمانی غیرت کا پیمانہ ہے بلکہ اُمت کی اجتماعی بیداری اور کردار کا امتحان بھی ہے۔
آج کے پُرآشوب، پُر فتن اور فکری انتشار کے دور میں ہم قرآن و سنت کی اصل روح اور اس کے گہرے فہم و ادراک کے ساتھ زندگی کے بنیادی شعبہ جات — جیسے علم، اتحاد، اخلاقیات، قیادت، ذرائع ابلاغ اور معیشت — پر سنجیدہ توجہ دیں، تو کوئی بعید نہیں کہ اُفق پر ایک نئی، تابناک اور خوش آئند صبح طلوع ہو۔
ایک ایسی صبح جو ملت اسلامیہ کے لیے بیداری، خود شناسی اور فلاح کا پیغام لائے، جو ہمیں اپنے عظیم الشان ماضی پر بجا فخر کا احساس دے، حال کی اصلاح کی روشنی عطا کرے، اور مستقبل کے لیے ایک پختہ، دانشمندانہ اور جامع لائحہ عمل فراہم کرے۔جب مسلمان ایک بار پھر فکری، عملی، اور روحانی لحاظ سے مضبوط ہوں گے، تو ان کی قیادت صرف امت مسلمہ تک محدود نہیں رہے گی بلکہ پوری انسانیت کو امن، انصاف، رواداری اور ترقی کی شاہراہ پر گامزن کرے گی۔ تبھی دنیا میں اسلام کا وہ پیغامِ رحمت عام ہو گا، جو ہر دل کو سکون، ہر ذہن کو روشنی، اور ہر سماج کو عدل و انصاف کی بنیادوں پر استوارکریگا۔
یقیناً، اس بیداری کے مثبت اثرات صرف مسلمانوں تک محدود نہیں ہوں گے بلکہ پوری بنی نوعِ انسان اس سے فیض یاب ہو گی، اور کرو ارض پر امن، شانتی، اور ہمہ گیر ترقی کے چشمے پھوٹ پڑیں گے۔
