مرحوم منصور مُلّا کی یاد، اور کروشی کی قدیم روایت

مضامین
از:۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری۔بلگام، کرناٹک۔8105493349
کروشی ضلع بلگام (کرناٹک) سے 68 کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے ۔ کروشی گاؤں اپنی روحانی اور علمی اہمیت کے سبب ممتاز مقام رکھتا ہے۔ یہاں کی شہرت کی سب سے بڑی وجہ حضرت راجی نور شاہ رحمۃ اللہ علیہ المعروف شاہ نور باباؒ کی درگاہ ہے جو ہر مذہب و نسل کے لوگوں کے لیے عقیدت کا مرکز رہی ہے۔ کروشی کو بلگام ضلع کی ایک بڑی اور اہم بستی ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ گاؤں ایک اہم تعلیمی مرکز ہے۔ اس کا کل رقبہ 2407.6 ہیکٹر ہے اور 2011ء کی مردم شماری کے اعتبار سے یہاں کی آبادی 8,481 نفوس پر مشتمل ہے، جبکہ یہاں تقریباً 1,919 مکانات پائے جاتے ہیں۔ زراعت اور کھیتی باڑی اس علاقے کی معیشت کی بنیاد ہے۔یوں تو کروشی اپنی روحانی، تعلیمی اور زرعی اہمیت کے باعث آج بھی نمایاں شناخت رکھتا ہے۔ مگر یہاں کی قدیم روایات آج بھی باقی ہیں۔ انہی میں ایک دعوتی روایت بھی ہے۔ مرحوم منصور مُلّا اس دعوتی روایت کی ایک کڑی تھے، جو 20 اگست 2025ء کو طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے۔
دعوتی روایت کیا ہے؟
عام طور پر کروشی گاؤں میں ہونے والے خوشی اور غمی کے پروگراموں کی اطلاع گاؤں والوں کو دینے کے لیے مرحوم منصور مُلّا کی گزشتہ کئی پشتیں معمور رہی ہیں۔ اہلِ گاؤں میں اگر کسی کے یہاں انتقال ہوتا تو منصور مُلّا صاحب کو فوراً بلایا جاتا۔ انتقال کی خبر سن کر وہ گاؤں کی جامع مسجد سے پانی گرم کرنے اور میّت کو غسل دینے کے لیے بڑا ہانڈا لے کر میّت کے گھر پہنچاتے اور گاؤں کے چپے چپے میں گھوم کر ہر گھر تک یہ اعلان کرتے کہ فلاں ابنِ فلاں کا انتقال ہوا ہے اور تدفین کا وقت بتاتے۔ یہ سلسلہ میّت کی برسی تک آنے والے سارے تعزیتی پروگراموں تک مسلسل چلتا رہتا تھا۔
اور اگر کسی کے یہاں شادی ہوتی تو منصور مُلّا صاحب کو ہی یاد کیا جاتا۔ وہ گھر گھر دعوت پہنچاتے۔ اگر بالفرض کسی کا مکان بند ہو تو گھر کی دہلیز کے سامنے ایک پتھر رکھتے۔ اگر پتھر بڑا ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ دعوت گھر کے ہر فرد کو ہے، اور اگر پتھر چھوٹا ہو تو یہ اس بات کی علامت ہے کہ دعوت گھر کے صرف ایک ہی فرد کو ہے۔ جس گھر میں دعوت صرف ایک فرد کو ہوتی، وہ اپنے ساتھ ایک چھوٹے بچے کو بھی لے جانا پسند نہیں کرتا۔ مرحوم منصور مُلّا صاحب یہ پورا دعوتی کام پیدل کرتے تھے۔ سردی گرمی، بارش غرض ہر موسم میں اپنی ذمہ داری نبھاتے تھے۔
حضرت راجی نور شاہ عرف شاہ نور بابا قدّس سرہ کے بھانجے محمد میراں پٹیل ہیں۔ گاؤں کی ساری پٹیل برادری انہی کی اولاد میں سے ہے۔ محمد میراں پٹیل کی اولادیں چھ شاخوں میں پھیلی ہیں، جنہیں گڈّا کہا جاتا ہے۔ گاؤں کی ساری پٹیل برادری محمد میراں پٹیل کی اولاد میں سے ہے ۔
کروشی کی پٹیل برادری کا بنیادی مرکز و ماخذ محمد میراں پٹیل ہیں۔ انہی کی اولاد رفتہ رفتہ بڑھتی رہی اور بستی کی ضروریات و حالات کے تحت الگ الگ خانوادوں میں تقسیم ہو گئی۔ وقت کے ساتھ یہ تقسیم چھ بڑے گڈّوں کی شکل میں سامنے آئی اور آج برادری کی شناخت انہی چھ گڈّوں سے وابستہ ہے۔
چھ گڈّے اور ان کی خصوصیات
1. محمد پٹیل گڈّا
آبادی کے اعتبار سے سب سے بڑا گڈّا۔
اس گڈّے کے افراد میں بہادری، شجاعت اور آگے بڑھ کر ذمہ داری نبھانے کی خصوصیت پائی جاتی ہے۔
بڑی تعداد میں افراد دنیاوی عہدوں اور مناصب پر فائز رہے ہیں۔
2. بالا پٹیل گڈّا
اس گڈّے کے افراد دین اور دنیا دونوں شعبوں میں نمایاں خدمات کے حامل ہیں۔
دین داری اور علمی روشنی کے ساتھ ساتھ دنیاوی اعتبار سے بھی نام کمایا۔
3. لاڈو گڈّا
اس گڈّے کے افراد کو اللہ تعالیٰ نے سیاسی بصیرت عطا کی ہے۔
سماجی اور سیاسی معاملات میں ان کا اثر و رسوخ نمایاں رہا ہے۔
4. مکتوم پٹیل گڈّا
یہاں کے افراد عموماً سنجیدہ اور خاموش طبیعت کے حامل ہیں۔
دین و دنیا میں اعلیٰ عہدوں پر پہنچ کر خدمت انجام دیتے رہے ہیں۔
5. میراں پٹیل گڈّا
محمد میراں پٹیل سے نسبت رکھنے والا یہ گڈّا دینی و اخلاقی اقدار کے حوالے سے مشہور ہے۔
اس گڈّے کے افراد علمی اور سماجی خدمات میں نمایاں کردار ادا کرتے ہیں۔
6. گھوڑو پٹیل گڈّا
خاموش مزاج اور وقار اس گڈّے کے افراد کی پہچان ہے۔
عملی میدان میں نمایاں خدمات انجام دے کر اپنی شناخت بنائی۔
اس کے علاوہ گاؤں کی دیگر برادریوں میں قاضی، جمعدار، مُلّا، مکاندار، جورا،عمرخان، منیار وغیرہ وغیرہ شامل ہیں۔ ان سارے خاندانوں کو مرحوم منصور مُلّا صاحب فرداً فرداً جانتے تھے۔ ان کا حافظہ ایسا کمال تھا کہ اگر کسی رشتہ دار کا ایک بھی گھر بھول جاتے تو فورا یاد دلایا کرتے۔
عام طور پر گاؤں میں سال بھر خوشی غمی کے پروگرام ہوتے رہتے ہیں۔ ہر پروگرام کے بعد مرحوم منصور مُلّا صاحب کو مٹھی باندھ کر رقم بطور ہدیہ دی جاتی جسے  وہ خوشی سے قبول کرتے۔ اور عام طور پر فصلوں کی کٹائی کے وقت گاؤں والے مرحوم کا حصہ الگ سے نکال رکھتے تھے۔
گزشتہ کئی دنوں سے مرحوم علیل تھے، اس لیے اس ذمہ داری کو ان کے فرزند شاہد مُلّا نے سنبھالی تھی۔دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ مرحوم منصور مُلّا صاحب کی ان خدمات کو قبول فرمائے اور ان کے درجات بلند فرمائے۔ آمین