حضور صلی اللہ علیہ وسلم عدل وانصاف کے علمبردار

مضامین
از:۔مشتاق احمد یس ملا،ہبلی..سابق پرنسپل 9902672038
انصاف کسی بھی انسانی معاشرے کی بقا اور سلامتی کی اصل بنیاد ہے۔ جہاں عدل و انصاف قائم ہو وہاں سکون، امن اور اعتماد کی فضا پیدا ہوتی ہے اور جہاں ظلم اور ناانصافی رواج پا جائے وہاں انتشار، بدنظمی اور زوال ناگزیر ہو جاتا ہے۔ تاریخ عالم اس حقیقت پر شاہد ہے کہ قوموں کی ترقی و تنزلی کا مدار انصاف ہی پر رہا ہے۔ رسول اکرم ﷺکی حیاتِ طیبہ کا ایک درخشاں پہلو یہی ہے کہ آپؐ نے عدل و انصاف کو نہ صرف اپنی سیرت کا جزو بنایا بلکہ ایک پورے معاشرتی نظام کی اساس اسی پر قائم کی۔ آپؐ بجا طور پر انصاف کے سب سے بڑے علمبردار ہیں جنہوں نے اپنی زندگی کے ہر شعبہ میں عدل کو قائم کیا اور دنیا کو اس کی عملی شکل دکھائی۔
بعثت نبوی سے قبل کا معاشرہ ظلم و ناانصافی کی ظلمتوں میں ڈوبا ہوا تھا۔ طاقتور کو کوئی پوچھنے والا نہ تھا، کمزور دبایا اور یتیم کا مال ہڑپ کر لیا جاتا، عورتوں کی عزت پامال تھی اور غلاموں کو انسان ہی نہیں سمجھا جاتا تھا۔ انصاف کا کوئی تصور نہ تھا۔ ایسے اندھیروں میں حضور اکرمﷺنے انسانیت کو یہ پیغام دیا کہ سب برابر ہیں اور کسی کو کسی پر ظلم کرنے کا حق حاصل نہیں۔ آپؐ کی حیاتِ مبارکہ میں ایسے بے شمار واقعات ملتے ہیں جنہوں نے عدل کے معیار کو ہمیشہ کے لیے واضح کر دیا۔ رسول اکرمﷺکا ذاتی کردار عدل کی سب سے بڑی گواہی ہے۔ ایک معزز خاندان کی ایک خاتون نے چوری کی تھی۔ جب یہ واقعہ سامنے آیا تو لوگ اس خاتون کو سزا دینے سے بچانے کے طریقے سوچنے لگے، کیونکہ اس کا معاشرتی مرتبہ بہت بلند تھا اور لوگ اس کی عزت و وقار کے پیش نظر اسے سزا دلوانے سے گریز کر رہے تھے۔ یہ بات حضرت محمدﷺتک پہنچی۔ حضورﷺنے فرمایا کہ اگر میری اپنی بیٹی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا بھی یہ جرم کرتی تو میں اس کے ہاتھ کاٹنے کا حکم دیتا۔ اس فرمان سے واضح ہوا کہ اسلام میں عدل اور شریعت کی بالادستی، کسی کے مرتبے یا رتبے سے مشروط نہیں ہے۔ ہر شخص، چاہے وہ اعلیٰ مقام کا ہو یا فقیر، قانون کے تحت یکساں ہے۔ یہ اعلان تاریخ انسانی میں ایک بے مثال نظیر ہے جہاں رشتہ داری، عصبیت اور شخصیت پرستی کے تمام پردے چاک کر کے عدل کو معیار بنایا گیا۔
اسی طرح ایک مقدمہ جب ایک مسلمان اور ایک یہودی کے درمیان پیش ہوا تو فیصلہ تحقیق کے بعد یہودی کے حق میں دیا گیا۔ قرآن نے بھی اس موقع پر ہدایت دی کہ جب بھی فیصلہ کرو تو انصاف کے ساتھ کرو۔ یہ اصول اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ حضور اکرمﷺکے نزدیک انصاف صرف اپنی قوم یا مذہب کے پیروکاروں تک محدود نہ تھا بلکہ پوری انسانیت کے لیے تھا۔ اسلام کی آمد کے ساتھ غلاموں اور کمزوروں کے حقوق کو بھی عدل کی بنیاد پر تسلیم کیا گیا۔ آپؐ نے فرمایا کہ غلام تمہارے بھائی ہیں، ان کے ساتھ وہی سلوک کرو جو اپنے ساتھ کرتے ہو۔ کھانے اور پہننے میں ان کے ساتھ برابری کرو اور ان پر طاقت سے زیادہ بوجھ نہ ڈالو۔ یہ تعلیم اس بات کی دلیل ہے کہ انصاف صرف عدالت یا فیصلے تک محدود نہ رہا بلکہ زندگی کے ہر پہلو میں اسے عملی شکل دی گئی۔ مدینہ کی ریاست کی تشکیل دراصل معاشرتی انصاف کی سب سے بڑی مثال تھی۔ میثاقِ مدینہ میں تمام شہریوں، چاہے وہ مسلمان ہوں یا غیر مسلم، کو برابر کے حقوق دیے گئے۔ یہ اس دور میں ایک بے مثال معاہدہ تھا جس نے سب کے جان و مال کے تحفظ کی ضمانت دی اور عدل کی بنیاد پر معاشرے کی تشکیل کی ۔ عدل و انصاف کی ایک نہایت روشن مثال وہ واقعہ ہے جب کعبہ کی تعمیر مکمل ہونے کے بعد حجرِ اسود کو اپنی جگہ رکھنے کا سوال پیدا ہوا۔ ہر قبیلہ یہ شرف اپنے حصے میں لانا چاہتا تھا اور قریب تھا کہ ایک بڑا خونریز جھگڑا ہو جاتا۔ اللہ کی مشیت سے سب سے پہلے رسول اکرمﷺحرم میں داخل ہوئے۔ آپؐ نے بڑی حکمت اور انصاف کے ساتھ فیصلہ کیا۔ حجرِ اسود کو ایک چادر پر رکھا اور ہر قبیلے کے سردار کو چادر کا ایک ایک کونا پکڑنے کا حکم دیا۔ پھر آپؐ نے اپنے مبارک ہاتھوں سے حجرِ اسود کو اس کی جگہ پر رکھ دیا۔ اس فیصلے نے قریش کے درمیان ممکنہ جنگ کو ختم کر دیا اور سب کے دل جیت لیے۔حضورﷺکے انصاف کی ایک اور پہلو یہ ہے کہ جہاں سزا ضروری ہوئی وہاں آپؐ نے عدل کے تقاضے پورے کیے، لیکن موقع ملنے پر معافی اور درگزر کی عظیم مثالیں بھی قائم کیں۔ فتح مکہ کے موقع پر جب دشمنوں کو سزا دینے کا پورا موقع تھا تو آپؐ نے سب کو عام معافی دے دی اور اعلان فرمایا ”جاؤ، آج تم پر کوئی گرفت نہیں، تم سب آزاد ہو۔” یہ اعلان انصاف اور رحمت کا وہ حسین امتزاج ہے جس کی مثال تاریخ میں نہیں ملتی۔
قرآن و سنت کی تعلیمات میں بار بار عدل و انصاف پر زور دیا گیا ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ”بے شک اللہ انصاف اور احسان کا حکم دیتا ہے۔” رسول اکرمﷺنے فرمایا کہ قیامت کے دن اللہ کے نزدیک سب سے محبوب شخص وہ ہوگا جو انصاف کرنے والا حکمران ہوگا اور سب سے مبغوض وہ ہوگا جو ظلم کرنے والا ہوگا۔ یہ احادیث اس بات کی وضاحت کرتی ہیں کہ عدل محض ایک اخلاقی وصف نہیں بلکہ ایک دینی فریضہ ہے۔ آج کے حالات اس حقیقت کو مزید نمایاں کرتے ہیں کہ حضور اکرمﷺکی تعلیمات ہمارے لیے کس قدر ضروری ہیں۔ موجودہ دنیا میں ظلم، ناانصافی، اقربا پروری اور طاقت کے غلط استعمال نے معاشروں کو بے سکون کر دیا ہے۔ اگر ہم رسول اکرمﷺکی حیاتِ طیبہ سے سبق لے کر عدل کو اپنی زندگی اور نظام کا شعار بنائیں تو یقیناً ہماری معاشرتی، اخلاقی اور سیاسی زندگی میں سکون اور ترقی کی راہیں کھل سکتی ہیں۔رسول اکرمﷺکی پوری زندگی عدل و انصاف کا عملی مظہر ہے۔ آپؐ نے واضح کر دیا کہ انصاف کے بغیر کوئی معاشرہ سلامت نہیں رہ سکتا۔ آپؐ نے دنیا کو یہ تعلیم دی کہ عدل ہی اصل معیار ہے جس پر انسانی تعلقات، معاہدات اور ریاستوں کی بنیاد قائم ہونی چاہیے۔ یقیناً آپؐ کی ذات گرامی تاریخ انسانیت کے سب سے بڑے علمبردارِ انصاف کی حیثیت رکھتی ہے اور آپؐ کی حیات طیبہ قیامت تک انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت کا سرچشمہ بنی رہے گی۔
 1949ء کے جنیوا کنونشن میں انسانی حقوق اور قیدیوں کے ساتھ برتاؤ کے اصول وضع کیے گئے۔ دنیا نے اسے تہذیبی ارتقا کی ایک بڑی کامیابی قرار دیا اور یہ سمجھا کہ اب پہلی مرتبہ جنگی قیدیوں کے تحفظ اور ان کے انسانی وقار کے احترام کی ضمانت دی گئی ہے۔ لیکن تاریخ کی گہرائیوں میں نظر ڈالیں تو یہ حقیقت آشکار ہوتی ہے کہ انسانیت کو ان اصولوں سے صدیوں قبل روشناس کرایا جا چکا تھا۔ چودہ سو برس پہلے ہی حضور اکرمﷺنے اپنی سیرتِ طیبہ سے عدل و انصاف اور انسانی ہمدردی کے وہ نقوش ثبت فرما دیے تھے جنہیں آج کی دنیا جدید قراردادوں کی صورت میں پیش کر رہی ہے۔ اسلام میں عدل محض ایک نظری تصور نہیں بلکہ عملی زندگی کا بنیادی جزو ہے۔ قرآن نے واضح طور پر ہدایت دی کہ قیدیوں کو یا تو فدیہ لے کر رہا کیا جائے یا پھر احسان کے طور پر بلا معاوضہ آزاد کر دیا جائے۔ اس تعلیم نے جنگی حالات میں بھی انسانی شرافت کو قائم رکھنے کی ضمانت فراہم کی۔ غزوات کے دوران مسلمانوں نے اس ہدایت پر ایسا عمل کیا کہ تاریخ آج بھی اس کی نظیر پیش کرنے سے قاصر ہے۔ روایت ملتی ہے کہ صحاب کرام رضی اللہ عنہم خود بھوکے رہ گئے مگر قیدی کو اپنی روٹی کھلا دی۔ دشمن کے سپاہی بھی اس غیر معمولی حسنِ سلوک اور عدل کے معترف ہو گئے ۔ یوں دیکھا جائے تو جو اصول دنیا نے بیسویں صدی کے وسط میں بین الاقوامی معاہدوں کے ذریعے طے کیے، وہ رسول اکرمﷺکی حیاتِ مبارکہ میں چودہ سو برس پہلے اپنی کامل صورت میں جلوہ گر ہو چکے تھے۔ یہی تعلیمات اس بات کا ثبوت ہیں کہ اسلام کا پیغام سراپا عدل و انصاف،رحمت اور انسانی مساوات ہے۔
آج کی دنیا اگر حقیقی عدل و انصاف کی متلاشی ہے تو اسے انہی ابدی اصولوں سے رہنمائی لینا ہوگی۔ حضورﷺکی زندگی عدل و انصاف کا روشن نمونہ ہے۔ آپ نے کبھی ذاتی رائے، مقام یا تعلقات کے پیش نظر فیصلے نہیں کیے بلکہ ہر حالت میں حق اور انصاف کو مقدم رکھا۔ آپ کے قول و عمل نے دنیا کو یہ سبق دیا کہ عدل و انصاف صرف قانون کی پاسداری نہیں بلکہ اخلاق، مساوات اور انسانی ہمدردی کا عملی اظہار ہے۔ آج بھی ہم اگر آپ کی تعلیمات کو اپنائیں اور عدل کے اصولوں پر عمل کریں تو معاشرہ امن، محبت اور ہم آہنگی کا گہوارہ بن سکتا ہے۔ آپﷺکی شخصیت ہمیشہ عدل و انصاف کے علمبردار کے طور پر یاد رکھی جائے گی۔