از۔مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔سابق پرنسپل 9902672038

موجودہ دور کو بجا طور پر سائنس اور ٹیکنالوجی کا دور کہا جاتا ہے۔ آج انسان نے زمین ہی نہیں بلکہ خلا کو بھی مسخر کرلیا ہے۔ انٹرنیٹ نے دنیا کو ایک دوسرے کے قریب کردیا ہے اور مصنوعی ذہانت نے کئی ایسے شعبوں میں انقلاب برپا کیا ہے جو کبھی خواب معلوم ہوتے تھے۔ لیکن اس سب کے باوجود اگر غور کیا جائے تو انسانی زندگی میں ایک عنصر ایسا ہے جو ہمیشہ مرکزی حیثیت رکھتا آیا ہے اور آئندہ بھی رکھے گا، اور وہ ہے استاد کا کردار۔ جدید ایجادات اور ڈیجیٹل سہولتوں کے باوجود استاد کا رشتہ شاگرد کے ساتھ محض علمی نہیں بلکہ اخلاقی، سماجی اور انسانی بنیادوں پر قائم ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ”ٹیچرز ڈے” کو پوری دنیا میں عقیدت اور احترام کے ساتھ منایا جاتا ہے تاکہ معاشرے کو یہ یاد دہانی کرائی جائے کہ ترقی کے اس دور میں بھی استاد کی اہمیت کم نہیں ہوئی بلکہ اور زیادہ بڑھ گئی ہے۔
آج طلبہ کے لیے علم حاصل کرنے کے ہزاروں ذرائع دستیاب ہیں۔ کتابیں، آن لائن لیکچرز، گوگل اور یوٹیوب ہر موضوع پر معلومات کا انبار فراہم کرتے ہیں۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا یہ سب کچھ استاد کی رہنمائی کا متبادل بن سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ محض معلومات حاصل کرنا علم نہیں کہلاتا۔ علم وہ ہے جو انسان کو صحیح اور غلط میں تمیز کرنا سکھائے، اس کی شخصیت کو نکھارے اور اسے معاشرے کا ایک ذمہ دار فرد بنائے۔ استاد ہی وہ ہستی ہے جو معلومات کو علم میں اور علم کو کردار میں ڈھالنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اگر استاد نہ ہو تو تعلیم محض ایک مشینی عمل بن کر رہ جاتی ہے جس میں انسانیت اور اخلاقیات کی خوشبو باقی نہیں رہتی۔
ڈیجیٹل انقلاب نے ایک نئی دنیا کو جنم دیا ہے جہاں نوجوان نسل ہر لمحہ بے شمار اشاروں اور پیغامات سے گھری ہوئی ہے۔ سوشل میڈیا کی چمک دمک، وائرل کلپس اور جھوٹی خبروں کا شور نئی نسل کو منتشر اور الجھا رہا ہے۔ یہاں استاد کی ذمہ داری دوگنی ہوجاتی ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو اس ہجوم میں شعور اور بصیرت کے ساتھ چلنا سکھائے۔ استاد ہی بتاتا ہے کہ ٹیکنالوجی کا استعمال ایک ہتھیار ہے جسے یا تو تعمیر کے لیے استعمال کیا جاسکتا ہے یا تباہی کے لیے۔ وہی طلبہ کو یہ شعور دیتا ہے کہ علم کا اصل مقصد انسانیت کی بھلائی اور ترقی ہے، نہ کہ وقت ضائع کرنا یا اخلاقی انحطاط کا شکار ہونا۔ سائنس نے انسان کو سہولتیں تو دی ہیں لیکن اسی کے ساتھ ایک خطرہ بھی پیدا کیا ہے، اور وہ ہے تخلیقی صلاحیتوں کا زوال۔ جب ہر سوال کا جواب مشین سے مل جائے تو سوچنے اور غور کرنے کی عادت کم ہوجاتی ہے۔ ایسے میں استاد کی ذمہ داری ہے کہ وہ شاگردوں کو محض تقلید کے بجائے تحقیق اور جستجو کی طرف راغب کرے۔ استاد شاگرد کو سوال کرنا سکھاتا ہے، شک کرنا اور پرکھنا سکھاتا ہے، اور پھر ان سوالوں کے جواب تلاش کرنے کی جرات بھی دیتا ہے۔ یہی وہ جذبہ ہے جو قوموں کو ایجادات اور ترقی کے سفر پر گامزن کرتا ہے۔
ٹیکنالوجی نے دنیا کو ایک عالمی گاؤں میں بدل دیا ہے۔ مختلف قومیں، زبانیں اور مذاہب ایک دوسرے سے جڑ گئے ہیں۔ لیکن اس قربت کے ساتھ ساتھ نفرت اور کشمکش کے اسباب بھی بڑھ گئے ہیں۔ آج دنیا کو امن، رواداری اور بھائی چارے کی اشد ضرورت ہے۔ استاد ہی وہ ہستی ہے جو اپنے شاگردوں کو یہ سکھاتا ہے کہ اختلاف کے باوجود محبت اور احترام قائم رکھا جائے۔ وہ بتاتا ہے کہ حقیقی علم وہ ہے جو انسان کو انسانیت کے قریب کرے اور اسے دوسروں کے دکھ درد میں شریک ہونے کا حوصلہ دے۔ اگر استاد اس پیغام کو نسل در نسل منتقل کرے تو ٹیکنالوجی کی تیز رفتار ترقی بھی امن و محبت کی ضمانت بن سکتی ہے تحقیق اور اختراع کا دور ہے۔ بڑی بڑی یونیورسٹیاں اور ادارے نت نئی ایجادات سے دنیا کو حیران کررہے ہیں۔ لیکن یہ سب کچھ محض مشینوں کی بدولت ممکن نہیں بلکہ اس کے پیچھے اساتذہ کی تربیت اور رہنمائی کارفرما ہے۔ استاد طلبہ کے اندر تحقیق کا شوق جگاتا ہے اور انہیں بتاتا ہے کہ حقیقی کامیابی تب ہے جب علم سے انسانیت کو فائدہ پہنچے۔ آج کے شاگرد اگر استاد کی رہنمائی میں تحقیق کے میدان میں آگے بڑھیں تو وہ معاشرتی مسائل کا حل تلاش کرکے دنیا کو بہتر جگہ بناسکتے ہیں۔
اخلاقی بحران بھی آج کے زمانے کا ایک بڑا مسئلہ ہے۔ مادہ پرستی، بے راہ روی اور مقصدیت سے خالی تعلیم نے نوجوان نسل کو الجھا دیا ہے۔ سائنسی ترقی اگر اخلاقیات سے خالی ہو تو یہ تباہی کا ہتھیار بن جاتی ہے۔ ایٹم بم اور مہلک ہتھیار اسی کی مثال ہیں۔ استاد کا کام ہے کہ وہ اپنے شاگردوں کو بتائے کہ علم کا اصل مقصد خدمت، قربانی، ایمانداری اور رواداری ہے۔ اگر استاد اپنے شاگردوں کو اخلاقیات کا سبق دے تو سائنس اور ٹیکنالوجی بھی حقیقی معنوں میں انسانیت کی خدمت کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔ یہ بھی ضروری ہے کہ معاشرہ استاد کے مقام کو پہچانے۔ اکثر یہ گمان کیا جاتا ہے کہ مشینیں اور آن لائن پلیٹ فارم اساتذہ کی جگہ لے سکتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ استاد صرف معلومات نہیں دیتا بلکہ ایک نسل کے اندر قدریں، آداب اور شعور پیدا کرتا ہے۔ جب تک استاد کو عزت اور وقار نہیں دیا جائے گا، کوئی قوم ترقی کی حقیقی منزل کو نہیں پہنچ سکتی۔ قوموں کی تاریخ گواہ ہے کہ جن معاشروں نے اپنے اساتذہ کی عزت کی، وہ دنیا کی قیادت پر فائز ہوئے۔
آج کے تعلیمی نظام کو بھی وقت کے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے۔ پرانے اور روایتی طریقہ تدریس نوجوانوں کو متاثر نہیں کرتا۔ استاد کو چاہیے کہ وہ تعلیم کو دلچسپ اور پُرکشش بنانے کے لیے جدید وسائل استعمال کرے۔ ڈیجیٹل کلاس روم، انٹرایکٹو تدریسی ذرائع اور ای-لرننگ کے طریقے تعلیم کو زیادہ مؤثر بنا سکتے ہیں۔ لیکن ان سب کے ساتھ استاد کی شخصیت اور اس کا اخلاص ہی تعلیم کو حقیقی معنوں میں کامیاب بناتا ہے۔
یہ تمام حقائق اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ موجودہ سائنسی اور ٹیکنالوجی کے دور میں استاد کا کردار پہلے سے کہیں زیادہ اہم اور فیصلہ کن ہوگیا ہے۔ وہی اس نسل کو اس طوفانِ معلومات میں صحیح سمت دے سکتا ہے، وہی علم کو کردار اور تحقیق کو انسانیت کی خدمت سے جوڑ سکتا ہے، اور وہی نئی نسل کو محنتی، ایماندار اور تخلیقی بنا سکتا ہے۔
اسی پس منظر میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ ”ٹیچرز ڈے” کا اصل پیغام یہ ہے کہ استاد صرف تعلیم دینے والا نہیں بلکہ ایک معمارِ قوم ہے، جو اپنی رہنمائی اور تربیت کے ذریعے مستقبل کو روشن کرتا ہے۔ اگر استاد اپنی ذمہ داری کو ایمانداری اور اخلاص کے ساتھ نبھائے اور معاشرہ استاد کو اس کا جائز مقام عطا کرے تو سائنس اور ٹیکنالوجی کی تمام ترقی انسانیت کی فلاح، امن اور خوشحالی کا ذریعہ بن سکتی ہے۔ یہی وہ درس ہے جس کی آج کی دنیا کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔
وم اساتذہ صرف خراجِ تحسین کا دن نہیں بلکہ انسانی اقدار کی تجدید کا موقع بھی ہے۔ اس دن اساتذہ کو یہ عہد کرنا ہوگا کہ وہ طلباء کی کردار سازی، اخلاقی تربیت اور علمی رہنمائی میں بھرپور کردار ادا کریں گے تاکہ معاشرہ صالح اور روشن اقدار کا آئینہ دار بنے۔ دوسری طرف طلباء کو بھی اس موقع پر اس بات کا عزم کرنا ہوگا کہ وہ اپنے اساتذہ کی عزت و احترام کی قدیم روایت کو قائم رکھتے ہوئے ان کی تعلیمات پر عمل کریں گے۔ یوں اساتذہ اور طلباء مل کر ایک ایسی مضبوط بنیاد رکھنا ہوگا جس پر ایک مہذب، بااخلاق اور ترقی یافتہ معاشرہ تعمیر ہو۔
