تعلیم اور ایک مہذب معاشرے کی تشکیل

مضامین
از:۔ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے۔ایچ، جامعہ کوویمپو، شعبہ اردومطالعہ و تحقیق، سہیادری کالج کیمپس، شیموگہ۔9945304797
انسانی تاریخ کے اوراق اس بات کے شاہد ہیں کہ تہذیبوں کی تعمیر اور قوموں کی عروج و بقا کا سب سے مستحکم اور پائیدار ستون تعلیم ہے۔ تعلیم محض معلومات کا انبار یا الفاظ کا ذخیرہ نہیں بلکہ حیات کا ایک ہمہ جہت اور مکمل نظام ہے جو انسان کو شعور کی روشنی، فہم کی گہرائی، تدبر کی وسعت اور اخلاقی قدروں کا سرمایہ عطا کرتا ہے۔ یہی تعلیم معاشرے کو بصیرت بخشتی ہے، روحوں کو اجالا عطا کرتی ہے اور کردار کو اس مقام تک بلند کرتی ہے جہاں انسان حیوانی جبلّتوں کی پستی سے نکل کر فکری عظمت اور روحانی ارتقاء کی رفعتوں کو چھو لیتا ہے۔
اسلامی تعلیمات میں تعلیم کا مقصد صرف عقل کو جِلا دینا یا زبان کو گویا کرنا نہیں بلکہ اخلاق کو سنوارنا، کردار کو نکھارنا اور انسان کو انسانیت کے اعلیٰ ترین مقام تک پہنچانا ہے۔ اسی لیے تاجدارِ مدینہ ﷺ نے ارشاد فرمایا
’’میں تو اس لیے مبعوث کیا گیا ہوں کہ اعلیٰ اخلاق کی تکمیل کر سکوں۔‘‘
یہ فرمان ہمیں بتاتا ہے کہ علم اور اخلاق لازم و ملزوم ہیں؛ وہ جسم و جان کی مانند ایک دوسرے کے بغیر ادھورے ہیں۔جب تک علم کا دامن اخلاق سے وابستہ نہ ہو، وہ ایک خشک شجر کی مانند ہے جو سایہ تو کیا دے، خود بھی کمزور و ناتواں رہتا ہے۔ لیکن جب تعلیم کے ساتھ اخلاقی تربیت شامل ہو جائے تو یہی علم ایسا چراغ بن جاتا ہے جو نہ صرف شخصی کردار کو منور کرتا ہے بلکہ پورے معاشرے کو روشنی عطا کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم، اخلاق اور تربیت کے امتزاج سے ہی وہ صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے جو انسانیت کے لیے رحمت اور رہنمائی کا سرچشمہ بنتا ہے۔
تعلیم کا مقصد صرف روزگار کا وسیلہ یا پیشہ ورانہ مہارتوں کا حصول نہیں بلکہ دلوں کی تطہیر، کردار کی تعمیر، ذہن کی بالیدگی اور معاشرت کی ہم آہنگی ہے۔ تعلیم وہ چراغ ہے جو فرد کی شخصیت کو نکھارتا ہے اور معاشرے کو انتشار سے نکال کر اتحاد و اتفاق کی زنجیر میں پرو دیتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دنیا کی تمام ترقی یافتہ اقوام نے تعلیم کو اپنی کامیابی اور استحکام کی بنیاد بنایا، کیونکہ حقیقت یہ ہے کہ ایک تعلیم یافتہ معاشرہ ہی انصاف کو قائم رکھ سکتا ہے، مساوات کی فضا بحال کر سکتا ہے اور امن و سکون کی دائمی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔اسلام کی روشن تعلیمات میں بھی علم کی اہمیت کو بارہا اجاگر کیا گیا ہے۔ قرآنِ حکیم نے سوال اٹھایا،
’’کیا علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے برابر ہو سکتے ہیں؟‘‘
یہ استفہام دراصل ایک اعلانِ حقیقت ہے کہ علم ہی وہ اجالا ہے جو جہالت کی ظلمت کو چیر کر انسان کے دل و دماغ کو منور کرتا ہے اور اسے حقیقی فلاح و نجات کی راہوں پر گامزن کرتا ہے۔یقیناً تعلیم ہی انسان کی انفرادی زندگی اور اجتماعی وجود کو جِلا بخشتی ہے۔ وہ معاشرہ جہاں تعلیم کا چراغ روشن ہو، وہاں عدل و انصاف کی فصل لہلہاتی ہے، مساوات کی ہوائیں چلتی ہیں اور امن و سکون کی فضاء قائم ہو جاتی ہے۔ لیکن جہاں جہالت کا اندھیرا چھا جائے، وہاں ظلم ہی ظلم ہے، انتشار ہی انتشار ہے اور انسانیت کا سفر جمود کا شکار ہو جاتا ہے۔پس لازم ہے کہ ہم تعلیم کو محض دنیاوی وسائل یا محدود اغراض تک نہ باندھیں بلکہ اسے کردار کی اصلاح، اخلاق کی تکمیل اور معاشرے کی تعمیر کا زینہ بنائیں۔ یہی وہ سرمایہ ہے جو ہمیں دنیا میں عزت اور آخرت میں فلاح عطا کرتا ہے۔
آج کی دنیا میں تعلیم محض کتابوں کے اوراق میں قید علم کا نام نہیں رہی بلکہ یہ ایک ہمہ جہت اور زندہ و جاوید عمل ہے جو سائنسی ترقی کی روشنی، ٹیکنالوجی کی قوت، معاشرتی انصاف کی عظمت اور انسانی اقدار کی بلندی کو یکجا کر دیتا ہے۔ تعلیم وہ سرچشمہ ہے جس سے مثبت سوچ کے چشمے پھوٹتے ہیں، برداشت کے پھول کھلتے ہیں اور ترقی کی تڑپ دلوں کو جِلا بخشتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کسی بھی معاشرے کی بنیاد ہے۔ اگر ہم معاشرے کو ایک شاندار عمارت سے تشبیہ دیں تو تعلیم وہ پہلی اینٹ ہے جو اس عمارت کو استحکام بخشتی ہے اور جس کے بغیر تعمیر محض ریت کا محل بن کر بکھر جاتی ہے۔ اسی لیے تاریخ کے ہر دور میں انبیاء، اولیاء، فلسفیوں اور اہلِ دانش نے تعلیم کو انسانیت کی بقا، عزت اور فلاح کا سب سے بڑا ضامن قرار دیا۔تعلیم انسان کو صرف پڑھا لکھا نہیں بناتی بلکہ اس کے باطن کو جگاتی ہے، اس کی روح کو آراستہ کرتی ہے اور اسے ایک باشعور، بافہم اور باضمیر وجود عطا کرتی ہے۔ یہی شعور کی بیداری اور تدبر و تفکر کی روشنی ہے جو معاشرے کی حقیقی تشکیل کا پہلا اور سب سے اہم قدم ہے۔یوں تعلیم دراصل وہ مشعل ہے جسے تھام کر انسان قوموں کی اندھیری گھاٹیوں سے روشنی کی وادیوں کی طرف بڑھتا ہے۔ جب یہ مشعل بجھ جائے تو دلوں میں جہالت کے اندھیرے چھا جاتے ہیں اور معاشرے میں ظلم، ناانصافی اور انتشار اپنے پنجے گاڑ لیتے ہیں۔ لیکن جہاں تعلیم کی کرنیں پھیلتی ہیں، وہاں امید کا سویرا طلوع ہوتا ہے، انسانیت پروان چڑھتی ہے اور تہذیب اپنی معراج کو پہنچتی ہے۔
تعلیم کی سب سے بڑی قوت یہ ہے کہ یہ انسان کے فکر و نظر کو جمود سے نکال کر تنقیدی صلاحیت اور تحقیق کا ذوق عطا کرتی ہے۔ وہ معاشرے جو سنی سنائی باتوں پر اکتفا کرتے ہیں ہمیشہ پسماندگی کا شکار رہتے ہیں، مگر تعلیم یافتہ معاشرے سوال اٹھاتے ہیں، دلیل ڈھونڈتے ہیں اور حقیقت کو پرکھ کر آگے بڑھتے ہیں۔ یہی عمل ان کے لیے ترقی و کامیابی کا زینہ بن جاتا ہے۔علم کے فیوض میں سب سے روشن پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کے دل و دماغ میں تحقیق اور جستجو کی آگ روشن کرتا ہے۔ یہ محض رٹنے والا طوطا بنانے کے بجائے حقیقت تک رسائی کا ہنر سکھاتا ہے اور اسی سوچ سے نئے نظریات، حیرت انگیز ایجادات اور سائنسی ترقی جنم لیتی ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ تمام انکشافات اسی جستجو کے مرہونِ منت ہیں۔
جہاں تعلیم کا چراغ جلتا ہے وہاں تنگ نظری، تعصب اور انتہا پسندی کی تاریکیاں مٹ جاتی ہیں اور ان کی جگہ وسعتِ نظر، برداشت اور ہم آہنگی لے لیتی ہے ۔ تنقیدی فکر کا یہی تحفہ انسان میں یہ جرأت پیدا کرتا ہے کہ وہ مسائل کو مختلف زاویوں سے دیکھ سکے۔درحقیقت یہی سوچ ہر معاشرتی اور سائنسی ترقی کی بنیاد ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے اسی روشنی کے سہارے دنیا کو نئے راستے دکھائے، پرانے مسائل کا حل تراشا اور ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ سمیت علوم کے ہر میدان میں معراج حاصل کی۔
یہ حقیقت ہے کہ تعلیم کا مقصد محض علوم کا ذخیرہ جمع کرنا نہیں بلکہ انسان کو ایک بااخلاق، مہذب اور متوازن شخصیت میں ڈھالنا ہے۔ تعلیم وہ روشنی ہے جو فرد کے دل میں نیکی، محبت، عدل اور رحم کے چراغ روشن کرتی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ مگر بے کردار شخص معاشرے کے لیے خیر نہیں بلکہ فتنہ ثابت ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تعلیم کی اصل روح کردار سازی ہے، جو انسان کو اپنی ذات سے بلند کر کے دوسروں کا خیرخواہ اور معاشرے کا ستون بناتی ہے۔جب فرد علم کے ساتھ اخلاق کا پیکر بنتا ہے تو معاشرے میں برداشت، بھائی چارہ اور سکون پروان چڑھتا ہے اور یہی معاشرتی ترقی کا زینہ ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ اقوام کی عظمت مادی وسائل سے نہیں بلکہ اخلاقی اقدار سے قائم ہوئی۔ اس سفر میں استاد چراغِ راہ ہے جو نہ صرف علم سکھاتا ہے بلکہ کردار کی آبیاری بھی کرتا ہے۔ قرآنِ مجید کی رہنمائی ہے۔ ’’نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کی مدد کرو اور گناہ اور زیادتی پر تعاون نہ کرو‘‘۔
یہی پیغام ظاہر کرتا ہے کہ حقیقی تعلیم وہ ہے جو انسان کو اخلاق اور کردار کی بلندیوں سے آشنا کرے اور اسے معاشرے کے لیے رحمت بنائے۔تعلیم کا بنیادی مقصد معاشرتی انصاف اور مساوات قائم کرنا ہے، جو ہر انسان کو اللہ کی مخلوق کی حیثیت سے برابر تسلیم کرتی ہے، جہاں رنگ، نسل یا قومیت کی بنیاد پر تفریق نہیں ہوتی۔ تعلیم سماجی ناہمواریوں کو کم کر کے فرد کو محنت اور قابلیت کی بنیاد پر کامیابی دیتی ہے اور سب کے لیے ترقی کے برابر مواقع فراہم کرتی ہے ۔ یہ شعور پیدا کرتی ہے کہ ہر شخص اپنے اور دوسروں کے حقوق کو پہچانے اور ان کا احترام کرے، جس سے معاشرے میں عدل و انصاف کا قیام ممکن ہوتا ہے ۔ تعلیم پر سرمایہ کاری مساوات پر مبنی ایسا معاشرہ تشکیل دیتی ہے جو امن، بھائی چارے اور خوشحالی کا ضامن ہوتا ہے۔ خاص طور پر خواتین کی تعلیم معاشرتی و اقتصادی ترقی کی رفتار کو دوگنا کر دیتی ہے۔یوں تعلیم عدل، مساوات اور عزت کی روشنی میں ایک ایسا معاشرہ تخلیق کرتی ہے جہاں ظلم، استحصال اور ناانصافی کی کوئی جگہ نہیں۔ یہی مساوات پر مبنی تعلیم بہترین معاشرتی امن کی ضمانت ہے۔
تعلیم نہ صرف فکری و اخلاقی ارتقاء بلکہ سائنسی و تکنیکی ترقی کی بنیاد بھی ہے۔ ترقی یافتہ قوموں کی کامیابی کا راز ان کے تعلیمی نظام اور تحقیق پر مبنی سوچ میں پوشیدہ ہے، جو علم و جستجو کے جذبے کو پروان چڑھاتی ہے۔ تعلیم نوجوانوں کو مسائل کے حل کے لیے نئے نظریات اور طریقے اپنانے کا حوصلہ دیتی ہے اور اسی کی بدولت عظیم سائنسی ایجادات اور انقلابات جنم لیتے ہیں۔جدید ٹیکنالوجی کے حصول میں تعلیم کا نہایت اہم کردار ہے، جو قوموں کو خود کفیل بنا کر بیرونی انحصار کو کم کرتی ہے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، روبوٹکس، مصنوعی ذہانت اور بایوٹیکنالوجی جیسے شعبے تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کر سکتے۔ تعلیم فرد کو منطقی اور تخلیقی سوچ عطا کرتی ہے، جو معاشرتی، ماحولیاتی اور اقتصادی مسائل کے حل میں رہنمائی فراہم کرتی ہے ۔تعلیم پر سرمایہ کاری مضبوط معیشت کی کنجی ہے۔ ترقی یافتہ اقوام نے اسی راز کو جانا ہے اور اپنی افرادی قوت کو ٹیکنالوجی کی ایجاد و استعمال میں مہارت دلائی ہے ۔ یوں تعلیم نہ صرف فرد بلکہ پوری قوم کی تقدیر بدلنے والی شمع ہے جو علمی انقلاب اور خوشحالی کی راہیں روشن کرتی ہے۔
اسلامی تاریخ میں عباسی دور کی علمی روشنی بے مثال ہے۔ اس کا مرکز ’’بیت الحکمت‘‘ تھا جہاں فلسفہ، سائنس، ریاضی اور طب میں غیر معمولی ترقی ہوئی۔ ابنِ سینا، الرازی، البیرونی اور ابن الہیثم جیسے عظیم سائنس دانوں نے اپنے تحقیقی جذبے سے دنیا کو نئی راہیں دکھائیں۔ یہ کامیابیاں تعلیم و تحقیق کے اس چراغ کی دلیل ہیں جو اسلامی تہذیب کی عظمت کا باعث بنا۔تعلیم تحقیق اور اختراع کا سرچشمہ ہے۔ وہی معاشرہ جو اسے فروغ دیتا ہے، خود کفیل اور مضبوط بن کر دنیا کی رہنمائی کا حق دار ٹھہرتا ہے۔ علم و ٹیکنالوجی میں مہارت ہی ترقی و خوشحالی کی اصل کنجی ہے۔
تعلیم کسی بھی قوم کی معاشی ترقی اور معاشرتی استحکام کی اصل بنیاد ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ نہ صرف فکری و سائنسی ارتقا پاتا ہے بلکہ انسانی وسائل کو مؤثر طریقے سے استعمال کر کے مضبوط اور خود کفیل معیشت قائم کرتا ہے۔ تعلیم فرد کو مہارت اور صلاحیت عطا کرتی ہے، جس کے ذریعے بہتر روزگار کے مواقع میسر آتے ہیں اور ملکی ترقی میں حصہ بڑھتا ہے۔فنی اور پیشہ ورانہ تعلیم جدید دور میں معیشت کی مضبوطی کے لیے ناگزیر ہے۔ یہ صنعتی، زرعی اور تجارتی شعبوں کو فروغ دیتی ہے ۔ تعلیم اور ہنر کا امتزاج ایک مستحکم اقتصادی نظام کی ضمانت ہے۔ تعلیم یافتہ معاشرہ سرمایہ کاری کے مواقع پیدا کرتا ہے، کاروباری منصوبے بہتر بناتا ہے اور عالمی سطح پر سرمایہ کاروں کو متوجہ کرتا ہے۔ مزید یہ کہ تعلیم غربت، بے روزگاری اور سماجی مسائل کو کم کر کے امن و خوشحالی کی فضا پیدا کرتی ہے۔یوں تعلیم وہ ستون ہے جس پر معاشی ترقی اور معاشرتی استحکام کی بنیاد قائم ہوتی ہے اور جس کی بدولت قومیں ترقی کے سفر پر گامزن رہتی ہیں۔
تعلیم محض فرد کی ذہنی و اخلاقی تربیت کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسی قوت ہے جو قوم کو وحدت اور ہم آہنگی کے رشتے میں پروتی ہے۔ یہ مساوات، عدل اور رواداری کا درس دے کر معاشرتی خلیج کو پاٹتی ہے اور اختلافات کو برداشت و سمجھ بوجھ کے ساتھ حل کرنے کی صلاحیت عطا کرتی ہے۔یہی تعلیم نوجوان نسل کو اپنی تاریخ، تہذیب اور ثقافت سے روشناس کر کے قومی تشخص کو مستحکم بناتی ہے اور مذہبی و اخلاقی اقدار کو جِلا بخشتی ہے۔ ایک باشعور قوم اسی علم کی بدولت امن و استحکام کی راہ اپناتی ہے، انتہا پسندی سے بچتی ہے اور اجتماعی ترقی کو اپنا مقصد بناتی ہے۔ تعلیم ہر سطح پر فرد کو بامقصد بنانے کے ساتھ پورے معاشرے کے اتحاد، امن اور ترقی کی ضمانت ہے۔
تعلیم کا اصل مقصد صرف علم کا حصول نہیں بلکہ شخصیت کو نکھار کر اعلیٰ اخلاق سے آراستہ کرنا ہے۔ حقیقی تعلیم وہی ہے جو فرد کو صحیح و غلط میں تمیز سکھائے، حقوق و فرائض کا شعور عطا کرے اور مثبت کردار کے ذریعے معاشرے میں تبدیلی لائے ۔اساتذہ کردار سازی کے محور ہوتے ہیں، جو اپنے عمل اور گفتار سے طلبہ میں اخلاقی قدریں پروان چڑھاتے ہیں۔ ایسی تعلیم ہی بااخلاق قیادت کو جنم دیتی ہے جو معاشرے کو ترقی کی راہ دکھانے کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر امن و انصاف کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ دراصل تعلیم کا مقصد انسان کو حقیقی معنوں میں انسان بنانا ہے اور وہی قوم حقیقی خوشحالی حاصل کرتی ہے جس کے افراد علم و اخلاق کے آئینے میں نکھرے ہوں۔
دنیا کی موجودہ ترقی اور جدیدیت کا سب سے بڑا سہرا تعلیم کو جاتا ہے۔ یہی تعلیم انسان کو سائنسی شعور عطا کرتی ہے، جس سے تجسس اور تحقیق جنم لیتے ہیں اور نئی ایجادات وجود میں آتی ہیں۔ خلائی سائنس، طب، انجینئرنگ اور انفارمیشن ٹیکنالوجی میں حاصل کی گئی شاندار کامیابیاں اسی حقیقت کی عکاس ہیں۔اعلیٰ تعلیمی ادارے تحقیق کے وہ مراکز ہیں جہاں سے نئی ایجادات اور ٹیکنالوجیز جنم لیتی ہیں جو صنعت و تجارت کو سہارا دے کر معیشت کو مستحکم کرتی ہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے دنیا کو ’’عالمی گاؤں‘‘ میں بدل دیا ہے اور طب کے میدان میں ویکسینز اور جدید علاج نے زندگی کو آسان اور محفوظ بنا دیا ہے۔
تعلیم ہی وہ قوت ہے جس نے انسان کو ترقی کی بلندیاں عطا کیں اور دنیا کو بہتر مستقبل کی طرف گامزن کر دیا۔ یہ انسان کی فکری و عملی زندگی کی سب سے بڑی طاقت ہے۔ یہی وہ سرچشمہ ہے جس سے علم، شعور اور اخلاقی بصیرت پھوٹتی ہے۔ تعلیم انسان کو کائنات کے بھید جاننے، نئی ایجادات کرنے اور زندگی کو سہل و خوشگوار بنانے کی صلاحیت دیتی ہے۔جس معاشرے میں تعلیم کو اولین حیثیت دی جائے، وہی معاشرہ ترقی، خوشحالی اور عظمت کے اعلیٰ مقام پر فائز ہوتا ہے۔ تعلیم ایک مہذب معاشرے کی بنیاد ہے۔ یہ فرد کو مثبت فکر اور ذمہ دار شہری بناتی ہے۔ تعلیم کی طاقت ہی جہالت، غربت اور پسماندگی کے اندھیروں کو مٹا کر ترقی، روشنی اور خوشحالی کا نیا دور لاتی ہے۔ یہی علم انسان کو برداشت، رواداری اور انصاف کے اصول سکھاتا ہے اور اسی سے ایک ایسا صالح معاشرہ وجود میں آتا ہے جہاں افراد باہمی اخوت اور ہم آہنگی کے ساتھ زندگی گزارتے ہیں۔
تاریخ گواہ ہے کہ وہی قومیں دنیا کی قیادت اور سائنسی ترقی میں صفِ اوّل پر رہیں جنہوں نے تعلیم کو اپنی حقیقی ترجیح بنایا۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی، طب، انجینئرنگ اور خلائی علوم میں جو انقلابی پیش رفتیں ممکن ہوئیں، وہ اسی وجہ سے ہیں کہ اقوام نے تعلیم اور تحقیق کے چراغ روشن رکھے۔ یہی علم فاصلے مٹا کر دنیا کو ایک’’عالمی گاؤں‘‘ میں بدل دیتا ہے، بیماریوں پر قابو پانے میں مددگار ہوتا ہے اور انسانی زندگی کو بہترین سہولتوں سے آراستہ کرتا ہے۔
اسلام نے بھی تعلیم کو ایمان کے بعد بلند ترین درجہ عطا کیا ہے۔ رسول اکرم ﷺ کا یہ ارشاد کہ ’’علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور عورت پر فرض ہے‘‘۔
تعلیم محض دنیاوی کامیابی کا ذریعہ نہیں بلکہ ایک ایسا آلہ ہے جو انسان کو انسانیت کی خدمت، کردار سازی اور اخلاقی ارتقا کے اعلیٰ درجے تک لے جاتا ہے۔ یہ وہ آئینہ ہے جس میں فرد اپنی اصل پہچان دیکھتا ہے اور اپنی ذات کے ساتھ قوم و ملت کی تعمیر کا فریضہ بھی انجام دیتا ہے۔ دراصل تعلیم ہی وہ بنیاد ہے جس کے بغیر کوئی قوم ترقی یافتہ اور مہذب معاشرت کی دعویدار نہیں بن سکتی۔ یہی چراغِ ہدایت ہے جو منزل کا تعیّن کرتا ہے، عظمت کی راہیں روشن کرتا ہے اور فلاحِ انسانیت کی ضمانت بنتا ہے۔ یوں کہا جا سکتا ہے کہ ایک مہذب معاشرے کی تشکیل، اس کی اخلاقی بلندی اور اس کے روشن مستقبل کی عمارت صرف اور صرف تعلیم کے زینے پر استوار ہوتی ہے۔