از:.۔ڈاکٹر نفیس فاطمہ اے ایچ،لکچرر، جامعہ کوئمپو مطالعہ و تحقیق، سہیادری کالج کیمپس، شیموگہ

کسی بھی معاشرے کی ترقی، استحکام اور پائیداری میں مرد و زن دونوں کا برابر کا حصہ ہوتا ہے۔ انسانی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ معاشرتی تشکیل اور تہذیبی ارتقا کسی ایک صنف کے سہارے ممکن نہیں۔ مرد اور عورت دونوں گاڑی کے دو پہیوں کی مانند ہیں۔ اگر کسی ایک پہیے کو نظرانداز کر دیا جائے تو ترقی کا سفر ادھورا رہ جاتا ہے۔ چوں کہ خواتین دنیا کی نصف آبادی پر مشتمل ہیں، اس لیے ان کا کردار کسی طور بھی نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
تعلیم میں خواتین کا کردار کسی بھی مہذب اور ترقی یافتہ معاشرے کا پہلا زینہ تعلیم ہے۔ اگر عورت کو تعلیم سے محروم رکھ دیا جائے تو گویا آنے والی نسلوں کو جہالت کے اندھیروں کے حوالے کر دیا گیا۔ ایک تعلیم یافتہ عورت نہ صرف اپنے گھر بلکہ پورے معاشرے کو شعور، آگہی اور اخلاقی اقدار عطا کرتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے کہ’’اگر تم ایک مرد کو تعلیم دیتے ہو تو تم ایک فرد کو تعلیم دیتے ہو، لیکن اگر تم ایک عورت کو تعلیم دیتے ہو تو پورے خاندان کو تعلیم دیتے ہو‘‘۔
خواتین معاشی ترقی میں بھی لازوال کردار ادا کرتی ہیں۔ آج کے جدید دور میں خواتین طب، تدریس، انجینئرنگ، سائنس، بزنس اور دیگر شعبہ جات میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا رہی ہیں۔ کئی ممالک کی معیشتیں خواتین کی محنت اور شمولیت کے بغیر ممکن ہی نہیں رہیں۔ معاشی خودمختاری نہ صرف عورت کو اعتماد بخشتی ہے بلکہ پورے خاندان کو خوشحالی کی طرف لے جاتی ہے۔
عورت سماجی سطح پر بھی بہترین کردار ادا کرتی ہے۔ وہ ایک ماں، بہن، بیٹی اور بیوی کی حیثیت سے خاندان کے رشتوں کو جوڑنے کا سبب بنتی ہے۔ علاوہ ازیں خواتین فلاحی سرگرمیوں میں بھی بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی ہیں، جیسے فلاحی ادارے، ہسپتال اور تعلیمی مراکز۔ ان کی ہمدردی، محبت اور نرمی معاشرتی فلاح و بہبود کو نئی جہت عطا کرتی ہے۔
سیاسی قیادت میں خواتین کی شمولیت ترقی یافتہ معاشرے کی تشکیل صرف اسی وقت ممکن ہے جب خواتین کو سیاسی قیادت میں بھی مردوں کے شانہ بشانہ مواقع دیے جائیں۔ سیاسی نظام میں خواتین کی نمائندگی نہ صرف معاشرتی توازن کو برقرار رکھتی ہے بلکہ پالیسی سازی میں عورتوں کے مسائل کو بھی اجاگر کرتی ہے۔ دنیا کی کئی مثالی قیادتیں خواتین کے حصے میں آئی ہیں جنہوں نے سیاسی بصیرت، جرات اور حکمت عملی کے ذریعے اپنے ممالک کو ترقی کی راہوں پر گامزن کیا۔ ترقی یافتہ معاشرے کی تعمیر اور خوشحالی عورت کے فعال کردار کے بغیر ناممکن ہے۔ تعلیم، معاشیات، سماجیات اور سیاست کے میدانوں میں خواتین کی مساوی شمولیت ہی وہ بنیاد ہے جس پر ایک روشن، مستحکم اور جدید معاشرہ کھڑا ہوتا ہے۔ اگر عورت کو نظرانداز کر دیا جائے تو ترقی کا خواب ادھورا ہی رہ جائے گا۔
تعلیم یافتہ خواتین کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی بنیاد سمجھی جاتی ہیں۔ تعلیم ایک ایسا چراغ ہے جو فرد اور خاندان دونوں کو جہالت کے اندھیروں سے نکال کر شعور و آگہی کی روشنی عطا کرتا ہے۔ جب عورت تعلیم حاصل کرتی ہے تو وہ صرف اپنی ذات تک محدود نہیں رہتی بلکہ اپنے خاندان، معاشرے اور آئندہ نسلوں پر بھی مثبت اثر ڈالتی ہے۔ایک تعلیم یافتہ ماں اپنے بچوں کی پہلی درسگاہ ہوتی ہے۔ وہ انہیں صرف کتابی علم نہیں دیتی بلکہ عملی زندگی کے تجربات، اخلاقی اقدار، انسانی ہمدردی، برداشت اور مثبت رویوں کی بھی تعلیم دیتی ہے۔ اس کی گود سے ایسے بچے پروان چڑھتے ہیں جو مستقبل میں معاشرے کے باوقار، باشعور اور باکردار شہری بنتے ہیں۔ کہا جا سکتا ہے کہ ایک تعلیم یافتہ ماں دراصل ایک مکمل نسل کو تعلیم یافتہ بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔
تعلیم یافتہ خواتین گھریلو امور کو زیادہ منظم طریقے سے انجام دیتی ہیں، بہتر فیصلے کرنے کی صلاحیت رکھتی ہیں اور وقت و وسائل کو بہترین انداز میں استعمال کرتی ہیں۔ یہی قابلیت انہیں نہ صرف ایک اچھی ماں اور بیوی بناتی ہے بلکہ ایک فعال سماجی کارکن، بہترین پیشہ ور اور ذمہ دار شہری بھی ثابت کرتی ہے۔
اسی طرح جب خواتین کو تعلیم اور تربیت کے مواقع فراہم کیے جاتے ہیں تو وہ مختلف پیشوں میں آگے بڑھ کر ملک و قوم کی ترقی میں براہِ راست حصہ لیتی ہیں۔ تدریس، طب، سائنس، فنون اور ٹیکنالوجی جیسے شعبوں میں خواتین کی شرکت اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کی صلاحیتیں کسی بھی لحاظ سے مردوں سے کم نہیں۔
تعلیم یافتہ خواتین کی موجودگی ایک ایسے معاشرے کی ضمانت ہے جو نہ صرف معاشی اور سائنسی اعتبار سے ترقی یافتہ ہو بلکہ اخلاقی، تہذیبی اور انسانی قدروں کے لحاظ سے بھی مثالی ہو۔ یہی وجہ ہے کہ کہا جاتا ہے:
"اگر آپ ایک مرد کو تعلیم دیتے ہیں تو صرف ایک فرد تعلیم یافتہ ہوتا ہے، لیکن اگر آپ ایک عورت کو تعلیم دیتے ہیں تو پوری نسل تعلیم یافتہ ہو جاتی ہے۔”
یہ قول دراصل خواتین کی تعلیم کی اہمیت اور اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ مرد کی تعلیم یقیناً معاشرے کے لیے مفید ہے، لیکن اس کا دائرہ اثر زیادہ تر اس کی اپنی ذات اور پیشہ ورانہ زندگی تک محدود رہتا ہے۔ وہ اپنی محنت اور علم کے ذریعے اپنے خاندان کو سہارا دیتا ہے اور معاشی طور پر مضبوط بناتا ہے۔لیکن جب ایک عورت تعلیم یافتہ ہوتی ہے تو اس کا اثر صرف اس کی ذات تک محدود نہیں رہتا، بلکہ یہ اثر کئی نسلوں تک پھیلتا ہے۔ عورت ماں بن کر اپنی تعلیم، تربیت اور تجربات کو اپنی اولاد تک منتقل کرتی ہے۔ وہ بچوں کی پہلی استاد ہوتی ہے، ان کے کردار سازی، اخلاقی تربیت، سوچنے سمجھنے کی صلاحیت اور سماجی شعور کو پروان چڑھاتی ہے۔ اس طرح ایک تعلیم یافتہ ماں اپنی گود سے ایک تعلیم یافتہ اور باشعور نسل تیار کرتی ہے جو پورے معاشرے کے روشن مستقبل کی ضمانت بن جاتی ہے۔ مرد کی تعلیم سے فرد یا زیادہ سے زیادہ خاندان مستفید ہوتا ہے، لیکن عورت کی تعلیم پورے معاشرے اور آئندہ نسلوں کے لیے روشنی اور ترقی کا باعث بنتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ مقولہ حقیقت پر مبنی اور ہر دور کے لیے قابلِ عمل ہے۔
جدید دور میں خواتین نے اپنی قابلیت اور صلاحیت کو دنیا کے ہر میدان میں منوایا ہے ۔ وہ صرف گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ طب، تدریس، سائنس، انجینئرنگ، انفارمیشن ٹیکنالوجی، فنونِ لطیفہ، میڈیا، کھیلوں اور سیاست تک اپنی موجودگی اور کارکردگی سے یہ ثابت کر چکی ہیں کہ وہ کسی بھی شعبے میں مردوں سے کم نہیں۔
طب کے شعبے میں خواتین ڈاکٹر اور نرسز اپنی خدمات کے ذریعے انسانی جانوں کو بچانے اور معاشرے کو صحت مند بنانے میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔ تدریس کے میدان میں وہ نئی نسل کو نہ صرف تعلیم دے رہی ہیں بلکہ ان کی ذہنی و اخلاقی تربیت بھی کر رہی ہیں۔ سائنس اور ٹیکنالوجی میں خواتین کی شمولیت نے تحقیق، ایجادات اور تخلیقی کاموں کو نئی جہت بخشی ہے، جبکہ انفارمیشن ٹیکنالوجی کے میدان میں خواتین سافٹ ویئر انجینئرز، ڈیٹا اینالسٹس اور پروگرامرز کے طور پر عالمی معیشت میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
سیاست میں خواتین کی شمولیت فیصلہ سازی کے عمل کو متوازن بناتی ہے اور خواتین کے مسائل کو بہتر انداز میں سامنے لانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ان کی موجودگی جمہوریت کو مزید مستحکم کرتی ہے اور معاشرے میں مساوات کے اصول کو فروغ دیتی ہے۔خواتین کی یہ شمولیت نہ صرف معاشی سرگرمیوں کو بڑھاتی ہے بلکہ قومی پیداوار میں اضافہ کر کے معیشت کو مستحکم بناتی ہے۔ ایک فعال اور تعلیم یافتہ خاتون جب عملی میدان میں قدم رکھتی ہے تو وہ اپنی محنت، جدوجہد اور تخلیقی سوچ کے ذریعے ملک کی ترقی میں براہِ راست حصہ ڈالتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن معاشروں نے خواتین کو آگے بڑھنے کے مواقع فراہم کیے ہیں، وہ آج دنیا میں ترقی اور خوشحالی کی اعلیٰ مثالیں بنے ہوئے ہیں۔خواتین کی شرکت محض رسمی یا ثانوی حیثیت نہیں رکھتی بلکہ یہ کسی بھی معاشرے کے ترقی یافتہ اور پائیدار ہونے کی بنیادی شرط ہے۔
خواتین معاشرتی سطح پر رفاہی، تعلیمی اور صحت سے متعلق خدمات میں کلیدی کردار ادا کر رہی ہیں۔ ان کی سرگرمیاں محض رسمی نہیں بلکہ معاشرتی ڈھانچے کو مستحکم بنانے اور انسانی فلاح و بہبود کو یقینی بنانے میں بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔
اسلامی تعلیمات میں بھی خواتین کے فعال کردار کو بڑی اہمیت دی گئی ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے،واَلْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ، يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ(التوبہ71)یعنی مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے مددگار ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں اور برائی سے روکتے ہیں۔ اس آیت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے خواتین کو بھی مردوں کے برابر معاشرتی اصلاح اور بھلائی میں کردار ادا کرنے کا حق اور ذمہ داری دی ہے۔
رفاہی میدان میں خواتین یتیم خانوں، فلاحی تنظیموں، این جی اوز اور کمیونٹی مراکز کے ذریعے ضرورت مندوں کی مدد کر رہی ہیں۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا۔
"میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے۔”
اور آپ نے اپنی دو انگلیاں ملا کر دکھائیں (صحیح بخاری)۔ اس حدیث کی روشنی میں خواتین کی طرف سے یتیموں اور بے سہارا افراد کی مدد دراصل عظیم دینی خدمت ہے۔ دنیا بھر میں بھی خواتین رفاہی اداروں میں اپنی خدمات پیش کر کے معاشرتی مساوات اور ہمدردی کو فروغ دے رہی ہیں۔ مثال کے طور پر مدر ٹریسا نے اپنی پوری زندگی غریبوں اور بیماروں کی خدمت کے لیے وقف کر دی، جس کی بدولت وہ عالمی سطح پر انسانیت کی خدمت کی علامت بن گئیں۔
تعلیمی شعبے میں خواتین نہ صرف معلمہ کی حیثیت سے نئی نسل کی تربیت کر رہی ہیں بلکہ تعلیمی اداروں کی ترقی اور تعلیمی منصوبوں کی تکمیل میں بھی اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔ ابتدائی اسلام میں حضرت عائشہ صدیقہؓ کو علم و دانش کا مرکز مانا جاتا ہے، جنہوں نے ہزاروں احادیث روایت کیں اور تعلیم و تربیت کے ذریعے امت کی رہنمائی کی۔ اسی طرح موجودہ دور میں ملالہ یوسفزئی جیسی شخصیات خواتین کی تعلیم اور حقوق کے حوالے سے عالمی سطح پر تحریک بن چکی ہیں۔ دیہی اور پسماندہ علاقوں میں خواتین اساتذہ کی موجودگی بچیوں کی تعلیم کو فروغ دیتی ہے، جس سے معاشرے میں شعور اور آگہی کی نئی راہیں کھلتی ہیں۔
صحت کے میدان میں خواتین ڈاکٹرز، نرسز اور لیڈی ہیلتھ ورکرز اپنی خدمات کے ذریعے انسانی زندگیوں کو سہارا دیتی ہیں۔ اسلام میں نبی اکرم ﷺ کے دور میں حضرت رفیدہؓ اور حضرت اُمّ عطیہؓ جیسی خواتین طبابت اور زخمیوں کی مرہم پٹی کے فرائض سرانجام دیتی تھیں۔ آج عالمی سطح پر خواتین نرسنگ اور میڈیکل کے شعبوں میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق، دنیا میں بنیادی صحت کی فراہمی میں خواتین نرسوں اور دائیوں کا کردار 70 فیصد سے زیادہ ہے، جو انسانی جانوں کو سہارا دینے میں ان کی اہمیت کو واضح کرتا ہے۔
یہ تمام خدمات دراصل معاشرتی مساوات، ہمدردی، تعاون اور فلاح کے اصولوں کو زندہ رکھتی ہیں۔ ایک ایسا معاشرہ جہاں خواتین رفاہی و سماجی سرگرمیوں میں بھرپور حصہ لیتی ہیں، وہاں محروم طبقات کو سہارا ملتا ہے، کمزوروں کی آواز سنی جاتی ہے اور انسانی قدروں کو تقویت ملتی ہے۔ یہی خصوصیات کسی بھی ترقی یافتہ اور مہذب معاشرے کی پہچان ہیں اور یہی اسلامی تعلیمات اور عالمی اقدار کا مشترکہ پیغام بھی ہے۔
خواتین گھر اور سماج دونوں میں اخلاقی قدروں کی علمبردار ہیں۔ ان کا کردار خاندان کے استحکام اور سماجی ڈھانچے کی مضبوطی میں فیصلہ کن ہے۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے: "وَعَاشِرُوهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ” (النساء: 19) یعنی عورتوں کے ساتھ بھلائی اور بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اس ہدایت سے ظاہر ہوتا ہے کہ اسلام نے عورت کو گھر اور معاشرے دونوں سطحوں پر عزت و احترام کا درجہ دیا ہے۔ اگر عورت کو اس کے جائز مقام پر فائز کیا جائے تو معاشرہ بدعنوانی، جہالت اور پسماندگی کے اندھیروں سے نکل کر ترقی کی راہوں پر گامزن ہو سکتا ہے۔
نبی کریم ﷺ نے فرمایا،تم میں سب سے بہتر وہ ہے جو اپنے اہل و عیال کے لیے بہتر ہے، اور میں اپنے اہل و عیال کے لیے سب سے بہتر ہوں۔(ترمذی)۔
یہ تعلیم اس حقیقت کی روشن دلیل ہے کہ خواتین کا کردار محض گھریلو ذمہ داریوں تک محدود نہیں بلکہ وہ اخلاقی اقدار، محبت، صبر اور ایثار کے ذریعے خاندان کی جڑوں کو مضبوط کرتی ہیں، جو پورے معاشرتی نظام کی بنیاد ہے۔
عالمی سطح پر بھی خواتین کی مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔ مدر ٹریسا نے اپنی شفقت اور خدمتِ خلق کے ذریعے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ عورت کی ہمدردی اور ایثار معاشرتی بیماریوں کا علاج بن سکتے ہیں۔ اسی طرح نوبل انعام یافتہ ملالہ یوسفزئی نے تعلیم کے ذریعے بچیوں کو جہالت سے نجات دلانے کی جدوجہد کی اور یہ ثابت کیا کہ عورت اگر تعلیم اور اخلاقی شعور کی نمائندہ ہو تو معاشرہ تاریکیوں سے روشنی کی طرف بڑھ سکتا ہے۔
اسلامی تاریخ میں بھی حضرت خدیجہؓ اور حضرت فاطمہؓ جیسے کردار خواتین کی عظمت کے روشن مینار ہیں۔ حضرت خدیجہؓ نے رسول اکرم ﷺ کے مشن کو اپنے اخلاق، مال اور حوصلے سے سہارا دیا جبکہ حضرت فاطمہؓ کی سادگی، ایثار اور تقویٰ آج بھی خاندان اور سماج کے لیے مثالی درس ہیں۔عورت دراصل اخلاقی اقدار کی امین ہے۔ جب وہ اپنے کردار کو پوری آزادی، عزت اور وقار کے ساتھ نبھاتی ہے تو معاشرہ ناانصافی اور پسماندگی کی تاریکیوں سے نکل کر امن، ترقی اور روشنی کی راہوں پر چلنے لگتا ہے۔آج کی دنیا میں خواتین نہ صرف عوامی نمائندہ اداروں بلکہ عالمی سطح پر بھی قیادت کے مناصب پر فائز ہو کر اپنی صلاحیتوں کو منوا رہی ہیں۔ ان کی شمولیت جمہوری اقدار کو فروغ دیتی ہے اور فیصلہ سازی کے عمل میں توازن پیدا کرتی ہے۔
اسلامی تاریخ اس حقیقت کی شاہد ہے کہ خواتین نے سماجی اور سیاسی سطح پر ہمیشہ فعال کردار ادا کیا۔ قرآن مجید میں ملکہ سبا(بلقیس)کا ذکر آتا ہے، جس نے حکمت، مشاورت اور انصاف کے ساتھ اپنی سلطنت کو استحکام بخشا(النمل23-44)۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے باوجود عورت دانش مندی اور تدبر سے قوم کو ترقی کی راہوں پر گامزن کر سکتی ہے۔
رسول اکرم ﷺ کے زمانے میں خواتین سماجی اور سیاسی مشاورت میں شریک ہوتی تھیں۔ بیعتِ عقبہ اور دیگر مواقع پر خواتین نے نہ صرف اسلام کو قبول کیا بلکہ سماجی و دینی معاملات میں اپنے عزم اور کردار کا ثبوت دیا۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہؓ کو علمی اور سیاسی رہنمائی کے حوالے سے مرکزی حیثیت حاصل تھی، ان کے فیصلوں اور آراء سے بڑے بڑے صحابہ کرامؓ رہنمائی لیتے تھے۔
عالمی سطح پر بھی خواتین کی قیادت کی مثالیں نمایاں ہیں۔ (اندرا گاندھی) ہندوستان (بینظیر بھٹو(پاکستان، مارگریٹ تھیچر(برطانیہ،)شیخ حسینہ(بنگلہ دیش اور (جیسنڈا آرڈرن(نیوزی لینڈ جیسی خواتین رہنماؤں نے نہ صرف اپنے ملکوں کی سیاست کو نئی جہتیں دیں بلکہ عالمی سطح پر بھی اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو تسلیم کروایا۔ ان کی شمولیت نے یہ ثابت کیا کہ فیصلہ سازی میں خواتین کی موجودگی بہتر حکمتِ عملی، نرمی اور انسانی ہمدردی کو فروغ دیتی ہے۔خواتین جب سیاسی و سماجی قیادت میں شامل ہوتی ہیں تو وہ نہ صرف جمہوری اقدار کو تقویت بخشتی ہیں بلکہ انصاف، تعاون اور انسانی وقار کی اقدار کو بھی پروان چڑھاتی ہیں، جو کسی بھی کامیاب اور ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد ہیں۔
ترقی یافتہ معاشرے کی بنیاد اس وقت تک مستحکم اور مکمل نہیں ہو سکتی جب تک خواتین کو اپنی صلاحیتوں کے اظہار اور خدمات کی ادائیگی کے برابر مواقع نہ ملیں۔ تعلیم ہو یا روزگار، سیاست ہو یا سماجی خدمات—ہر میدان میں خواتین کی فعال شمولیت دراصل ایک روشن مستقبل کی ضمانت ہے۔
خواتین کا کردار محض گھریلو زندگی کی چار دیواری تک محدود نہیں، بلکہ وہ معیشت کے استحکام، سائنسی ایجادات کی جستجو اور سماجی ڈھانچے کی مضبوطی میں بھی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اگر وہ معلمہ ہیں تو نسلوں کی فکری آبیاری کر رہی ہیں، اگر طبیبہ ہیں تو زندگیوں کو سہارا دے رہی ہیں، اگر رہنما ہیں تو عوامی شعور کو بیدار کر رہی ہیں، اور اگر سماجی کارکن ہیں تو محروموں اور پسے ہوئے طبقات کے لیے امید کی کرن بن رہی ہیں۔ان کی شرکت نہ صرف معاشرے کو مادی خوشحالی عطا کرتی ہے بلکہ اس کے ساتھ اخلاقی اور تہذیبی قدروں کو بھی جلا بخشتی ہے۔ دراصل عورت ہی وہ وجود ہے جو محبت، صبر، قربانی اور ایثار کی خوشبو سے معاشرے کو مہکا دیتی ہے۔ وہی ہاتھ جو لوری دیتا ہے، وہی ہاتھ انقلاب برپا کرنے کی قوت بھی رکھتا ہے۔
یوں کہا جا سکتا ہے کہ وہی معاشرہ حقیقی معنوں میں ترقی یافتہ اور پائیدار کہلانے کا حق دار ہے جہاں خواتین کو برابری کے ساتھ آگے بڑھنے کا موقع دیا جائے، جہاں ان کی آواز سنی جائے اور ان کی صلاحیتوں کو پہچان کر اجتماعی ترقی میں شامل کیا جائے۔ بصورتِ دیگر ترقی کے تمام دعوے ادھورے اور کھوکھلے رہ جائیں گے۔
