ٹوٹتے رشتے کی آخری دستک۔۔۔!

مضامین
از:۔مفتی اشفاق قاضی. بانی و ڈاریکٹر فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر
’’کہانیاں ہمارے آس پاس ہی بکھری ہوئی ہیں۔۔۔ وہ گھر، جہاں کبھی قہقہے گونجتے تھے، اچانک چیخ و پکار اور خاموشی کا شکار ہو جاتے ہیں۔۔۔وہ رشتے، جن کی بنیاد محبت، اعتبار اور قربانی پر رکھی گئی تھی، کب اور کیسے شکوک، الزامات اور نفرت کی دہلیز پر آن پہنچتے ہیں، کوئی نہیں جانتا۔لیکن یہ سلسلہ اُن کہانیوں کا نہیں جن میں رشتے ٹوٹ گئے۔۔۔بلکہ ان کہانیوں کا ہے جہاں رشتے ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گئے۔ان کہانیوں کو ہم فرضی ناموں اور شناخت کی مکمل رازداری کے ساتھ، آپ کے سامنے رکھیں گے تاکہ یہ کہانیاں محض دردناک وعبرت آموز نہ ہوں، بلکہ سبق آموز اور دلوں کو جوڑنے والی بن جائیں‘‘۔
۷ دسمبر ۲۰۲۲ کی وہ دوپہر، جب ایک پریشان حال شوہر دارالافتاء والإرشاد جامع مسجد بمبئی کے دروازے پر دستک دیتا ہے۔ اس کی پیشانی پر فکرمندی کی لکیریں اور لہجے میں تھکن صاف محسوس ہورہی تھی ۔ فیاض عبدالرحمان صالح (فرضئ نام) نیرول نوی ممبئی کے رہائشی، اپنی ازدواجی زندگی کے بکھرتے ہوئے دھاگوں سے تنگ آکر اسے ختم کرنے کےلیے یہاں آئے تھے۔ فیاض نے بتایا کہ ۲۰۱۶ میں ان کا نکاح ہوا۔ ابتدا ہی سے ان کی بیوی بار بار مائیکے جاتی اور ہر بار زخموں کے کچھ اور نشانات چھوڑ جاتی۔ شوہر کی حیثیت، گھر کی معاشی حالت، اور خاندانی وقار پر طنز و طعن، اس کی مستقل شکایتیں تھیں۔ وہ بیوی جو کبھی مجازی خدا کی عزت کرتی، آج اونچی آواز میں تذلیل کرتی ہے۔ چارسالہ بیٹی بھی ہے، مگر بیوی اسے مائیکے لے جاتی ہے اور رابطے کے تمام دروازے بند کر دیتی ہے۔فیاض نے تنگ آکر کہا ۔۔بس! اب علاحدگی ہی واحد راستہ ہے۔فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کے کاؤنسلر نے نرمی اور حکمت سے سمجھایا کہ خلع و طلاق آخری چارہ نہیں، خاص طور پر جب اس رشتے میں ایک ننھی جان شامل ہو چکی ہو۔ بچہ ماں باپ کے درمیان مستقل ربط کی صورت ہوتا ہے، چاہے والدین دنیا کے دو کناروں پر کیوں نہ ہوں، بہرحال ان دونوں سے حسب ضابطہ تمام باتیں تحریرا طلب کیں گئیں جو ان دونوں نے پیش کیں اور پھر ۱۳ دسمبر کو دوسری نشست فون پر ہوئی اور اس درمیان لڑکی سے بھی بات کی گئی، پھر ۱۶ دسمبر کو لڑکے سے بات کی گئی اور ۲۴ جنوری کو لڑکی کو اور انکے گھر والوں کو طلب کیاگیا چنانچہ ۲۴ جنوری کو بیوی ضیاء ساجد (فرضی نام) اپنے بھائیوں، خالہ، اور بہن کے ہمراہ حاضر ہوئیں۔ ان کی والدہ وفات پا چکی تھیں اور والد ازدواجی زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت کیا کرتے تھے، بہت کم ایسا ہوتا ہے جہاں والد بیٹی کی ازدواجی زندگی میں حد سے زیادہ مداخلت کرتے نظر آئے ۔ یہاں یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ شادی کے بعد مائیکے والوں، خاص طور پر والدہ کا بار بار فون کر کے بیٹی سے ربط رکھنا اور مسلسل مشورے دینا، اختلافات کو جنم دیتا ہے اس پہلو پر ادارے نے ویڈیو بھی بنایا ہے۔جس میں اس جانب رہنمائی کی گئی ہے بہرحال کاؤنسلنگ کے دوران بیوی کے مؤقف کو سنا گیا اس کی تحریر میں شوہر کی شکایات میں بدزبانی، چیخنا چلّانا، سخت کلامی، اور ذہنی اذیت جیسے شکوے شامل تھے۔ دوسری طرف شوہر نے ۱۳ دسمبر ۲۰۲۲ کو جو تفصیلی تحریر پیش کی تھی جس کا خلاصہ یہ کہ بیوی ناشکری کرتی ہے، ہر بات پر طعنہ دیتی ہے، اور شور و ہنگامہ اور بدتمیزی کرتی ہے۔ اس نے یہ بھی ذکر کیا کہ شادی بچانے کے لیے شوہر نے اور بھی مقامات سے کاؤنسلنگ بھی کروا چکے ہیں، مگر فائدہ نہ ہوا۔ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر میں ۲۹ دسمبر کو فریقین کو دوبارہ بلایا گیا یہاں شوہر نے بتایا کہ بیوی بار بار مائیکے جاتی ہے۔۔۔مائیکے والوں کی مستقل فون کالز ازدواجی معاملات میں دخل دیتے ہیں۔۔۔اپنی بچی کو غصے میں آکر حرامی تک کہہ دیتی ہے۔۔۔دوسری جانب بیوی کا بیان بھی کم سنگین نہ تھا کہ شوہر اور ان کے والد کی جانب سے گالیاں۔۔۔نند کی بار بار دخل اندازی۔۔۔طلاق کی دھمکیاں اور دوسری شادی کا عندیہ۔۔۔بیٹی کو نان نفقہ نہ دینا۔۔۔دوسری خواتین سے غیر ضروری بات چیت۔۔۔بیوی کے زیورات کو گروی رکھنا۔۔۔ یہ وہ نکات تھے جن پر نہ صرف توجہ دی گئی بلکہ ہر فریق کو شرعی اور سماجی بنیادوں پر سمجھایا گیاا ور ایک صلح نامہ تیار کیاگیا۔فریقین کو بتایا گیا کہ زندگی صرف تحریری معاہدوں سے نہیں چلتی، اصل کامیابی عملی زندگی میں برداشت، افہام و تفہیم، اور محبت سے حاصل ہوتی ہے۔ اس موقع پر فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کی خاتون کاؤنسلر گل ناز آپا نے لڑکی سے علیحدہ گفتگو کی، ہمارے یہاں نظام ہے کہ خواتین خواتین کو سمجھائے ان سے بات کرے کیونکہ خواتین کو خواتین ہی بہتر سمجھا سکتیں ہیں۔ یہی شرعی نظام بھی ہے۔ادارے کے مفتیانِ کرام بھی عندالضرورت سمجھاتے ہیں، بہرحال دونوں کو شریعت کے مطابق رہنمائی فراہم کی گئی ۔۔شوہر سے کہاگیا کہ بیوی کے حقوق کا خیال رکھے اور بیوی کو اپنے شوہر کے ادب کرنے کی نصیحت کی گئی اورالحمدللہ تمام مراحل کے بعد۲۴ جنوری ۲۰۲۳ کو وہ خوشگوار دن آیا جب صلح نے ازدواجی زندگی کی ڈور سنبھال لی، دونوں فریقین کے درمیان صلح نامہ تیار ہوا۔جس میں عہدوپیمان بھی درج تھا۔ جسے اتقاق رائے سے دونوں میاں بیوی عہد وفا کا وعدہ کرنے کا عزم کیا کہ دونوں ایک دوسرے کو سمجھتے ہوئے خوشگوار زندگی گزاریں گے ۔ اس طرح ایک ٹوٹتا ہوا گھر ٹوٹتے ٹوٹتے بچ گیا۔
’’یہ کوئی ایک واقعہ نہیں، ایسی کئی زندگیوں کے ٹوٹنے سے پہلے فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر کا کردار قدرتی بندھن کو بکھرنے سے بچا لیتا ہے۔ یہاں معاملات رازداری سے، ہمدردی سے، اور شریعت کے دائرے میں رہ کر حل کیے جاتے ہیں۔ مرد و زن کی علیحدہ کاؤنسلنگ، مسلسل نشستیں، اور فریقین کے گھر والوں کو شامل کر کے پورے خلوص کے ساتھ جو کوشش کی جاتی ہے، وہ نتائج خالص نیت کی گواہی دیتے ہیں۔یہی وہ جگہ ہے جہاں عدالت سے پہلے اصلاح ہوتی ہے۔۔۔اور طلاق سے پہلے صلح۔ یہاں بکھرتے رشتے جوڑنے کا ہنر ہے، اور دلوں کو جوڑنے والی باتیں کی جاتی ہیں۔ا گر آپ کے اردگرد بھی خاندانوں، بھائیوں، اداروں یا جوڑوں کے درمیان فاصلے بڑھتے جا رہے ہیں۔۔۔اگر طلاق، خلع، وراثت، مالی تنازعات یا ذہنی دباؤ کے معاملات میں زندگی الجھنوں کا شکار ہیں تو نفرت کی دیوار کھڑی کرنے سے پہلے، رشتہ توڑنے سے پہلے ایک بار فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر آکر دیکھیں یہاں قرآن و سنت کی روشنی میں ٹوٹتے رشتوں کو جوڑا جاتا ہے۔۔۔بھائیوں کے درمیان صلح کروائی جاتی۔۔۔ اداروں کے درمیان مفاہمت کی راہیں نکالی جاتی ہیں۔ اگر آپ بھی کسی آزمائش میں ہیں، یا جانتے ہیں کوئی ایسا خاندان یا ادارہ جو الجھنوں میں گھرا ہے ۔رابطہ کیجئے‘‘۔