منشیات کا سد باب۔ قوم کی بقا و ترقی کی ضمانت 

مضامین
از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038
 نوجوان کسی بھی قوم کی طاقت، امید اور مستقبل کے معمار ہوتے ہیں۔ ان کی صلاحیتیں اگر مثبت سمت میں بروئے کار آئیں تو وہ معاشرے کو ترقی کی نئی بلندیوں تک پہنچا سکتے ہیں، لیکن اگر یہی نوجوان گمراہی کی راہوں پر چل نکلیں تو تباہی اور بربادی یقینی ہے۔ آج ملت کے نوجوانوں میں نشہ اور جوا جیسی مہلک عادات کا فروغ ایک ایسا المیہ ہے جسے نظرانداز کرنا آنے والی نسلوں کے ساتھ کھلی زیادتی ہوگی۔ یہ برائیاں نہ صرف فرد کی زندگی کو برباد کرتی ہیں بلکہ پورے معاشرتی ڈھانچے کو کھوکھلا کر دیتی ہیں۔ نشہ آور اشیاء جیسے شراب، گانجہ، ہیروئن، نشہ آور گولیاں  وقتی سکون اور لذت کا دھوکا دے کر انسان کی صحت، عقل اور کردار کو دیمک کی طرح چاٹ لیتی ہیں۔ قرآن مجید نے شراب اور جوا دونوں کو‘‘رجسٌ من عمل الشیطان’’کہہ کر ان سے اجتناب کا حکم دیا ہے، لیکن افسوس کہ کچھ نوجوان اس الٰہی ہدایت سے غافل ہو کر اپنی زندگی کو بربادی کے دہانے پر لے جا رہے ہیں۔ اس کے نتیجے میں جگر، دل اور پھیپھڑوں کے امراض، دماغی کمزوری، یادداشت کی خرابی، فیصلہ کرنے کی صلاحیت کا خاتمہ اور اخلاقی پستی پیدا ہوتی ہے۔ گھر کا سکون غارت ہو جاتا ہے، والدین سے بدسلوکی اور مالی بحران جنم لیتے ہیں، اور بعض اوقات یہ حالات جرائم تک پہنچا دیتے ہیں۔ جوا اس سے کم خطرناک نہیں۔ یہ ایک ایسا فریب ہے جو آسان دولت کے خواب دکھا کر انسان سے اس کی محنت، حلال کمائی اور سکون چھین لیتا ہے۔
 نوجوان جب جوا کی لت میں مبتلا ہوتے ہیں تو ان کے اخلاقی معیار گر جاتے ہیں، قرض اور مالی نقصان ان کی زندگی کا حصہ بن جاتا ہے، معاشرتی بدنامی ان کا مقدر بنتی ہے، اور جرائم کی راہیں کھل جاتی ہیں۔ نفسیاتی دباؤ، مایوسی اور حتیٰ کہ خودکشی جیسے خطرناک رجحانات بھی انہی عادات کا نتیجہ ہیں۔یہ دونوں برائیاں اگرچہ الگ الگ ہیں، لیکن انجام ایک ہی ہے۔ زندگی کی بربادی، عزت کا زوال اور ملت کی بدنامی۔ ان کے سدباب کے لیے محض وعظ و نصیحت کافی نہیں، بلکہ ایک منظم، مربوط اور اجتماعی جدوجہد کی ضرورت ہے۔ سب سے پہلے دینی اور اخلاقی تربیت کو بچپن سے ہی زندگی کا حصہ بنایا جائے۔ قرآن و سنت کی تعلیم، نماز کی پابندی اور حلال و حرام کا شعور دلوں میں بٹھایا جائے۔ والدین کو چاہیے کہ اپنے بچوں کی صحبت، سرگرمیوں اور روزمرہ معمولات پر گہری نظر رکھیں اور محبت و شفقت کے ساتھ وقتاً فوقتاً ان کی رہنمائی کریں۔تعلیمی اداروں میں نشہ اور جوا کے نقصانات سے متعلق مستقل آگاہی پروگرام چلائے جائیں، ماہرینِ نفسیات، سماجی کارکنان اور علماء کو طلبہ سے براہِ راست گفتگو کے مواقع دیے جائیں۔ حکومت بھی اس میدان میں غفلت کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ نشہ آور اشیاء کی خرید و فروخت پر سخت ترین پابندی، جوا خانوں اور آن لائن جوا پلیٹ فارمز کے خاتمے اور اس کے کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف فوری  رد عمل وقت کی ضرورت ہے۔سب سے بڑھ کر، سماجی اور رفاہی تنظیموں کو اس جدوجہد میں عملی طور پر آگے آنا ہوگا۔ محض بیانات اور قراردادوں سے یہ برائیاں ختم نہیں ہوں گی۔ محلوں، گلی کوچوں اور برادری کی سطح پر نشہ و جوا کے خلاف مہمات چلائی جائیں، متاثرہ نوجوانوں کے علاج اور بحالی کے مراکز قائم کیے جائیں، اور ایسے افراد کو سماج میں یہ باور کرایا جائے کہ ان کے اعمال قابلِ قبول نہیں۔ سماجی تنظیمیں کھیلوں کے مقابلے، مطالعاتی نشستیں، فنونِ لطیفہ کی سرگرمیاں اور رضاکارانہ خدمت کے پروگرام منعقد کر کے نوجوانوں کی توانائی کو مثبت سمت میں لگا سکتی ہیں۔
ملت کے نوجوان ہمارا سرمایہ حیات ہیں۔ اگر وہ محفوظ، باشعور اور بامقصد رہیں تو نہ صرف اپنی زندگی سنوار سکتے ہیں بلکہ دین و ملت کے وقار میں اضافہ کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر ہم نے آج غفلت برتی تو آنے والی نسلیں ایسے اندھیروں میں جا گریں گی جہاں علم، اخلاق اور عزت کا چراغ بجھ جائے گا۔ اب وقت ہے کہ ہم سب  والدین، اساتذہ، حکومت، علماء اور سماجی تنظیمیں ۔ مل کر اس برائی کے خاتمے کے لیے عملی میدان میں اتریں، تاکہ ہمارے نوجوان ایک روشن، پاکیزہ اور بامقصد زندگی گزار سکیں، اور ملت کا مستقبل تابناک ہو۔
گزشتہ دنوں ادارہ فروغِ اردو، ہبلی کی ایک نشست میں، گفتگو کے دوران ضمنی طور پر منشیات فروشی کا ذکر آیا۔ یہ سن کر دل لرز اُٹھا کہ اس گھناؤنے دھندے میں ملوث عناصر اب اپنی ناپاک نظریں پرائمری اسکولوں کی طرف مرکوز کر
چکے ہیں۔ قوم و ملت کے نونہال ۔ جن کی عمریں محض دس یا بارہ برس ہیں، جن کے آگے زندگی کا طویل اور روشن سفر منتظر ہے — نادانستہ طور پر اس مکروہ جال میں جکڑے جا رہے ہیں۔یہ چنگاری، اگر بروقت نہ بجھائی گئی، ایک دن بھڑکتا ہوا شعلہ بن کر ان کے وجود کو راکھ کر ڈالے گی اور ان کے خوابوں کو جلا کر خاکستر کر دے گی۔ ایسے میں اساتذہ اور انتظامیہ  کی ذمہ داری کئی گنا بڑھ جاتی ہے کہ وہ ان معصوم بچوں  کی حفاظت کا مضبوط حصار بنیں۔ یہ بچے کل سماج اور ملک کی تعمیر میں نہ صرف حصہ لیں گے بلکہ اس کی بنیادوں کو مضبوط بنانے میں کلیدی کردار ادا کریں گے۔ یہ وقت کی پکار ہے کہ اس زہرِ قاتل کو جڑ سے اکھاڑ پھینکیں،  تعلیمی اداروں اور محلّوں کو منشیات کے سائے سے پاک کریں، اور  ہم اپنے نونہالوں کو ایک ایسی فضا فراہم کریں  جہاں وہ علم، کردار اور تہذیب کی خوشبو میں پروان چڑھیں۔ یہی سرمایہ کل ہمارے سماج کو روشنی دے گا، اور یہی نسلیں وطن کو عزت و وقار کی نئی بلندیوں تک پہنچائیں گی اور ملک و ملت کی بقا اور ترقی کی ضامن بھی ہونگی۔