شفیع سعدی پرکارروائی کرنے کے تعلق سے اپنی رائے رکھیں : ہائی کورٹ

اسٹیٹ نیوز سلائیڈر نمایاں
بنگلورو:۔اقتدار کا غلط استعمال کرتے ہوئےغلط نیت کے ساتھ وقف بورڈ سے مالی امداد حاصل کرنے کا الزام جھیل رہے کرناٹکا وقف بورڈکےرکن این کے ایم شفیع سعدی کے خلاف کارروائی کرنے کے تعلق سے رائے پیش کرنے کیلئے کرناٹکا حکومت کو ہائی کورٹ نے نوٹس جاری کی ہے۔اس تعلق سے کرناٹکا مائناریٹی کمیشن کے سابق چیرمین انور مانپاڑی اور بنگلوروکے ضلع وقف مشاورتی کمیٹی کے صدر نیازاحمدنے ایک پی آئی ایل دائرکی تھی،جس پر عدالت نے سنوائی کرتے ہوئے کرناٹکا حکومت سے جواب طلب کیاہے۔معاملہ کی سنوائی کررہے چیف جسٹس اے ایس اوکا کی قیادت والی بینچ نے کرناٹکا حکومت سے جواب طلب کیاہے۔عدالت میں عرضی گذارکی بحث سننے کے بعد کرناٹکا وقف ایکٹ1995 کی شق20(1(بی) کے مطابق وقف بورڈکے رکن اگر اپنی ذمہ دارایوں کو نبھانے میں ناکام ہوتے ہیں،لاپرواہی برتتے ہیں اور وقف کے مفادات کے خلاف کام کرتے ہیں تو ایسے رکن وجہ بتائو نوٹس جاری کرتے ہوئےاُن پر قانونی کارروائی کی جاسکتی ہے اور ان کی رکنیت کو مستردکرنے کا موقع ہے۔اس لحاظ سے کارروائی کرنے کیلئے کرناٹکا حکومت کو احکامات جاری کرنے کیلئے عدالت سے گذارش کی گئی۔عدالت نے تمام حوالہ جات کو سننے کے بعد27جولائی کو اگلی سماعت کی تاریخ دی ہے ۔ کرناٹکا وقف بورڈکے موجودہ رکن شفیع سعدی پر الزام ہے کہ وہ سعدیہ ایجوکیشنل فائونڈیشن کے جنرل سکریٹری کے عہدے پر فائزہیں اور انہوں نے سعدیہ مسجدکے کمپائونڈکی تعمیر کیلئے وقف بورڈ سے15 لاکھ روپئے منظور کروائے ہیں اور اس مسجدمیں کمپائونڈ ہونے کے باوجودجھوٹا حوالہ دیکرمسجدکے کمپائونڈ کی تعمیر کیلئے پیسے وصول کئے تھے،اس تعلق سے انورمانپاڑی نے سخت کارروائی کرنے کی گذارش کی تھی۔عدالت کا حکم آتے ہی انورمانپاڑی نےٹوئٹ کرتے ہوئے کہاکہ ہمیشہ سچائی کی جیت ہوگی،مسجدکیلئے جھوٹ کہہ کر پیسے لینے والوں کوسزا ضرورہوگی،کرناٹکا حکومت کے چیف سکریٹری کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر شفیع سعدی کی رکنیت کو منسوخ کریں۔