از:.۔آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349


ادبی دنیا میں شعرو سخن کی متعدد اصناف پر تصانیف کی اشاعت اگرچہ معمول ہے، مگر بعض اوقات کوئی کاوش ایسی بھی منصہ? شہود پر آتی ہے جو خاص توجہ کی مستحق قرار پاتی ہے۔ انہی نفیس کوششوں میں ایک درخشاں اضافہ اُس وقت ہوا جب 12 اکتوبر 2025، بلگام (کرناٹک) میں ایک پُرموقر ادبی نشست منعقد ہوئی، جس میں ڈاکٹر یاسین راہی کی تازہ تصنیف ”تشطیراتِ راہی برکلامِ منیر” کے شعری مجموعے کا باوقار اجراء عمل میں آیا۔
کیا ہے تشطیر:.
تشطیر شاعری کا ایک نازک اور معنی آفرین فن ہے جس کی ابتداء عربی اور فارسی ادب سے ہوئی۔ عرب شعرا نے سب سے پہلے اس اسلوب کو اختیار کیا، جہاں وہ کسی معروف شعر کے درمیان اپنا مصرع شامل کر کے اس کے معنی میں نئی جہت پیدا کرتے تھے۔ بعد ازاں یہ فن فارسی سے ہوتا ہوا اردو میں داخل ہوا اور ہمارے بعض کلاسیکی شعرا نے بھی اسے اپنے ذوقِ سخن کے اظہار کے طور پر برتا۔ لغوی اعتبار سے لفظ تشطیر عربی کے ”شَطر” سے ماخوذ ہے، جس کے معنی آدھا یا نصف کے ہیں، یعنی کسی چیز کو دو حصوں میں بانٹ دینا۔ اصطلاحِ شعر میں تشطیر سے مراد یہ ہے کہ شاعر کسی دوسرے معروف شعر کے ہر مصرعے کے درمیان اپنا ایک مصرع داخل کرے، اس انداز سے کہ نہ مفہوم میں خلل آئے اور نہ اصل شعر کی روانی متاثر ہو، بلکہ الٹا معنی اور تاثر میں وسعت پیدا ہو۔ کامیاب تشطیر وہی کہلاتی ہے جو اصل شعر میں اجنبیت پیدا نہ کرے، بلکہ ایسا محسوس ہو کہ وہ مصرعہ پہلے ہی سے اس کلام کا حصہ تھا۔
مثلاً اگر کسی شاعر کے دو مصرع ہوں
میں تو غم میں بھی مسکراتا ہوں
اس نے بخشی ہیں یہ صفات مجھے
تشطیرِ راہی
میں تو غم میں بھی مسکراتا ہوں
رب سے ملتی ہے التفات مجھے
شکر اس کا ادا میں کرتا ہوں
اس نے بخشی ہیں یہ صفات مجھے
یہ اضافہ دراصل محض اشعار بڑھانا نہیں، بلکہ ایک فکری شرکت اور تخلیقی مکالمہ ہے جس میں دوسرا شاعر پہلے شاعر کے خیال کو نئے زاویے سے آگے بڑھاتا ہے۔ تشطیر سے نہ صرف اصل شعر کی معنوی گہرائی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ اس سے شاعر کی زبان پر قدرت، فکر کی بالیدگی اور ذہنی ربط کا بھی اظہار ہوتا ہے۔ یوں تشطیر وہ فن ہے جس میں شاعر اپنی آواز کو کسی دوسرے کے لہجے میں اس فنکارانہ مہارت سے شامل کرتا ہے کہ دونوں ایک دوسرے کا حصہ بن جائیں۔ یہ ادبی و ثقافتی پروگرام دو حصوں پر مشتمل تھا۔ پہلا حصہ کتاب ”تشطیراتِ راہی برکلامِ منیر” کی رسمِ اجرا کے لیے مخصوص تھا، جب کہ دوسرا حصہ باوقار مشاعرہ پر مشتمل رہا۔ یہ اہم تقریب بلگام کی معروف تنظیم سنو فلیک ایجوکیشنل اینڈ سوشل ویلفیئر سوسائٹی، بلگام کے زیرِ اہتمام منعقد ہوئی، جس میں شہر اور اطراف کے اہلِ ادب نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔تقریبِ رسمِ اجرا کی صدارت ڈاکٹر ابوبکر سوداگر نے فرمائی، جبکہ مہمانِ خصوصی کے طور پر انجمنِ اسلام بلگام کے سیکرٹری سمیع ماڑی والے شریک ہوئے۔ مہمانانِ اعزازی میں محمد سمیع اللہ داونگیرے، ارشاد احمد سوداگر، سید منیر دل داونگیرے، مسعود احمد جمعدار، سعید احمد دیشنور، یاسین راہی اور فیروز پٹھان شامل تھے۔ اس موقع پر مقالہ نگاروں میں مولانا امیر حمزہ، سید کفایت اللہ چراغ ہبلوی اور ڈاکٹر غلام ربانی فدا (جن کا مقالہ مفتی نوشاد نے پیش کیا) نے کتاب کے فنی و فکری محاسن پر روشنی ڈالی اور فنِ تشطیر کے تناظر میں ڈاکٹر یاسین راہی کی ادبی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کیا۔تقریب کے دوران اظہارِ خیال کرنے والوں میں محمد سمیع اللہ داونگیرے، ارشاد احمد سوداگر (مالک ہوٹل نیاز)، مسعود احمد جمعدار، فیروز پٹھان اور سید محسن قادری نے اپنے تاثرات پیش کیے اور اس ادبی کاوش کو اردو ادب کے لیے ایک خوش آئند اضافہ قرار دیا۔ آخر میں صدرِ محفل ڈاکٹر ابوبکر سوداگر نے اپنے صدارتی کلمات میں ڈاکٹر یاسین راہی کی محنت اور فکری جدوجہد کی تحسین کی۔کتاب کے مصنف ڈاکٹر یاسین راہی نے ہدیہ تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مہمانان، سامعین اور منتظمین کا شکریہ ادا کیا۔ نظامت کے فرائض احمد باشا ساغر نے خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ اس موقع پر اعزازی کاپیاں بھی پیش کی گئیں، جو مختلف شاگردوں اور رفقا نے نہایت خلوص کے ساتھ قبول کیں۔ کنوینر کے فرائض سیف العام ضیف اور شفیع شاہپوری فائق نے انجام دیے، جن کی کوششوں سے یہ پروگرام ادبی دنیا میں ایک یادگار محفل کی حیثیت اختیار کر گیا۔یہ محفل نہ صرف فنِ تشطیر کے احیا کا باعث بنی بلکہ بلگام کی ادبی فضا میں ایک تازہ روح پھونک گئی، اور اہلِ ادب کو دوبارہ اس نادر فن کی جانب متوجہ کیا۔پروگرام کے دوسرے حصے کا تعلق مشاعرے سے تھا، جس کی نظامت مفتی نوشاد زاہد نے نہایت شائستگی اور سلیقے کے ساتھ انجام دی، جبکہ مشاعرے کی صدارت ایوب راشد صاحب نے فرمائی۔ اس محفلِ سخن کا آغاز تلاوتِ کلامِ پاک سے ہوا، جس کی سعادت محمد حسان اقبال احمد نے حاصل کی۔ اس کے بعد سید محسن قادری داونگیرے نے بصد ادب نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کر کے محفل کو روحانیت سے مہکا دیا۔اس کے بعد شعری نشست کا باقاعدہ آغاز ہوا، جس میں مقامی اور بیرونِ شہر سے تشریف لائے ہوئے شعرائے کرام نے اپنے منتخب کلام سے سامعین کو مسحور کیا۔ شعرا کی صف میں شریف احمد شریف، ثاقب جنیدی، احمد
باشا ساغر، آفتاب عالم شاہ نوری، مولانا امیر حمزہ، سید کفایت اللہ چراغ ہبلوی، مجیب احمد مجیب، شفیع اللہ شفیع، محمد اشرف پاچاپوری، محمد شفیع فائق، سید جعفر صادق قادری اور سیف العالم شامل تھے۔ ہر شاعر نے فنِ سخن کی نزاکتوں کو ملحوظ رکھتے ہوئے محفل میں اپنا رنگ جمایا۔آخر میں شفیع فائق نے نہایت خلوص کے ساتھ ہدیہ تشکر پیش کیا اور تمام شعرائے کرام، معزز سامعین اور منتظمین کا شکریہ ادا کرتے ہوئے مشاعرہ اختتام پذیر ہوا۔ یوں یہ ادبی شب بلگام کی تہذیبی و فکری روایت میں ایک یادگار اضافہ ثابت ہوئی۔
