ہندوستانی مسلمانوں سے متعلق زہر افشانی

مضامین
از:۔محمد اعظم شاہد۔9986831777
وطن عزیز ہندوستان میں مسلمانوں کو ’غیر‘ اور ہندو ’دشمن‘ قرار دینے کی مذموم سازشیں ہندو واد کے طرفداروں کی جانب سے ہوتی رہی ہیں۔ دراصل ہندو مسلم تفریق کے تنازع کو وقتاً فوقتاً گرمانے کی کوششوں میں  مفاد پرست عناصر مصروف رہے ہیں۔ سنگھ پریوار کے کرتا دھرتا اور بھاجپا کے چھوٹے بڑے لیڈر موقع ومحل کی تلاش میں رہتے ہیں کہ کوئی نہ کوئی نیا بہانہ تلاش کرکے مسلمانوں کی دل آزاری کی جائے اور ان (مسلمانوں) سے متعلق اشتعال انگیز بیان صادر کردیا جائے۔ یا پھر ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی جائے۔ مودی حکومت میں وزیرگری راج سنگھ جس نے کئی بار مسلمانوں کے خلاف بے لگام اور غیر ذمہ دارانہ اشتعال انگیز بیانات دیئے ہیں۔ اس وزیرنے جو ملک کے ذمہ دار آئینی منصب پرفائز ہے۔ حال ہی میں بہار اسمبلی انتخابات کی ایک ریلی کے دروان اروَل ضلع کے ایک گاؤں میں اپنی مسلم دشمنی کا اظہارکرتے ہوئے کہاکہ مسلمان نمک حرام ہیں، جن کے ووٹوں کی ضرورت نہیں ہے۔ اس نے مزید کہاکہ ملک کی مرکزی حکومت ترقیاتی اسکیمیں لاگو کرتے ہوئے بشمول مسلمانوں کے کسی کے ساتھ کسی بھی طرح کی تفریق نہیں کرتی بلکہ سب کے ساتھ یکساں سلوک کرتی آئی ہے۔ مگر مسلمانوں نے بھاجپا کو کبھی ووٹ ہی نہیں دیا۔ مسلمانوں میں دیکھا گیا ہے کہ وہ حکومت کی اسکیموںکا فائدہ برابر اٹھاتے ہیں مگر حکومت کی حمایت نہیں کرتے۔ یہ مسلمانوں کی نمک حرامی ہے۔ وزیراعظم نریندر مودی نے کبھی مسلمانوں کی برائی نہیں کی ہے اور نہ ہی میں نے کبھی مسلمانوں کی بے عزتی کی، باوجود اس کے مسلمانوں نے مجھے ووٹ نہیں دیا اور جو اچھائی کا اعتراف نہیں کرتے اور اچھے سلوک کی قدر نہیں کرتے انہیں نمک حرام ہی تو کہا جاتا ہے۔ گری راج سنگھ کے ان خیالات کی حمایت میں برسراقتدار جے ڈی یو کے ترجمان نیرج کمار نے کہاکہ حکومت سب کے ساتھ منصفانہ رویہ رکھتی ہے مگر کوئی ایک خاص مذہب (مسلمان) کے لوگ ہمیں ان کے ووٹ سے محروم کرتے ہیں، تو یہ سراسر نا انصافی ہے اور گری راج سنگھ نے مسلمانوں کے تعلق سے جو کہا اور جن الفاظ کا استعمال کیا ہے اس کا پورا حق انہیں حاصل ہے۔ ہندوستانی مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی اس مجرمانہ روایت کی کئی انصاف پسند لوگوں نے مذمت کی ہے۔ سیاسی حلقوں میں گری راج سنگھ کے نازیبا بیان کی شدت کے ساتھ مخالفت کی گئی ہے۔ بہارمیں حزب مخالف آر جے ڈی کے ترجمان مرتنجیہ تیواری نے گری راج سنگھ کے ’’نمک حرام‘‘ بیان کی مذمت کرتے ہوئے کہاہے کہ ملک اور ریاست میں کئی اہم مسائل ہیں جیسے نوجوانوں میں بے روزگاری،بہتر تعلیمی سہولیات کی فراہمی، مہنگائی پرقابو، اچھی طبی سہولیات کی فراہمی ان پر بات کرنے کی بجائے بھاجپا اور فرقہ پرست عناصر ہر بار ’’ہندو مسلم‘‘ تنازعات پر ماحول کو گرمانے کی کوشش کرتے ہیں اور ترقی سے جڑے اہم موضوعات کو فراموش کردیتے ہیں۔ بہار میں بیگوسرائے سے منتخب ایم پی اور وزیر گری راج سنگھ کے غیر ذمہ دارانہ بیان پر ضلع پورنیہ سے منتخب آزاد ایم پی پپویادو نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گری راج بابو، ہمیں بتائیں کہ تحریک آزادی کے دوران انگریزوں کا ساتھ کس کس نے دیاتھا۔ جن لوگوں نے اور جن فرقہ پرست تنظیموں نے انگریزی سامراج کا ساتھ دیا اور ملک کے ساتھ غداری کی تھی وہ در حقیقت نمک حرام ہیں۔ گری راج سنگھ جیسے اور کئی وزراء جو مودی حکومت میں ہیں انہوں نے کھل کر مسلمانوں کے خلاف اشتعال انگیز بیانات دیئے ہیں اور دیتے رہے یہں۔ مگر نہ وزیر اعظم مودی اور نہ ہی بھاجپا کے کسی عہدیدار نے ان پر تادیبی کارروائی کرنے کی کوئی بات کی اور نہ ہی کسی طرح کی تاکید کرنا گوارہ کیا۔ بس یہ روایت سر اٹھائے چلی آرہی ہے کہ جو جی میں آئے وہ بے لگام ہوکر بولتا رہے۔ مودی ہو یا نڈا ایسے بیانات پر محض خاموش تماشائی بنے رہنے میں عافیت سمجھتے ہیں۔ عام طور پر سنگھ پریوار اور بھاجپا اپنے اس لیڈر سے خوش بہت ہوتے ہیں جو ان کے خفیہ ایجنڈے کو پروان چڑھانے میں آگے آگے رہتے ہیں۔
مسلمانوں کے خلاف عین چند ہندو تہواروں سے قبل ان کے (مسلمان تاجروں کے) تجارتی بائیکاٹ کے لئے سنگھ پریوار کی تنظیموں کی جانب سے آوازیں اٹھنے لگتی ہیں۔ ایساہی ایک واقعہ چند دن قبل دلی میں پیش آیا۔ وشوا ہندو پریشد نے چھٹھ پوجا کے موقع پر دلی میں ایک نئی مہم شروع کی، جس میں ’جہاد مکت دلی‘ کے عہد کے ساتھ سناتن پرتشٹھا کے اسٹیکرس تقسیم کئے گئے۔ تنظیم نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ یہ اقدام عقیدت مندوں کو خالص (شدھ) اورمصدقہ پوجا کے سامان دستیاب کروانا ہے۔ مقصد یہی کہ پوجا کے لئے استعمال ہونے والے سامان صرف ہندو تاجروں سے ہی خریدے جائیں۔ ہندو تاجروں کی شناخت سناتن پرتشٹھا اسٹیکرس سے ہوگی جو ان کی دوکان یا ٹھیلے پر لگا ہوگا۔ مطلب یہ کہ جن ٹھیلوں اور دکانوں پر یہ اسٹیکر نہ ہوگا وہاں سے پوجا کا سامان خریدا نہ جائے۔ یعنی اشارہ یہی ہے کہ مسلم تاجروں سے کوئی چیز خریدی نہ جائے۔ وشوا ہندو پریشد نے اپنی اس مہم کے دفاع میں کہا ہے کہ ہندوؤں کی ثقافت ،روایت اورسناتن عقائد کے تحفظ کے لئے ہے۔ اور ان کی تنظیم پر امن ،قانونی اور شفاف طریقے سے کام کررہی ہے اور تمام طبقات کا احترام کرتی ہے۔ تاہم وی ایچ پی کی تاریخ بتاتی ہے کہ اس طرح کی مہم کا اصل مقصد مذہبی شناخت کی بنیاد پر تاجروں کی تقسیم کرنا ہے۔ اتر پردیش میں جولائی 2025میں کانوڑ یاترا کے دوران وی ایچ پی نے اسی طرح کے سناتن سرٹی فکیشن مہم کا آغاز کیاتھا، جہاں  ہندوؤں کے دکانوں اورٹھیلوں پر اسٹیکر لگائے گئے تھے، یہاں بھی مسلم تاجروں سے سامان خریدنے پر پابندی لگائی گئی تھی۔ مسلمانوں کے تجارتی بائیکاٹ کی کوششیں ہندو تہواروں اورمیلوں کے دوران ملک کے کئی حصوں میں کی گئی ہیں۔ ایک بات قابل ذکر یہ ہے کہ جن ریاستوں میں بھاجپا برسر اقتدار رہی ہے وہاں ایسی مہم زور پکڑتی رہی ہے۔
سپریم کورٹ نے کئی بار نفرت آمیز بیانات اور تقاریر پر پٹھکار لگائی ہے اورحکومتوں کو انتباہ کیا ہے کہ HATE SPEECH  پر قوانین کا نفاذ کرے۔ مگر مذہب کے نام پر نفرت پھیلانے کے واقعات ملک بھرمیں ہر دن ہوتے ہی رہتے ہیں اور جو احباب اعلیٰ سیاسی عہدوں پر فائز ہیں۔ ان سے بار بار نفرت آمیز بیانات ہوتے رہے ہیں۔ کبھی ’لوجہاد‘ کے نام پر، کبھی گوشت کبھی اذان ، کبھی لباس، داڑھی ٹوپی ، کرتا پاجامہ جیسے موضوعات پر زہرا فشانی ہوتی رہی ہے۔ وزیراعظم مودی نے بھی ایک بار دہاڑتے کہاتھا کہ ’کسی خاص لباس والے ، کسی خاص مذہب کے ماننے والے، خود بخود معلوم ہوجاتے ہیں۔ ملک کے کئی شہروں میں اکثر مسلمانوں کو کرایہ پر گھر یادو کان نہیںدیئے جاتے ہیں۔ مسلمانوں کے ساتھ کاروباری تعلقات ختم کرنے کی یا ان (مسلمانوں سے) علاحدگی کی باتیں کھلے عام ہوا کرتی ہیں۔ مسلمانوں کے جذبات کو ٹھیس پہنچانا اب عام سی بات ہوگئی ہے۔ یوں لگتا ہے کہ اب بھاجپا اور سنگھ پریوار کے لوگوں میں ایک ہوڑسی لگی ہوئی  ہے کہ کس طرح اور کب نئے نئے حربے استعمال کرکے مسلمانوں کے خلاف زہر افشانی کی جائے اور اپنے سیاسی آقاؤں کو خوش کرکے اپنا الو سیدھا کیا جائے۔ ایک طرف کھلے عام نفرت کا پرچار ہوتا رہا ہے تو دوسری جانب ذمہ داروں کی ان خلاف ورزیوں پر دراز خاموشی، یہ سب روزمرہ کا معمول بن گیا ہے سیاسی گلیاروں میں۔