بنگلورو:۔ سابق وزیر اعلیٰ اور ریاستی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر سدارامیا نے ریاستی حکومت کی طرف سے ایس ایس ایل سی امتحان کے اعلان پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے بتایا ہے کہ جب اس امتحان کے اہتمام کو لے کر وزیر صحت اور وزیر تعلیم کے درمیان اتفاق نہیں ہے اور وزیرصحت چاہتے ہیں کہ موجودہ حالات میں امتحان کرواکر بچوں کی جانوں کو جوکھم میں نہ ڈالا جائے تو پھر حکومت اس امتحان کے اہتمام کی ضد پر کیوں اڑی ہوئی ہے۔ اس امتحان کو منسوخ کر کے تمام بچوں کو پاس قرار دیا جائے۔انہوں نے ویکسین کی فراہمی کے متعلق وزیر صحت کے بیا ن کو گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ بنگلورو سمیت ریاست میں کہیں بھی ویکسین دستیاب نہیں ہے اور لوگوں کو ویکسین سنٹرو ں کے باہر گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد واپس لوٹا دیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر حکومت کے پاس ویکسین کا اسٹاک موجود ہوتا تو لوگوں کو ویکسین سنٹروں کے باہر قطاروں میں کیوں لگنا پڑتا؟کورونا کی تیسری لہر کے خوف سے لوگ ویکسین لگانا چاہتے ہیں لیکن حکومت ان کو ویکسین نہ دے کر ان کی جانوں سے کھلواڑ کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ویکسین کی فراہمی کے معاملہ میں ریاستی اورمرکزی حکومت کے درمیان کوئی تال میل نہیں ہے۔صحیح منصوبہ بندی کے ساتھ اگر عوام کو ویکسین دینے کی مہم چلائی جائے تو اس سے کوئی پریشانی نہیں ہو گی۔ ریاست میں کورونا وائرس سے نپٹنے کے لئے حکومت کی طرف سے اٹھائے گئے اقدامات اور ان کی ناکامی کے ساتھ ساتھ عوام کو ان سے ہونے والی پریشانی پر تبادلہ خیال کرنے کے لئے سدارامیا نے حکومت سے مانگ کی ہے کہ فوری طور پر اسمبلی اجلاس بلایا جائے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کورونا وائرس سے نپٹنے میں ناکامی اور کرپشن کے الزامات کی وجہ سے اپوزیشن کا سامنا کرنے سے خوفزدہ ہے۔ کانگریس میں اگلے وزیر اعلیٰ کو لے کر بحث کے بارے میں سدارامیا نے کہا کہ اس پر کانگریس کے حلقوں میں کوئی بحث نہیں ہوئی ہے،انہوں نے کہا کہ ان کے اور ڈی کے شیو کمار کے درمیان کوئی اختلاف نہیں ہے۔پارٹی کے نئے اور پرانے کانگریسیوں کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے۔سی ایم ابراہیم کے اس بیان پر کہ سدارامیا کانگریس میں بہو کی مانند ہیں جو کانگریس میں آنے کے بعد اسی کے ہو کر رہ گئے۔سدارامیا نے اتفاق کیا اور کہا کہ وہ کانگریس میں دوسری پارٹی سے ضرور آئے لیکن کانگریس نے انہیں پانچ سال ریاست کا وزیر اعلیٰ بنے رہنے کا موقع دیا۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں وزیر اعلیٰ کو ن بنے گا، اس کا فیصلہ انتخابات کے بعد نئے منتخب اراکین اسمبلی کریں گے اور اس پر کانگریس اعلیٰ کمان کی طرف سے تصدیق کی مہر ثبت کی جائے گی۔ بعض پارٹی لیڈروں کے اس سلسلہ میں بیان پر انہوں نے کہا کہ اس سے ان کاکوئی تعلق نہیں۔ یوتھ کانگریس صدر کے انتخاب کے سلسلہ میں انہوں نے کہا کہ اس سے کانگریس پارٹی کو کچھ زیادہ سروکار نہیں۔ اس کے انتخاب کا نظام ہی الگ ہے۔ انہوں نے صرف مشورہ دیا ہے کہ عہدوں کی دعویداری کو آپس میں سلجھا لیا جائے
