از- آفتاب عالم شاہ نوری

آج بروز جمعہ 14 نومبر 2025 وہ خاتون دنیا سے رخصت ہو گئی جنہوں نے اپنی طویل زندگی ماحول کی بہتری میں گزار دی۔ ان کی جدائی کے موقع پر یہ شعر مزید اثر پیدا کرتا ہے
بے شجر راہ سے نظریں نہ چُرا کر جاؤ
اپنے حصے کا کوئی پیڑ لگا کر جاؤ
شاعر ہمیں یہ یاد دلاتا ہے کہ بنجر راستے دیکھ کر لاتعلق نہ رہو۔ اگر ماحول بہتر نہیں ہے تو کم از کم اپنی طرف سے ایک مثبت قدم ضرور اٹھاؤ۔ چاہے وہ ایک درخت ہو، لیکن وہ قدم آنے والے وقت کے لیے فائدہ مند ہوگا۔
یہی سوچ تھِمکّا کی زندگی میں نمایاں دکھائی دیتی ہے۔سالو ماردا تھِمکّا خدمتِ ماحول کے لیے وقف عمر :
سالو ماردا تھِمکّا (30 جون 1911 – 14 نومبر 2025) کرناٹک کی معروف ماحولیاتی کارکن تھیں۔ انہیں آلا ماراڈا تھِمکّا بھی کہا جاتا تھا۔ انہوں نے ہُلیکل سے کڈور تک تقریباً 4.5 کلومیٹر راستے کے کنارے 385 برگد کے درخت لگائے اور مسلسل ان کی دیکھ بھال کی۔ اس کے علاوہ انہوں نے 8000 کے قریب دیگر درخت بھی لگائے۔ان کے شوہر نے اس کام میں ہمیشہ ساتھ دیا۔ دونوں نے دلجمعی سے پودوں کو سنبھالا، پانی دیا اور انہیں بڑا ہوتا دیکھا۔ درخت ان کے لیے ایک ذمہ داری بھی تھے اور ایک سکون بھی۔
شعر اور تھِمکّا کی زندگی کا ربط : شعر انسان کو عمل کی طرف بلاتا ہے۔ تھِمکّا نے اسی بات کو اپنی زندگی میں اختیار کیا۔ انہوں نے خالی راستوں کو یوں بدل دیا جیسے کوئی انسان اپنی محنت سے زمین کو بہتر بنا دیتا ہے۔ ان کے ہاتھوں لگائے گئے درخت آج بھی راستوں کو سایہ دیتے ہیں اور ان کے کام کی گواہی باقی رکھے ہوئے ہیں۔ان کی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ نیکی کے لیے بڑے وسائل کی نہیں، صرف پختہ نیت اور مسلسل کوشش کی ضرورت ہوتی ہے۔
