از:۔محمد عبدالحفیظ اسلامی۔خطیب مسجد صالحہ قاسم، وسینئر کالم نگار حیدرآباد

اللہ کی بندگی کا حق پورے اخلاص کے ساتھ اور بندگان خدا کا حق پورے طریقہ پر ادا کرنا ہر ایک کیلئے ضروری ہے، جس کے بغیر کوئ مسلمان، اسلام کے معیار مطلوب کو نہیں پہنچ سکتا۔ رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات اور آپؐ کے ارشادات گرامی میں ایمان کے حوالے سے مختلف مواقع پر ہمیں یہ تاکید ملتی ہے کہ فلاں چیز ایمان کے منافی عمل ہے اور فلاں کردار کا حامل شخص ایمان کی دولت سے محروم ہے۔ غرض یہ کہ نبیؐ نے موقع بہ موقع اپنی امت کو یہ تعلیم عطا فرمائ کہ، فلاں فلاں کام کرنا ہے اور ان ان چیزوں سے تمہیں بلکل اجتناب کرنا ہوگا!خواہ معاملہ عبادات کا ہو یا معاشرت و معیشت سے تعلق رکھتا ہو یاپھر اس کاتعلق انسانی اخلاق و کردارسے ہو ان ساری چیزوں میں نبی اکرم ﷺ نے اپنے ارشادات گرامی کے ذریعہ لوگوں کو وہ وہ باتیں بتلائی ہیں، جس پر عمل کرتے ہوئے ہر فرد بشر، ایمان کے منافی اعمال سے بچ سکتا ہے۔ انسان کیلئے زبان سے اقرارِ ایمان تو آسان ہے لیکن اس کے تقاضوں کو پورا کرنا اور اس پر کھرا اترنا اصل چیز ہے اور جو بھی اپنے اندر دعوی ایمان رکھتا ہو اس کیلئے ضروری ہے کہ وہ اپنے اعمال سے اس کا ثبوت فراہم کرے۔ چنانچہ حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے فرمایا’’بخدا وہ ایمان نہیں رکھتا ، بخدا وہ ایمان نہیں رکھتا، بخدا وہ ایمان نہیں رکھتا،پوچھا گیا کون اے اللہ کے رسول ؐ( ایمان نہیں رکھتا)فرمایا وہ شخص جس کا ہمسایہ اس کی برائیوں ںسے مامون و محفوظ نہ ہو۔
نبی کریم ﷺ کے اس ارشاد گرامی سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ ایک مسلمان کے ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ اس کا پڑوسی و ہمسایہ اس سے ہمیشہ کے لئے کسی قسم کا خطرہ اور اندیشہ محسوس نہ کرے، بلکہ ایسا ماحول بنارہے کہ پر امن انداز میں اطمینان کے ساتھ انسانی معاشرہ کے شب و روز گذرتے جائیں ،یعنی ہر شخص اپنے پڑوسی سے، اپنی جان و مال عزت آبرو، اور ہر طرح کے ستائے جانے اوراذیت سے وہ اپنے آپ کو محفوظ سمجھے۔ پڑوسیوں کے ساتھ حسن سلوک کی، اسلام میں بہت اہمیت دی گئ ہے ؛ یہاں پر والدین واَقرِبا کا ذکر بے محل نہ ہوگا کہ اس کا تعلق بھی اللہ تعالی کے احکام اور اسکے رسولﷺ کی تعلیمات سے ہے۔ اللہ تبارک تعالی نے قرآن مجید کے سورۃ النساء کی آیت 36 میں اپنے حق کے ساتھ ہی والدین، رشتہ داروں یتیموں اور عزیز واقربا اور ہمسایوں، اور معاشرے میں ساتھ اٹھنے بیٹھنے والوں کے حقوق پر زور دیا ہے جو ہم سب کے لیے اس پر عمل کرنا فرض عین ہے؛ جس کے بغیر ایک پر سکون و مثالی معاشرہ کی امید خوش فہمی کے سواء کچھ نہیں!
آیت مذکور کے سلسلہ میں حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ تشریح فرماتے ہیں۔وَ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ لَا تُشْرِكُوْا بِهٖ شَیْئًا وَّ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّ بِذِی الْقُرْبٰى وَ الْیَتٰمٰى وَ الْمَسٰكِیْنِ وَ الْجَارِ ذِی الْقُرْبٰى وَ الْجَارِ الْجُنُبِ وَ الصَّاحِبِ بِالْجَنْۢبِ وَ ابْنِ السَّبِیْلِ وَ مَا مَلَكَتْ اَیْمَانُكُمْ اِنَّ اللّٰهَ لَا یُحِبُّ مَنْ كَانَ مُخْتَالًا فَخُوْرَا o
اور اللہ تعالی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو اور مانباپ کے ساتھ سلوک واحسان کرو!
(1)الجار، الجنب، قرابت دار پڑوسی کے مقابلے میں استعمال ہوا ہے۔ جس کے معنی ایسا پڑوسی جس سے قرابت داری نہ ہو۔ مطلب یہ ہے کہ پڑوسی سے بہ حیثیت پڑوسی کے حسن و سلوک کیا جائے رشتہ دار ہو یا غیر رشتہ دار، جس طرح کہ حدیث میں بھی اس کی بڑی تاکید کی گئی ہے۔
(2)اس سے مراد رفیق سفر، شریک کار، بیوی اور وہ شخص ہے جو فائدے کی امید پر کسی کی قربت و ہم نشینی اختیار کرے بلکہ اسکی تعریف میں وہ لوگ بھی آسکتے ہیں جنہیں تحصیل علم، تعلم صناعت(کوئی کام سیکھنے)کیلئے یا کسی کاروباری سلسلہ میں آپ کے پاس بیٹھنے کا موقع ملے۔(فتح القدیر)
(3)اس میں گھر، دکان اور کارخانوں، ملوں کے ملازم اور نوکر چاکر بھی آجاتے ہیں۔ غلاموں کے ساتھ حسن سلوک کی بڑی تاکید حدیث میں آئی ہے۔
(4)فخر و غرور اور تکبر اللہ تعالیٰ کو سخت ناپسند ہے بلکہ ایک حدیث میں یہاں تک آتا ہے کہ وہ شخص جنت میں نہیں جائے گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر بھی کبر ہوگا۔
(صحیح مسلم کتاب الایمان باب تحریم الکبر وبیانہ حدیث نمبر۔ 91)یہاں کبر کی بطور خاص مذمت سے یہ مقصد ہے کہ اللہ تعالی کی عبادت اور جن جن لوگوں سے حسن سلوک کی تاکید کی گئ ہے۔ اس پر عمل وہی شخص کرسکتا ہےجس کا دل کبر سے خالی ہوگا۔ متکبر اور مغرور شخص صحیح معنوں میں نہ حق عبادت ادا کرسکتا ہے اور نہ اپنوں اور بیگانوں کے ساتھ حسن سلوک کا اہتمام۔ (احسن البیان)۔آیت مذکورہ سے یہ بات معلوم ہوئ کہ نوع انسانی کے لیے حقوق اللہ کے ساتھ حقوق العباد بھی انتہائ ضروری ہے۔حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول خدا ﷺ نے ارشاد فرمایا تم میں سب سے زیادہ مجھے وہ لوگ محبوب ہیں جو تم میں اخلاق کے لحاظ سے سب سے اچھے ہیں
(بخاری) حسن اخلاق سے متعلق نبی کریم ﷺ کی بہت سی احادیث آئ ہیں،حقیقت یہ ہے کہ حسن اخلاق کے ذریعہ سے آدمی ایک اونچے درجہ تک پہنچ جاتا ہے حضرت عائشہؓ کی ایک روایت کے مطابق آدمی اچھے اخلاق کے ذریعہ ان لوگوں کا درجہ حاصل کرلیتا ہے جو راتوں میں اللہ کے حضور میں کھڑے رہتے ہیں اور دن میں ہمیشہ روزہ رکھتے ہیں(ابو داؤد) ارشاد نبویؐ یہ بھی ہیکہ اللہ تعالی اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والا پڑوسی کی تکریم کرے، پڑوسی کو تکلیف نہ دے(بخاری)پڑوسی کے ساتھ اچھا برتاو اللہ اور اس کے رسؐول کی محبت کا نسخہ عظیم ہے۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک خاص موقع پر تعلیم فرماتے ہوے آخر میں ارشاد فرمایا،اگر تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ اللہ تعالیٰاور اسکے رسول تم سے محبت کریں( چاہیے کہ) جب کوئی امانت تمہارے پاس رکھوائی جائے تو اس کو ادا کرو اور بات کرو تو سچ بولو، اور اپنے پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ (بروایت طبرانی)
آدمی خوب مال خرچ کرتا اور خیر خیرات کرتا ہے، لیکن پڑوسی کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کرتا اپنی زبان اور طرز عمل سے تکلیف پہنچاتا ہے تو اسکی خیر خیرات اسے کامیابی کی طرف نہیں لے جاتی اور عنداللہ نامقبول ہے!
اچھے اخلاق کاتعلق ایمان سے ہے،اگر کسی میں اچھے اخلاق پائے جاتے ہیں اور وہ مسلمان بھی ہو تو اس کے ایمان والے ہونے کی گواہی دی جاسکتی ہے، اور یہ مومنانہ کردار کا اعلی مظہر ہے، اور وہ عنداللہ زبر ست ماجور ہوگا کیونکہ یہ ایمان ہی کا تقاضا ہوتا ہے کہ ایک مسلمان اپنے پڑوس میں رہنے والا خواہ وہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتا ہو حسن اخلاق، نرمی اور آدمیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس بات کا یقین دلاتا ہے کہ اس سے ہمیشہ خیر ہی خیر کی توقع کی جائے۔ لیکن جب پڑوسی مسلمان ہو تو اس سے دوہرا رشتہ قائم ہوتا ہے ایک تو پڑوسی ہونے کا دوسرا ایمان والا ہونے کا کیونکہ ایمان کارشتہ دیگر کئی رشتوں سے افضل ہے اور دین کا رشتہ تو خون کے رشتہ سے زیادہ اہم ہے اس کی طرف توجہ دینا انتہائی ضروری ہے۔
اب ذرا ہم اپنے مسلم معاشرے پر نگاہ ڈالیں اور دیکھیں کہ ہم اپنے پڑوسیوں اور ہمسایوں کے ساتھ کس طرح کا برتاؤ کرتے ہیں۔آج ہم کسی سے بھی سوال کریں کہ بھائی آپ کاپڑوسی کیسا ہے؟(الاماشا اللہ) بہت کم ہی لوگ اس بات کی گواہی دیں گے کہ ہمارا پڑوسی بہت اچھا ہے یا کم از کم اچھا ہے۔ اب ایک سوال خود بخود اٹھتا ہے کہ آخر ہمارے معاشرے اور محلوں کی یہ صورتحال کیوں ہے یا ہوگئی؟ اس کا جواب یہ ہے کہ اسلامی تعلیمات سے ہمارا معاشرہ بہت دور ہوگیاجس کا یہ نتیجہ ہے کہ مسلم محلوں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بڑے بڑے جھگڑے ہوتے دیکھائی دے رہے ہیں، یہاں تک کہ قتل کے واقعات بھی ہورہے ہیں اور ان جھگڑوں کو پولیس وعدالتوں تک پہنچایا جاتا ہے جس کی وجہ سے پیسہ برباد اور رسوائی الگ سے ہوتی ہے۔ حالانکہ اللہ تبارک تعالیٰ نے مسلمانوں کو خیر امت بنا کر اٹھایا ہے، اس طرح ان کا وجود زمین پر خیر ہی خیر ہوناچاہئے،مگر افسوس اس بات پر ہے کہ یہ امت اپنے اونچے مقام کو فراموش کر بیٹھی(الا ماشاء اللہ) اور ان میں کی اکثریت اپنے مقصد حیات سے لا علم معلوم ہوتی ہے۔ مسلمانوں کے محلے اور ان کے علاقے معاشرے میں ایک مثالی نمونہ ہونا چاہئےتھے!۔کوئی مسلمان اگر صرف اپنے پڑوس وہمسایوں کو مطمئن نہ کرسکے اور اپنے ایمان کی روشنی اور اخلاق کی خوشبو سے اس کا ہمسایہ مستفید نہ ہوسکے تو بھلا ایسے مسلمان سے کیا توقع کی جاسکتی ہے کہ وہ اسلام کی سچی اور اچھی تصویر اوروں کے سامنے پیش کرسکے گا یا اسلام کا تعارف اپنے حسن عمل و حسن اخلاق کے ذریعہ پیش کرے گا ؟ حقیقت تو یہ ہے کہ بندے مومن کے شب و روز اسلامی کردار کے مظاہر و آئینہ دار ہوتے ہیں،جسے دیکھ کر لوگ اس سے متاثر ہوتے اور اسلام کی حقانیت نوع انسانی پر واضح ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ آج ہمارے بعض بھائیوں کی بد اخلاقی کو دیکھ کر لوگ مسلمانوں بلکہ اسلام سے دور بھاگ رہے ہیں، ہاں یہ اور بات ہے کہ کچھ لوگ ہمارے اندر ایسے بھی ہیں جن کے اوصاف حمیدہ،اخلاق حسنہ کو دیکھ کر الحمدللہ، لوگ اسلام سے قریب بھی ہورہے ہیں، لیکن ہماری اکثریت کی بے عملی و کوتاہی اورغفلت شعاری نے اسلام سے لوگوں کو دور کرنے کا بڑا ذریعہ بن رہی ہے ؛ جس کی اصلاح کی طرف فوری طور پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
جو لوگ اصلاح کا کام کرتے ہیں انہیں چاہئے کہ سب سے پہلے اس کا آغاز بڑے ہی اخلاص واہتمامکے ساتھ وہ اپنے گھر سے شروع کریں پھر، اپنے محلے اور شہر تک اسے پہنچائیں تا کہ ہمارے معاشرہ میں ایک خوشگوار فضاء پیدا ہو! اس بات کا خاص خیال رکھا جائےکہ جہاں پر حقوق اللہ کی ادائیگی پر بہت زیادہ زور دیاجاتا ہے اور دیا جانا چاہئے، وہیں پر حقوق العباد کی طرف بھی ملت کے نوجوانوں،مرد و خواتین کو اسکی تعلیم کا دیا جانا بے حد ضروری ہے۔ ورنہ آدمی کی عبادت عادت تو بن جائے گی لیکن حقیقی بندگی اسی وقت ممکن ہے جب مسلمان پورے کے پورے اسلام میں داخل ہوجائیں!ورنہ ہوگا یہ کہ ایک آدمی مسجد کی حد تک مسلمان بن جائے گا اور اس میں جب تک رہے گا مسلمان بن کررہے گا اور جیسے ہی مسجد سے باہر نکلے گا۔ شیطان کے نرغے میں آکر وہ وہ کام کر جائے گا جوایمان کے منافی اور بندگان خدا کو دکھ پہنچانے والے ہوتے ہیں جس میں کئی ایک باتوں کے علاوہ، پڑوس کو ستانے اور اسکے حقوق کو دبالینے والے قبیح عمل بھی شامل ہیں اور پڑوسی کو ستانے والے شخص کے متعلق نبی مکرم ﷺ کی طرف سے دی جانے والی اس نوٹس میں اس شخص کیلئے درس عبرت ہے، جس میں آپ ﷺ نے ارشاد فرمایاواللہ لا یومن یعنی وہ شخص مومن نہیں ہے یا بخدا وہ ایمان نہیں رکھتا،اس سلسلہ میں آپؐ سے دریافت فرمایا گیا اے اللہ کے رسول ﷺ وہ کون شخص ہے جوایمان نہیں رکھتا ؟ آپﷺنے فرمایاوہ شخص جس کا ہمسایہ اس کی برائیوں سے مامون و محفوظ نہ ہو۔
لہٰذا ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان ایک اچھا پڑوسی بن کر رہے اپنے پڑوسی کو اپنے عمل سے اپنی زبان سے اور اپنے ہاتھ سے تکلیف نہ پہنچائے اور ہر اس عمل سے پرہیز کریں جس سے پڑوسی کو ذہنی کوفت و روحانی صدمہ اور دکھ پہنچتا ہو، بلکہ پڑوسی کے دکھ درد میں شریک ہوں اور اس کی پریشانی پر خوش نہ ہوں، بلکہ اس کی جو کچھ مدد ہوسکتی ہے کہ جائے۔ پڑوسی خواہ اپنے گھر کی تعمیر کرارہا ہو یا اس کے گھر شادی بیاہ یا اور کسی قسم تقریب ہورہی ہو ایسے موقع پر اس کے کام میں رکاوٹیں کھڑی نہ کی جائیں بلکہ اس سلسلہ میں جو کچھ بھی وقتی زحمت ہوتی ہے اسے برداشت کرنا چاہئے کیونکہ پڑوسی کے حقوق انتہائی اہمیت رکھتے ہیں اور اس کا تعلق نبی کریم ﷺ کے ارشاد گرامی کے مطابق ایمان سے ہے اس کی حفاظت ہم سب کیلئے ضروری ہے اور یہ کام انفرادی واجتماعی ہر طریقہ سے مہم کے طور پر انجام دیا جانا وقت کا اہم تقاضا ہے۔اب جہاں پر ہمارے آئمہ مساجد اور واعظین امت کی ذمہ داری ہےکہ وہ اپنے خطابات میں اس مسئلہ پر لوگوں کو تعلیم دیں اور دوسری جانب، معاشرے میں اصلاح کا کام کرنے والی جماعتوں وتنظیموں کی بھی بھاری ذمہ داری ہیکہ اس جانب بھر پور توجہ دے، اب الحمدللہ پورے ملکی سطح پر، جماعت اسلامی ہند اس کام کو منظم انداز میں 21 تا 30 نومبر ایک اہم مہم کے طور پر انجام دے رہی ہے جسکی بھر پور طریقہ سے حوصلہ افزائی کی جانی چاہیے، اللہ تعالیٰ اس مہم میں ہم سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینے کی توفیق بخشے۔ آمین
