از:۔پروفیسر مشتاق احمد یس ملا،ہبلی۔9902672038

ہمارے گھر کی ملازمہ فاطمہ پچھلے کئی دنوں سے گھر کے کام کے لیے نہیں آئی۔ ابتدا میں یہ غیر حاضری محض ایک معمولی سی بات محسوس ہوئی، مگر جب حقیقت کا انکشاف ہوا کہ اس کا شوہر سخت علالت میں مبتلا ہے اور بسترِ بیماری سے اٹھنے کے قابل نہیں رہا، تو میری اہلیہ کیدل پر ایک گہرا سا بوجھ آن پڑا۔ یہ خبر سن کران کا دل بے اختیار دکھی ہو گیا اور احساس ہوا کہ بعض رشتے خون کے نہیں ہوتے، مگر ان کی جڑیں دل میں بہت گہری ہوتی ہیں۔ میری شریکِ حیات کو اس بات کی قطعاً کوئی فکر نہ تھی کہ گھر کے کام کاج کون انجام دے گا، کیوں کہ دونوں بہوئیں گھر کی ذمہ داریاں نہایت خوش اسلوبی سے سنبھال رہی تھیں۔ مگر اصل پریشانی گھر کے انتظام کی نہیں تھی، بلکہ اس خالی پن کی تھی جو فاطمہ کی غیر موجودگی سیان کے دل میں پیدا ہو گیا تھا۔ فاطمہ گزشتہ دس برس سے زیادہ عرصے سے ہمارے گھر سے وابستہ تھی۔ وہ صرف ایک ملازمہ نہیں رہی تھی، بلکہ وقت کے ساتھ وہ گھر کے ماحول، خوشیوں، دکھوں اور روزمرہ کے معمولات کا ایک لازمی حصہ بن چکی تھی۔ بازار سے سودا سلف لانا، گھر کی صفائی ستھرائی، چھوٹے بڑے کام پوری ذمہ داری، دیانت اور خلوصِ دل کے ساتھ انجام دینا اس کی عادت میں شامل تھا۔ اس کی موجودگی سے گھر میں ایک انجانی سی راحت اور سکون محسوس ہوتا تھا۔ میری اہلیہ کو فاطمہ پر اس قدر گہرا اعتماد تھا کہ کبھی کبھار کسی ناگزیر کام سے باہر جاتے وقت پورا گھر اسی کے حوالے کر دیتی تھیں، بے کسی خوف اور تردد کے۔ یہ اعتماد محض اس کی محنت کا صلہ نہیں تھا، بلکہ برسوں کی رفاقت، خلوص اور خاموش وفاداری کا اعتراف تھا۔ فاطمہ گویا ہمارے گھر کی چاردیواری میں بسنے والی ایک ایسی ہستی تھی جسے لفظوں میں ملازمہ کہنا زیادتی معلوم ہوتی ہے۔ اسی لیے فاطمہ کی غیر حاضری نے صرف گھر کے معمولات کو متاثر نہیں کیا، بلکہ دلوں کے سکون، احساسِ اپنائیت اور انسانی رشتوں کی حرارت کو بھی گہری طرح چھو لیا تھا۔
فاطمہ کا شوہر محض نام کا گھر کا سربراہ تھا، ورنہ سربراہی کی کوئی علامت اس کی ذات میں دکھائی نہ دیتی تھی۔ نکاح کے بعد نہ جانے مہر ادا ہوا بھی یا نہیں، اس سوال کا جواب خود فاطمہ کے پاس بھی کبھی واضح نہ ہو سکا۔ البتہ محبت کے نام پر اس نے ایک ایسا کارنامہ ضرور انجام دیا جس پر وہ شاید فخر کرتا ہو،دس بچوں کا باپ بن جانا؛ سات بیٹیاں اور تین بیٹے۔ اس کے نزدیک شاید یہی مردانگی کی معراج تھی اور یہی اس کی زندگی کی سب سے بڑی کامیابی۔ دن چڑھتے ہی وہ شراب کی دنیا میں گم ہو جاتا، اور ڈھلتی شام تک مدہوشی اس کا مقدر بنی رہتی۔ گھر کی دہلیز پر قدم رکھتے ہوئے بھی وہ ہوش و حواس سے عاری ہوتا، جیسے ذمہ داری، احساس اور فرض نام کی کوئی شے اس کے وجود سے کبھی ٹکرائی ہی نہ ہو۔ یوں گھر کی باگ ڈور خود بخود فاطمہ کے کمزور مگر حوصلہ مند ہاتھوں میں آ گئی۔ فاطمہ نے شکوہ کم اور حوصلہ زیادہ اپنایا۔ اس نے حالات کے سامنے ہتھیار ڈالنے کے بجائے محنت کا دامن تھام لیا۔ دو چار نہیں بلکہ کئی گھروں میں کام کرنے لگی ،کہیں جھاڑو، کہیں برتن، کہیں بچوں کی دیکھ بھال تاکہ اس کے اپنے بچے بھوکے نہ سوئیں اور شرابی شوہر کی سانسیں بھی چلتی رہیں۔ اس کے ہاتھوں میں چھالے تھے مگر آنکھوں میں صبر کی روشنی، بدن تھکا ہوا تھا مگر ارادہ فولاد جیسا مضبوط۔ یوں فاطمہ ایک عورت نہیں بلکہ ایک پورا ادارہ بن گئی،ماں بھی، باپ بھی، کفیل بھی اور محافظ بھی۔ اس کی خاموش جدوجہد ان کہی داستان تھی، جو ہر سانس کے ساتھ لکھی جا رہی تھی، مگر پڑھنے والا کوئی نہ تھا۔
ایک روز جب میں معمول کے مطابق گھر میں داخل ہوا تو اندر سے میری اہلیہ کی گھبرائی ہوئی اور بلند آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔ وہ بار بار فاطمہ۔ فاطمہ پکار رہی تھیں۔ دل بے اختیار دھک سے رہ گیا۔ میں تیزی سے اندر کی طرف لپکا تو دیکھا کہ فاطمہ زمین پر بے سدھ پڑی ہے اور میری اہلیہ کے ہاتھ میں پانی کا گلاس ہے، جس سے وہ اس کے چہرے پر پانی کے چھینٹے مار رہی تھیں، گویا زندگی کی لوٹتی ہوئی سانسوں کو آواز دے رہی ہوں۔ مجھے دیکھتے ہی ان کے چہرے پر جیسے کچھ حوصلہ آ گیا۔ بلا تاخیر انہوں نے میرے چھوٹے بیٹے کو ساتھ لیا اور فاطمہ کو قریبی ہسپتال پہنچایا۔ معلوم ہوا کہ شدید کمزوری کے باعث اسے چکر آ گیا تھا۔ ہسپتال سے واپسی پر بھی میری اہلیہ نے اسے تنہا نہ چھوڑا؛ وہ اس کے پاس بیٹھ کر دلاسا دیتی رہیں، اس کی خیریت پوچھتی رہیں، جیسے وہ محض ایک ملازمہ نہیں بلکہ گھر کی اپنی فرد ہو۔ بعد ازاں فاطمہ کے بیٹے کو فون کر کے گھر بلوایا گیا اور آٹو رکشا میں بٹھاتے وقت سختی سے یہ ہدایت دی گئی کہ وہ چند دن مکمل آرام کرے۔ مگر حیرت کی بات یہ تھی کہ تیسرے ہی دن فاطمہ دوبارہ کام پر حاضر تھی، گویا بیماری اور کمزوری نے اس کی ضد اور عادت کے آگے ہتھیار ڈال دیے ہوں۔ کبھی کبھار وہ میری اہلیہ کی بات بھی نہیں مانتی، جیسے اس گھر کی ساری ذمہ داری اسی کے کاندھوں پر آن پڑی ہو۔ ایسے مواقع پر میں اپنی ناگواری چھپائے بغیر اہلیہ سے کہہ دیتا کہ فاطمہ کو ذرا قابو میں رکھو، مگر وہ ہمیشہ مسکرا کر بات ٹال دیتیں۔
فاطمہ کا معمول یہ تھا کہ وہ روزانہ اپنے بچوں کو ساتھ لے کر آتی۔ ہمارے گھر کے قریب واقع اسکول میں وہ بچے تعلیم حاصل کرتے اور شام ڈھلتے ہی، اسکول کی گھنٹی کے ساتھ، فاطمہ انہیں اپنے ساتھ لے کر واپس گھر چلی جاتی۔ اس نے اپنی بیٹیوں کو ساتویں جماعت سے آگے نہیں پڑھایا تھا۔ اس کی ایک چھوٹی بیٹی اس وقت ساتویں جماعت میں زیرِ تعلیم تھی ۔ میں نے ایک دن اس سے کہا کہ بچوں کی تعلیم جاری رکھنی چاہیے، مگر معلوم ہوتا تھا کہ فاطمہ کے ذہن میں تعلیم کی آخری حد بس ساتویں جماعت ہی تھی۔فاطمہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں اور دل کو چھو لینے والا پہلو یہ تھا کہ وہ اپنے بچوں سے بے پناہ محبت کرتی تھی۔ گھر میں اگر کبھی مٹھائی یا پھل دیے جاتے تو وہ خود کھانے کے بجائے انہیں سنبھال کر گھر لے جاتی اور اپنے بچوں میں بانٹ کر کھلاتی، گویا ان کی خوشی ہی اس کی اپنی خوشی تھی۔ایک دن اس کی ناگفتہ بہ حالتِ زار دیکھ کر میرے ماموں جان نے میری اہلیہ سے کہا کہ اگر فاطمہ رضامند ہو تو اس کی ایک چھوٹی بیٹی کو حیدرآباد چھوڑ آیا جائے، جہاں میرے ماموں کے بیٹے اور بہو رہتے تھے، شاید وہاں اسے بہتر سہولتیں میسر آ سکیں۔ مگر میری شریکِ حیات فاطمہ کے دل سے خوب واقف تھیں۔ وہ جانتی تھیں کہ غربت کے باوجود اس کے بچے اس کی زندگی کا سرمایہ ہیں، اس کی سانسوں کی ڈور انہی سے بندھی ہوئی ہے۔ چنانچہ انہوں نے اس بارے میں فاطمہ سے پوچھنے کی بھی جرأت نہ کی۔
آج میری اہلیہ نے دل کی بے چینی کے ساتھ فاطمہ کو فون ملایا کہ معلوم ہو سکے حالات کس موڑ پر آ کر ٹھہر گئے ہیں۔ دوسری طرف چند لمحوں کی خاموشی کے بعد فاطمہ کی بھری ہوئی آواز سنائی دی، اس نے ٹوٹے ہوئے لہجے میں بتایا کہ کل اس کے شوہر کا انتقال ہو چکا ہے۔ یوں محسوس ہوا جیسے وہ الفاظ نہیں، آنسو بول رہے ہوں۔
ممکن ہے فاطمہ کے دل و دماغ کو یہ خیال اندر ہی اندر کھائے جا رہا ہو کہ اس کا شوہر خواہ جیسا بھی تھا، نفسیاتی طور پر وہی اس کا محافظ اور سہارا تھا، جو اب اس کی زندگی سے ہمیشہ کے لیے جدا ہو چکا ہے۔یہ خبر سنتے ہی میری اہلیہ کے چہرے پر گہری اداسی اتر آئی اور آنکھوں میں آنسو تیرنے لگے۔ میں نے سبب پوچھا تو ضبط کا بندھن ٹوٹ گیا اور آنسو ساون بھادوں کی لڑی بن کر بہنے لگے۔ میں خاموشی سے باہر ڈرائنگ روم میں آ بیٹھا، کیونکہ میں بخوبی جانتا تھا کہ اس لمحے فاطمہ کے خیال نے میری اہلیہ کے دل پر کیا قیامت ڈھا دی ہوگی۔یوں فون کی دوسری جانب سے آنے والی وہ ٹوٹی ہوئی آواز گویا ہمارے گھر کی دیواروں سے ٹکرا کر ہمارے دلوں میں اتر گئی۔ فاطمہ کے شوہر کی جدائی کا دکھ محض اس کا ذاتی المیہ نہ رہا، بلکہ ہمارے آنگن میں بھی خاموشی اور سوگواری کی چادر تان گیا۔ میری اہلیہ کی آنکھوں سے بہتے آنسو اس بات کی گواہی دے رہے تھے کہ انسانیت کا رشتہ خون اور ذات کا محتاج نہیں ہوتا، وہ صرف دل سے دل تک کا سفر کرتا ہے۔ میں تنہا بیٹھا یہی سوچتا رہا کہ دکھ کا کوئی طبقہ نہیں، غم کی کوئی سرحد نہیں، اور آنسو کسی تعارف کے پابند نہیں ہوتے۔ اللہ تعالیٰ نے انسانی احساسات و جذبات ہر انسان میں ودیعت کر دیے ہیں تا کہ یہ یاد دہانی ہو کہ انسان ہونے کی اصل پہچان یہی مشترک درد اور بے لفظ ہمدردی ہے۔
