پونہ کا ادبی چراغ بجھ گیا، ادھو مہاجن بسملؔ

مضامین
از؛-آفتاب عالم ؔ شاہ نوری ۔بلگام کرناٹک۔8105493349
پونہ شہر میرے لیے کوئی نیا شہر نہیں۔ برسوں سے آنا جانا لگا رہتا ہے، اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ میری بہن اور بہنوئی پونہ ہی میں مقیم ہیں۔ ان سے ملنے اکثر آنا ہوتا ہے۔ ایک بار جب میں پونہ گیا ہوا تھا تو میں نے واٹس ایپ کے ایک گروپ میں رئیس الدین رئیس صاحب کا ایک شعر پوسٹ کیا۔ شعر کچھ یوں تھا
ورک ورک تجھے تحریر کرتا ہوں
میں زندگی تیری تشہیر کرتا ہوں
رئیس الدین رئیس
خوش قسمتی سے یہ شعر اردو شعر و ادب کے مشہور و معروف شاعر ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کو بہت پسند آیا۔ انہوں نے میسج کیا کہ رئیس صاحب میرے اچھے دوستوں میں سے تھے۔ میں نے ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب سے پوچھا کہ آپ کا آبائی وطن کون سا ہے؟ تو انہوں نے جواب دیا کہ راجستھان ہے، مگر پونہ کو میں نے وطنِ ثانی بنا لیا ہے۔ جب میں نے انٹرنیٹ پر نذیر صاحب کے بارے میں تلاش کیا تو دنگ رہ گیا، کیونکہ نذیر صاحب تو اردو زبان و ادب کی ایک بڑی اور معتبر شخصیت ہیں۔ میں نے ان سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی تو انہوں نے کہا کہ کل ٹھیک دس بجے میرے مکان پر آ جائیے۔ انہوں نے اپنا پتہ بھیج دیا اور بتایا کہ کچھ دیگر رفقا بھی آ رہے ہیں، آپ ان سے بھی ملاقات کر لیجیے گا۔ اگلے دن میں ان کے بتائے ہوئے پتے پر ٹھیک دس بجے پہنچا۔ نذیر صاحب نے بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا۔ تھوڑی دیر بعد ادھو مہاجن بسمل صاحب بھی آ پہنچے۔ سب سے پہلے نذیر صاحب نے میرا تعارف بسمل صاحب سے کرواتے ہوئے کہا یہ آفتاب عالم شاہ نوری ہیں، شاعر ہیں اور کرناٹک سے ان کا تعلق ہے۔ پھر بسمل صاحب کے بارے میں مجھے بتایا کہ یہ ادھو مہاجن بسمل صاحب ہیں، اب تک اٹھارہ کتابیں تحریر کر چکے ہیں اور ان کے دو نعتیہ مجموعے بھی شائع ہو چکے ہیں۔ میں یہ سن کر حیران رہ گیا کہ ایک مراٹھی بولنے والا انسان اس طرح اردو میں اتنی کتابوں کا مصنف کیسے بن سکتا ہے۔ بعد میں آہستہ آہستہ یہ بات سمجھ میں آئی کہ مہاجن صاحب گزشتہ پچیس سے تیس برسوں سے ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کی صحبت سے وابستہ ہیں، اور یہی صحبت ان کی ادبی تشکیل کا اصل سبب ہے۔ پہلی ہی ملاقات میں مہاجن صاحب اس قدر گھل مل گئے کہ یوں محسوس ہونے لگا جیسے ہم ایک دوسرے کو برسوں سے جانتے ہوں۔
انہوں نے اپنا موبائل نمبر بھی دیا۔ حسنِ اتفاق یہ تھا کہ اگلے دن نذیر صاحب کی نئی کتاب کا اجراء انہی کے مکان پر ہونا تھا، اس لیے نذیر صاحب اور بسمل صاحب دونوں نے مجھے دوبارہ آنے کی دعوت دی اور بتایا کہ ایک شعری نشست بھی ہوگی۔ کچھ دیر بعد نذیر صاحب نے ہمیں راجستھانی طرز کا ناشتہ کرایا۔ گھنٹوں ادھر اُدھر کی باتیں ہوتی رہیں اور ہم نے اگلے دن دوبارہ آنے کا وعدہ کر کے رخصت لی۔ اگلے دن جب میں صبح نذیر صاحب کے مکان پر پہنچا تو وہاں شعرا و ادبا کا خاصا ہجوم تھا۔ اسی محفل میں کئی نئے لوگوں سے ملاقات ہوئی، جن میں جعفر صاحب، امتیاز خان صاحب، رفیق قاضی صاحب اور تنویر صاحب شامل تھے۔ کتاب کا اجراء ہوا اور اس کے بعد ایک یادگار شعری نشست منعقد ہوئی، جس کی نظامت خود مہاجن صاحب نے کی۔ نذیر صاحب نے تمام معزز شعرا کے لیے دوپہر کے کھانے کا بھی اہتمام کیا تھا۔ شام کے قریب میں نے نذیر صاحب، مہاجن صاحب اور دیگر احباب سے اجازت لی اور واپس گھر لوٹ آیا۔ اس کے بعد میرا مہاجن صاحب سے مسلسل رابطہ رہا۔ وہ اپنی تخلیقات بھیجا کرتے تھے اور میں بھی اپنی غزلیں اور نظمیں انہیں ارسال کرتا رہتا تھا۔ فون پر بھی اکثر بات چیت ہوتی رہتی۔ ایک دن مہاجن صاحب کا فون آیا، کہنے لگے کہ میری نئی کتاب کا رسمی اجراء ہے اور آپ کو لازماً آنا ہوگا۔ اب تعلقات اتنے مضبوط ہو چکے تھے کہ انکار ممکن نہیں تھا، چنانچہ میں نے حامی بھر لی۔ مہاجن صاحب نے لوکیشن بھیج دی۔ پونہ کے ایک مشہور و معروف مقام پر کتاب کا اجراء ہوا اور ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہوا، جس کی نظامت رباعی کے معروف شاعر تنویر صاحب نے کی۔ اسی مشاعرے میں میں نے اپنی ایک غزل پڑھی، جو نذیر صاحب کے علاوہ وہاں موجود تمام شعرا اور سامعین کو بہت پسند آئی۔ وہ غزل یہ ہے۔
شیشہ گر کی بستی میں امتحان پتھر کا
ہے زمین پتھر کی آسمان پتھر کا
کانچ سے بنی چیزیں گھر میں کیسے لاؤ گے
پتھروں کی چوکھٹ ہے سائبان پتھر کا
سَنگ لاخ دھرتی پر پھول بھی ہیں پتھر کے
ہیں شگوفے پتھر کے باغبان پتھر کا
سنگ باری ہوتی ہے جس طرف بھی چلتا ہوں
لڑکھڑاتی دیواریں ہر مکان پتھر کا
میل کا یہ پتھر ہے راستہ بتائے گا
اعتبار کر لینا میری جان پتھر کا
تیری کشتی کا عالم ؔ ڈوبنا یقینی ہے
ناخدا نے باندھا ہے بادبان پتھر کا
آفتاب عالم ؔ شاہ نوری
پروگرام کے اختتام پر مہاجن صاحب نے مجھے بطورِ ہدیہ ایک لفافے میں رقم دے دی۔ دن گزرتے گئے اور مہاجن صاحب کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط ہوتے چلے گئے۔ جب بھی پونہ جانا ہوتا، مہاجن صاحب اور نذیر صاحب سے ملاقات ضرور کرتا، ان کے بغیر پونہ کا سفر ادھورا محسوس ہوتا۔ پچھلی بار جب میں پونہ گیا تو مہاجن صاحب نے ایک عجیب اور خوش کن بات کہی۔ بولے آفتاب صاحب، آپ کی آمد پر میں نے اپنے مکان پر ایک شعری نشست کا اہتمام کیا ہے، جس میں اردو، ہندی اور مراٹھی کے مشہور شعرا شریک ہوں گے۔ انہی میں اردو کے معروف شاعر امتیاز خان صاحب بھی ہوں گے۔ میں نے امتیاز خان صاحب کو فون کیا تو انہوں نے کہا کہ آپ میرے گھر آ جائیے، ہم دونوں ساتھ چلیں گے۔ میں ان کے گھر پہنچا اور وہیں سے ان کی کار میں ہم مہاجن صاحب کے مکان گئے۔ اس شعری نشست میں اردو، ہندی اور مراٹھی کے کئی شعرا نے اپنا کلام سنایا۔ مہاجن صاحب کی خواہش تھی کہ میں کھانا کھا کر جاتا، مگر میں نے معذرت کر لی۔ پروگرام کے اختتام پر ہم نے نذیر صاحب کو ان کے مکان پر چھوڑ دیا۔ یہ میری مہاجن صاحب سے آخری ملاقات ثابت ہوئی۔ میں نے مہاجن صاحب کے لیے ایک نظم کہی تھی، جو انہوں نے ہوٹل میں کھانے کی میز پر اپنے دوستوں کو سنائی۔ وہ نظم یوں ہے
دس بیس روز قبل میں نے مہاجن صاحب کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ طبیعت کچھ ناساز ہے اور بدھ کے دن آپریشن ہونا ہے، دعا کی درخواست بھی کی۔ میں نے کہا کہ ضرور دعا کروں گا اور یہ بھی عرض کیا کہ رمضان سے پہلے آپ سے ملاقات کے لیے آ جاؤں گا، مگر قدرت کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ بروز اتوار، 25 جنوری 2026، رات نو بجے ڈاکٹر نذیر فتح پوری صاحب کا فون آیا کہ ادھو مہاجن بسمل صاحب کا انتقال ہو گیا ہے۔ یہ خبر سن کر دل شدید رنج و غم سے بھر گیا۔ یوں اردو ادب کا ایک روشن چراغ ہمیشہ کے لیے بجھ گیا۔