از؛۔حفصہ بیگ
سیمینار ہال کھچا کھچ بھرا ہوا تھا۔
دیواروں پر لگی مدھم روشنی علم کی سنجیدگی کا تاثر دے رہی تھی، جیسے یہاں الفاظ تولے جائیں گے اور دلیلیں ناپی جائیں گی۔ موضوع سنجیدہ تھا، مقالے وزنی تھے، اور ماحول بظاہر علمی۔
پھر دروازہ کھلا۔
سحر اندر آئیں۔
ایسا نہیں کہ وہ پہلی عورت تھیں جو کسی سیمینار میں آئی ہوں۔
ایسا بھی نہیں کہ وہ پہلی بار میک اپ کر کے آئی ہو۔
فرق صرف یہ تھا کہ وہ جانتی تھیں کہ اسے دیکھا جائے گا اور وہ دیکھی جانا چاہتی تھیں۔
چمکتا ہوا برقعہ جوجسم سے چپکا ہوا، بلند ایڑیاں، ہونٹوں پر ایسا رنگ جو سوال سے زیادہ اعلان لگتا تھا۔ ہاتھ میں موبائل ضرور تھا مگر وہ موبائل سے زیادہ خود اعتمادی اٹھائے ہوئے تھیں۔ یا شاید خود نمائی۔
وہ آ کر اگلی صف میں بیٹھ گئیں۔
عالیہ نے ایک لمحے کو سر اٹھا کر دیکھا، پھر نظریں جھکا لیں۔
اسے اندازہ ہو گیا تھا کہ آج موضوع بدل جائے گا۔
لیکچر جاری تھا۔ ہال میں مکمل خاموشی تھی۔
اچانک سحر کھڑی ہوئیں۔
سر، اگر آپ اجازت دیں تو میں ایک
سوال رکھنا چاہوں گی۔۔
آواز میں ٹھہراؤ کم، اعلان زیادہ تھا۔
پچھلی قطاروں میں بیٹھے مرد یک دم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے۔ نگاہیں اسٹیج سے ہٹ کر سحر پر جم گئیں۔ سوال ختم ہوا تالیاں بجیں۔
لیکچرر نے مسکرا کر جواب دیا۔
چند منٹ بعد سحر دوبارہ کھڑی ہوئیں۔
پھر سوال۔
پھر نگاہیں۔
پھر تالیاں۔
درجنوں آنکھیں تھیں جو سوال نہیں سن رہیں تھیں بلکہ صرف سوال کرنے والی کو دیکھ رہی تھیں۔
سحر سامعین میں سے تھیں۔
ڈگریاں معمولی تھیں، لیکن تعارف شاندار۔
سوشل میڈیا پر وہ سحر ۔۔ شاعرہ، افسانہ نگار اور ادیبہ تھیں۔
فیس بک کی دنیا میں اسکےبن کے چند مداح تھے جو ہر پوسٹ کے نیچے دل، آگ اور تعریف کے پھول کھلتے تھے۔
وہ جانتی تھیں کہ کیمرہ کس زاویے سے ان پر مہربان ہوتا ہے، اور مرد کس زاویے سے۔
عمرکا ایک پڑاؤ پار کر چکی تھی، مگر وہ ہر تصویر میں خود کو ٹین گرل ثابت کرتی تھیں۔
شہرت کی دیوانگی تھی۔
واہ واہی کا جنون۔
لائکس اور کمنٹس اس کا نشہ۔
تیسری بار جب وہ کھڑی ہوئیں تو برابر میں بیٹھے پروفیسر کامران نے زیرِ لب کہا،
"واہ، کتنی جرات مند ہیں۔ ایسی خواتین ہی تعلیمی ماحول کو زندہ رکھتی ہیں۔”
ساتھی نے مسکرا کر جواب دیا کہ اور پریزنٹیشن بھی کمال کا ہے
عالیہ سے رہا نہ گیا۔
سر، جرات سوال میں ہے یا انداز میں یا پھر اداؤں میں؟
کامران چونکے۔آپ کیا کہنا چاہتی ہیں؟
عالیہ نے نظریں سامنے رکھتے ہوئے کہا،
اگر یہی سوال کوئی سادہ لباس میں، دھیمی آواز میں پوچھتا تو بھی اتنی ہی تالیاں بجتیں؟
کامران خاموش ہو گئے۔
سیمینار ختم ہوا۔ فوٹوز کا سلسلہ شروع ہوا۔
مرد اس کے گرد ایسے جمع تھے جیسے کسی کامیاب مقالے کے گرد نہیں، کسی نئی کشش کے گرد ہوں۔
مس سحر، ایک تصویر ادھر بھی پلیز
آپ کا کانٹیکٹ نمبر مل سکتا ہے؟ ڈسکشن کرنا ہے۔
سحر مسز سحر ہوتے ہوئے بھی مس سن کر اور چوڑی ہوگئی۔۔
!! آپ نے تو آج محفل لوٹ لیا
وہ ہنس رہی تھیں۔
بال سنوارتی ہوئی۔
ہر تصویر میں زاویہ درست کرتی ہوئی۔
عالیہ ایک طرف کھڑی یہ منظر دیکھ رہی تھی۔
اچانک سحر اس کے قریب آئیں۔
ڈاکٹر عالیہ، آپ کچھ بولیں ہی نہیں آج۔۔۔”موضوع پر بولنے کو کچھ بچا ہی نہیں تھا۔ سحر نے ہلکا سا طنز لگایا۔۔دیکھئے، اس میدان میں اگر خود کو نمایاں نہ کریں تو لوگ یاد نہیں رکھتے۔۔
عالیہ نے پہلی بار پوری شدت سے اس کی طرف دیکھا۔ یاد رکھنے کے لیے نمایاں ہونا ضروری ہے۔۔ یا معتبر ہونا؟
سحر کی مسکراہٹ لمحہ بھر کو رکی۔
آپ کہنا کیا چاہتی ہیں۔
عالیہ کی آواز اب نرم نہیں تھی۔
میں صرف یہ کہہ رہی ہوں کہ تالیاں ہمیشہ علم کے لیے نہیں بجتیں۔
کبھی کبھی وہ آنکھوں کی تسکین کے لیے بھی بجتی ہیں۔
فضا یک دم سنجیدہ ہو گئی۔
کامران قریب آئے۔آپ دونوں کیوں بحث کر رہی ہیں؟ ہرایک کا اپنا انداز ہے۔
عالیہ نے گہری سانس لی۔
انداز پر اعتراض نہیں سر۔
اعتراض اس نظر پر ہے جو سوال نہیں، چہرہ سنتی ہے۔
اعتراض اس تعریف پر ہے جو دلیل سےپہلے زلفوں کی تعریف کرے۔
کامران نے قدرے سخت لہجے میں کہا،
"آپ شاید حسد کر رہی ہیں۔”
یہ جملہ تیر کی طرح لگا۔
مگر عالیہ مسکرائی۔نہیں سر۔ میں صرف مشاہدہ کر رہی ہوں۔
ایک سال پہلے جب میں نئی تھی تو یہی ہجوم میرے گرد تھا۔
آج کوئی اور نئی ہے۔ کل کوئی اور ہوگی۔
آپ لوگ نئی چیز کے عاشق ہیں اور عاشق فادار نہیں ہوتے۔۔
سحر نے دھیمی آواز میں کہا،تو کیا خود اعتمادی بھی جرم ہے؟
ہرگز نہیں۔ مگر خود اعتمادی اور نمائش میں فرق ہوتا ہے۔
اور مرد اکثر اس فرق کو جان بوجھ کر بھول جاتے ہیں۔۔
چند لمحے مکمل خاموشی کے بعد۔
عالیہ نے آخری بات کہی کہ اصل مسئلہ عورت نہیں ہے
اصل مسئلہ وہ نظر ہے جو دوسروں کی بے باکی پر فدا ہو جاتی ہے،
مگر اپنی عورت کے سوال پر اسے گستاخ کہتی ہے۔
جو دوسروں کی مسکراہٹ پر جان نثار کرے،
مگر گھر کی عورت کے وقار کو معمولی سمجھے۔
ہال تقریباً خالی ہو چکا تھا۔
سحر کے فون پر نوٹیفکیشن بجا۔ واہ سحر! آپ نے آج کمال کر دیا!
ملنا ہے آپ سے۔
انہوں نے اسکرین دیکھی۔
مسکراہٹ آئی۔
پھر اچانک وہ مسکراہٹ تھوڑی سی ڈگمگا گئی۔
شاید پہلی بار اسے احساس ہوا کہ یہ تالیاں اس کی نہیں، ان کی تصویر کی تھیں۔
یہ مداح اسکے علم کے نہیں، ان کے عکس کے تھے۔
عالیہ نے اپنا فائل اٹھایا۔
دروازے تک پہنچی۔
پھر رکی۔
تالیاں وقتی ہوتی ہیں۔۔
وقار دیرپا ہوتا ہے۔
اور میں نے فیصلہ کر لیا ہے مجھے تالیاں نہیں چاہئیں۔”
وہ باہر نکل گئی۔
اندر اب بھی چند مرد سحر کے ساتھ سیلفیاں لے رہے تھے۔
مگر پہلی بار سحر کی مسکراہٹ میں ہلکی سی بے چینی تھی۔
کیونکہ شہرت شور تو دیتی ہے سکون نہیں۔
