چالیس برس پرانا میراث کا وہ فیصلہ جس نے دلوں کو پھر سے جوڑ دیا!

مضامین

از؛۔مفتی محمد اشفاق قاضی۔بانی وڈائریکٹر۔ فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹرممبئی

بعض اوقات مسئلہ زمین اور جائیداد کا نہیں ہوتا، مسئلہ دلوں کا ہوتا ہے، چند سطریں جو کسی کاغذ پر لکھی جاتی ہیں، وقت کے ساتھ نسلوں کے درمیان دیوار بن جاتی ہیں، بظاہر سب ایک ہی چھت کے سائے تلے پروان چڑھ رہے ہوتے ہیں، ایک ہی خاندان سے نسبت رکھتے ہیں، مگر خاموشی کی تہہ میں دبے ہوئے شکوے شکایات آہستہ آہستہ فاصلے پیدا کر تے چلے جاتے ہیں، وقت گزرتا رہتا ہے، بچے بڑے ہو کر خود ماں باپ ، دادا دادی اور نانا نانی کا مقام حاصل کرلیتے ہیں، مگر ایک ادھورا فیصلہ دل کے کسی گوشے میں چبھتا رہتا ہے، ایسا ہی ایک مسئلہ ۴اپریل ۲۰۱۵کو دارالافتاء والارشاد جامع مسجد میں آیا، یہ محض ترکے کا معاملہ نہ تھا، بلکہ چالیس برسوں سے دلوں پر رکھا ہوا ایک بوجھ تھا، اس کی جڑیں سنہ ۱۹۸۶ ء سے شروع ہوتیں ہیں، اور آج چالیس سال گزر چکے ہیں، مگر مسئلہ مکمل طور پر حل نہ ہو سکا تھا، بس نسلیں بدل گئی تھیں، مرحوم محمد صالح (فرضی نام) کے انتقال کے وقت ان کے چار بیٹے اور تین بیٹیاں حیات تھیں، اور اللہ کا شکر ہے کہ آج بھی سب زندہ ہیں، وقت نے انہیں دادا، دادی، نانا اور نانی بنادیا، ان کی اولادیں اور اکثر کی اولادوں کی اولادیں بھی ہو چکی ہیں، مگر دلوں کے کسی کونے میں ایک خلش باقی تھی، اختلافات تھے، ہر ایک کے پاس اپنی دلیل تھی، اپنی تکلیف تھی، اپنا مؤقف تھا، لیکن برسوں تک کوئی کھل کر ایک دوسرے کے سامنے بیٹھ نہ سکا، مرحوم نے اپنی وفات سے کچھ عرصہ پہلے ایک تقسیم نامہ تحریر کر کے اپنے کباٹ (الماری) میں محفوظ کر دیا تھا، اس تحریر میں بعض زمینیں اور جائیدادیں بیٹوں کے نام کی گئی تھیں اور چند ایسی املاک جہاں سے کرایہ آتا تھا، ان کی آمدنی بیٹیوں کے لیے مقرر کی گئی تھی، اسی وصیت نما تحریر کو سامنے رکھ کر بھائی بہن برسوں چلتے رہے، یہ سمجھتے ہوئے کہ شاید یہی شریعت کا فیصلہ ہے، اور اس کے علاوہ کچھ نہیں لیکن حقیقت یہ تھی کہ والد کی وفات کے وقت ان پر بہت بڑا قرض بھی تھا، ان کی عمر زیادہ نہ تھی، اس لیے بڑے بھائی کے کندھوں پر اچانک بے شمار ذمہ داریاں آ گئیں، وراثت نہ اس وقت باضابطہ تقسیم ہوئی، نہ تقسیم نامہ یا ہبہ نامہ پر کوئی باقاعدہ مذاکرہ ہوا، وقت گزرتا رہا اور معاملہ الجھتا چلا گیا، مرحوم کی پانچ بڑی ملکیتیں تھیں ،ایک وسیع کوٹھی جہاں رہائش تھی، بازار کے اندر کرائے پر دی ہوئی بڑی چال، جس سے باقاعدہ کرایوں کی شکل میں آمدنی آتی تھی، رہائشی مکان سے متصل ایک بڑی زمین، پچاس کلومیٹر دور پچاس گنٹا زمین جو خریدی گئی تھی، اور ایک تالاب جسے مچھیروں کو کرائے پر دیا جاتا تھا، چالیس سال کے عرصے میں حالات نے کروٹ لی، ان میں سے تین ملکیتیں مکمل طور پر ختم ہو گئیں، جو رقم حاصل ہوئی، اس کا بڑا حصہ والد کے قرض کی ادائیگی میں صرف ہوگیا اگرچہ قرض کی تفصیلات میں کچھ اختلاف ضرور تھا، کسی کے نزدیک کچھ زیادہ، کسی کے نزدیک کچھ کم، مگر جب سب کو بٹھا کر تفصیل سے سنا گیا، ہر بھائی سے الگ بات کی گئی، ہر بہن سے علیٰحدہ علیحدہ بات کی گئی تو مسئلہ واضح ہوگیا، یہاں تک کہ بہنوں کے شوہروں یعنی دامادوں کو بھی بلا کر پوری بات سمجھنے سمجھانے کی کوشش ہوئی اور رفتہ رفتہ ایک دوسرے کے دل کے غبار صاف ہونے لگے، گرہیں کھلنے لگیں، طویل گفتگو، باریک بینی سے جائزہ اور خلوص کے ماحول میں آخرکار سب اس بات پر سو فیصد متفق ہوگئے کہ جو تین ملکیتیں فروخت ہوئیں، ان کی قیمت کو مکمل طور پر والد کے قرض کی ادائیگی میں شمار کیا جائے، اگر لین دین میں کہیں کچھ روپیوں کا فرق بھی آیا ہو تو وہ باہمی معافی تلافی سے ختم سمجھا جائے، یوں اختلاف کا ایک بڑا اور پرانا باب بند ہو گیا، پھر وصیت نامہ کا مسئلہ سامنے آیا، یہاں واضح کیا گیا کہ اولاد کے حق میں وصیت نافذ نہیں ہوتی، ’لا وصیۃ لوارث‘ کے اصول کے تحت وہ تحریر شرعاً معتبر نہیں، بیٹوں اور بیٹیوں کا حق شریعت نے مقرر کیا ہے، بیٹی کو بیٹے کے مقابلے میں نصف سہی، مگر وہ اس کا شرعی حق ہے، کسی کی مہربانی نہیں، چنانچہ سب نے دل کی رضامندی سے طے کیا کہ وصیت کو بنیاد نہ بنایا جائے، اس تحریر کو اب مزید مذاکرے میں نہ لایا جائے، اور باقی جائیداد شرعی ضابطے کے مطابق تقسیم کی جائے، اب دو ملکیتیں باقی تھیں، ایک وہ زمین جس پر ری ڈیولپمنٹ کے ذریعے فلیٹ بنائے گئے تھے، تعمیر اور دیگر اخراجات نکالنے کے بعد جو تناسب اور نفع باقی ہے، وہ چاروں بھائیوں اور تینوں بہنوں کے درمیان شرعی اصول کے مطابق تقسیم ہوگا، دوسری ملکیت تالاب ہے، اس کی موجودہ مارکیٹ ویلیو طے کی جائے گی، اگر بھائیوں بہنوں میں سے کوئی لینا چاہے تو لے لے، ورنہ اسے فروخت کر کے سب کو ان کا حق دے دیا جائے، چار گھنٹے کی مسلسل نشست، اس سے پہلے تین چار الگ الگ ملاقاتیں، ہر فریق کو کھل کر سننا، ظلم کے پہلو کو روکنا، غلط فہمی کو دور کرنا، زیادتی کرنے والے کو نرم مگر مضبوط رہنمائی دینا شامل تھا، آخرکار اللہ نے برکت دی، سو فیصد اتفاق کے ساتھ چالیس سالہ پرانا تنازع ختم ہوا، وہ خطرہ بھی ٹل گیا کہ یہ رنجشیں آئندہ نسلوں تک منتقل ہوں گی، دل صاف ہوئے، نظریں ملیں اور بھائی بہن پڑے پیار و محبت سے ایکدوسرے سے معافی تلافی کرتے ہوئے نمدیدہ آنکھوں اور اپنی بچپن و لڑکپن کی محبتوں کو دل میں سماتے ہوئے اپنے گھر لوٹنے لگے، یہ واقعہ اس حقیقت کی روشن مثال ہے کہ مسائل طاقت سے نہیں، حکمت سے حل ہوتے ہیں، اگر بیٹھ کر خلوص سے سنا جائے، انصاف کو بنیاد بنایا جائے اور انا کو ایک طرف رکھ دیا جائے تو پیچیدہ سے پیچیدہ مسئلہ بھی سلجھ سکتا ہے اور قدیم سے قدیم اور پرانی دراڑ بھی بھری جا سکتی ہے۔فیملی فرسٹ گائیڈنس سینٹر اسی مقصد کے لیے قائم کیا گیا ہے، یہاں دلوں کو جوڑنے کے لیے، وراثت اور ترکے کے پیچیدہ مسائل کو شریعت اور انصاف کی روشنی میں حل کیا جاتا ہے، دو بھائیوں کے دلوں میں پیدا ہونے والی دوریوں کو ختم کرنے کی سنجیدہ کوشش کی جاتی ہے، بچوں کی بہتر نگہداشت اور تربیت کے مشورے دیے جاتے ہیں، نشہ اور آن لائن گیم کے عادی بچوں کے لیے بہتر کاؤنسلنگ کا انتظام کیا جاتا ہے، مالی تنازعات اور گھریلو اختلافات میں بہتر رہنمائی فراہم کی جاتی ہے، تاکہ خاندان ٹوٹنے کے بجائے سنبھل جائیں، فیملی فرسٹ محض ایک مرکز نہیں، بلکہ رشتوں کو بچانے اور نسلوں کو جوڑنے کی ایک کوشش ہے، تاکہ ہم اپنی اولادوں کو جائیداد سے زیادہ محبت، انصاف اور اتفاق کی میراث دے کر جائیں، اللہ تعالیٰ ہمیں بھی اپنے گھروں کے مسائل کو فہم و فراست اور خیر خواہی کے ساتھ حل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے