وزیر کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی ہے تو عدالتیں کچھ نہیں کرسکتی: سپریم کورٹ

سلائیڈر نیشنل نیوز
دہلی:۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ اگر کوئی وزیر کی کارکردگی بہتر نہیں ہوتی ہے تو وزیر اعظم اس  معاملہ سے نمنٹ لیں  گے۔ اور اس طرح کے معاملات میں عدالتیں کچھ نہیں کرسکتی۔ عدالت عظمی نے مرکزی وزیر وی کے سنگھ کے خلاف دائر کردہ مفاد عامہ کی درخواست کو مسترد کرتے ہوئے اس طرح کا ریمارک کیا۔ درخواست گزار نے الزام لگایا  کہ مرکزی وزیر نے حکومت کے سرکاری فیصلوں کے خلاف بیانات دے کر اپنے حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔چیف جسٹس این وی رمنا ، جسٹس اے ایس بوپنا اور جسٹس ہریشکیش رائے پر مشتمل بنچ نے مرکزی وزیر کے خلاف کارروائی کی درخواست کی سماعت کی۔سماعت کے دوران عدالت نے درخواست گزار سے پوچھا کہ ‘اگر آپ کسی وزیر کے بیانات کو پسند نہیں کرتے ہیں تو .. کیا آپ پٹیشن دائر کرتے ہوئے متعلقہ  وزیر کو ہٹانا دینے کی درخواست کرتے  ہیں؟ اگر وزیر کی کارکردگی اچھی نہیں ہے تو وزیر اعظم ایسے معاملات کا خیال رکھیں گے۔  سپریم کورٹ کا موقف ہے کہ ایسے معاملات میں عدالتیں کچھ نہیں کرسکتی ہیں۔  سپریم کورٹ نے درخواست گزار جو ایک سائنس دان ہیں کو ہدایت کی کہ وہ اپنی صلاحیتوں کو ملک کے مفاد کے لئے مختلف انداز میں استعمال کرے۔تمل ناڈو سے تعلق رکھنے والے سائنس دان ، چندرشیکرن رام سوامی نے سپریم کورٹ میں ایک مفاد عامہ کی درخواست دائر کی ہے جس میں یہ الزام لگایا گیا ہے کہ مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے بھارت – چین سرحد پر لائن آف کنٹرول (ایل اے سی) کے ہندوستانی سرکاری فیصلے کے خلاف بیان دیا ہے۔ . عدالت عظمی سے کہا گیا کہ وہ مرکزی حکومت کو ان کے خلاف کاروائی کرنے کی ہدایت دیں کیونکہ اس طرح کے بیانات سے مرکزی وزیر کی حیثیت سے ان کے عہدے کے دوران لیا گیا حلف کی خلاف ورزی کی ہے۔ عدالت عظمی نے اس معاملے کی جانچ پڑتال کے بعد درخواست خارج کردی۔