شیموگہ: مرکزی حکومت کے 12کمزور وزراء نے استعفیٰ دے دیا۔ لیکن اس ٹیم کےقائد ناکام وکمزوروزیر اعظم نریندرمودی نے کیوں استعفیٰ نہیں دیا ہے۔ یہ سوال کانگریس لیڈر اور کارپوریٹرایچ سی یوگیش نے کیا ہے۔ انہوں نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعہ بتایا کہ کوویڈ کی پہلی اوردوسری لہرمیں ملک کےوزیر صحت کون ہےاس بات عوام واقف بھی نہیں تھی۔ وزیر اعظم جومن کی بات میں عوام سے جھوٹ بولتے رہے ہیں۔محکمہ صحت کے پروگراموں کا اعلان بھی وزیر اعظم ہی کرتے آئے ہیں۔ کوویڈ کیلئے بروقت ویکسین اور علاج کے بغیر ہزاروں لوگوںکو اپنی زندگیاں گنوانی پڑی ہیں۔ غیر مناسب لاک ڈاؤن کے باعث لوگوں نے اپنی ملازمتوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔بغیر مزدوری کے کئی لوگ بھوک سے مر گئے۔ ان ساری ناکامیوں کی سب سے بڑی وجہ وزیر اعظم نریندر مودی ہی ہیں انہیں ہی سب سے پہلے استعفیٰ دینا چاہئے تھا۔مزید کہا کہ وزیر صحت ہرش وردھن اوروزیر تعلیم رمیش پوکریال نے بھی ملک کے تعلیمی نظام کوبرباد کرکے رکھ دیا۔ کوویڈ کے معاملے میں صورتحال کو سنبھالنے میں وہ بھی پوری طرح ناکام رہے ہیں۔ رائٹ ٹو ایجوکیشن ایکٹ کے تحت نجی تعلیمی اداروںکو ملنے والی رقم سے بھی محروم کردیا گیاہے۔آن لائن تعلیم کے نام پر محض الجھنیں ہی پیدا کردی گئیں۔ہزاروں سرکاری اسکولوں کے بچوں کو آن لائن تعلیم حاصل ہی نہیںہوئی ہے۔ مجموعی طور پر تعلیمی کھاتہ سنبھالنے والےوزیر رمیش نے بچوں کا مستقبل برباد کردیا۔ اسی طرح وزیر مزدور سنتوش گنگوار نے بھی محنت کش طبقےکو سڑکوں پر پھینک دیا۔ بغیر کھانے کےمزدوروں کو مرنے کیلئے چھوڑ دیا ۔بغیرروزگار، بغیر رہائش، بغیر کوئی ٹرانسپورٹ کے غریب مزدورہزاروں کلومیٹر دور کاپیدل سفر کرنے پر مجبور ہوگئےتھے۔اس کارنامے کاسہرا وزیر برائے مزدور گنگوار کے سر جاتا ہے۔ ان تمام ناکامیوں کے قائدورہنما وزیر اعظم نریندرمودی کو بھی اپنی ناکامیوں کا احساس کرتے ہوئے بقیہ 12 وزراء کے ساتھ اپنا استعفیٰ دینے کا مطالبہ ایچ سی یوگیش نے کیا ہے۔
