بنگلورو:۔کرناٹک میں 19اور 22جولائی کو کروائے جانے والے ایس ایس ایل سی امتحان کے دوران کورونا وائرس سے بچنے کے لئے درکار احتیاطی اقدامات کے سلسلہ میں ریاستی حکومت کی طرف سے حفاظتی ضوابط جاری کئے گئے ہیں۔ حکومت نے تمام چھ موضوعات پر امتحان کو صرف دو دنوں میں سمیٹ دینے کا فیصلہ کیا تھا جس کو حال ہی میں ہائی کورٹ کی طرف سے بھی منظوری مل گئی۔ریاست بھر میں 46.8 لاکھ سے زائد طلباء رواں سال ایس ایس ایل سی امتحان لکھنے جا رہے ہیں۔ امتحان کے لئے ریاست بھر میں 4000سے زیادہ مراکز بنائے گئے ہیں۔ حکومت کی طرف سے امتحان کے لئے جو ضابطہ جاری کیا گیا ہے اس کے مطابق 18جولائی کو تمام امتحانی مراکز میں صفائی لازمی طور پر کروانی ہو گی۔ تمام مراکز میں موجود بیت الخلاء کی صفائی کے لئے سوڈیم ہائیدڈرو کلورائیڈ کا استعمال کرنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ امتحان کے پہلے اور بعد سنٹر کے تمام کمروں کو سیٹی ٹائز کروانے کی ہدایت دی گئی ہے۔ طلباء میں امتحان کے دوران اور اس کے بعد سماجی فاصلہ اورماسک کے استعمال کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ یہ ہدایت دی گئی ہے کہ اگر کسی طالب علم میں بخار کی علامتیں ہوں تو اس کو الگ کمرے میں بیٹھ کر امتحان لکھنے کی سہولت فراہم کی جائے۔امتحان کی تیاریوں کے بارے میں وزیر تعلیم سریش کمار نے بتایا کہ ریاست بھر میں تیاری پوری ہو چکی ہے۔تمام اضلاع میں ڈپٹی کمشنروں کو ضلع پنچایتوں کے چیف ایکزیکیوٹیو آفیسروں نے تیاریوں کا جائزہ لے لیا ہے ۔ ودھان سودھا میں محکمہ تعلیم کے اعلیٰ افسروں کے ساتھ ایک میٹنگ کے بعد سریش کمار نے میڈیا کو بتایا کہ امتحان کے دوران ایک بچے کو بھی پریشانی نہ ہونے پائے اس کا خاص خیال رکھا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ امتحان کے دوران بچوں کی حفاظت کے لئے حکومت کی طرف سے تمام بندوبست کیا گیا ہے۔امتحانی مرکز کے ہر کمرے میں احتیاطی تدابیر کے متعلق ایکزامنر کی طرف سے تمام بچوں کو جانکاری دی جائیگی۔اس دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ نجی اسکولوں کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ ایس ایس ایل سی امتحان کے لئے صرف ان طلباء کو ہال ٹکٹ دی جائے گی جو بقیہ فیس کو مکمل طور پر ادا کرینگے۔نجی اسکولوں کے اس فیصلہ پر والدین نے سخت نکتہ چینی کی ہے اور کہا ہے کہ پورے سال کے دوران چند ماہ کے لئے بھی آن لائن تعلیم نہیں ہو سکی ایسے میں ان اسکولوں کی طرف سے مکمل فیس ادا کرنے کی مانگ کہاں تک جائز ہے۔ ان لوگوں نے اس معاملہ میں ریاستی حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔وزیر تعلیم سریش کمار نے اس معاملہ میں تبصرہ رکرتے ہوئے بتایا کہ انہوں نے تمام اضلاع کے ڈی ڈی پی آئی افسروں کو ہدایت دی ہے کہ نجی اسکولوں کی طرف سے ایسی کسی ہدایت ہو تو اس کا پتہ لگائیں اور مناسب کارروائی کریں۔ والدین نے بتایا ہے کہ ہائی کورٹ کی طرف سے واضح ہدایت دی گئی ہے کہ اسکولوں کی طرف سے صرف 70فیصد فیس لی جائے اس کے باوجود عدالت کے حکم کا خلاف ورزی کرتے ہوئے مکمل فیس کیلئے اصرار کیا جا رہا ہے ۔ انہوں نے اس معاملہ میں حکومت سے مداخلت کی اپیل کی ہے۔
ایس ایس ایل سی امتحان کیلئے ضروری ہدایات
محکمہ تعلیم کی طرف سے ایس ایس ایل سی امتحان لکھنے والے طلباء کیلئے امتحان کے متعلق ضروری ہدایات جاری کی گئی ہیں جو اس طرح ہیں۔
ایک دن میںامتحان کا پرچہ مسلسل 3گھنٹوں تک جاری رہے گا۔
تمام طلباکو امتحان کا پرچہ مکمل ہو جانے کے بعد بھی تین گھنٹے امتحان کے مرکز میں ہی رہنا ہو گا۔
امتحان لکھتے وقت طلباکسی بھی موضوع کے جوابات سے امتحان کی شروعات کر سکتے ہیں۔
اس امتحان میں حصہ لینے والے ری پیٹر طلبا جو صرف ایک پرچے کیلئے ہی امتحان دے رہے ہیں ان کو بھی مسلسل تین گھنٹے بیٹھنا لازمی
امتحان سے ایک دن قبل اور بعد تمام امتحانی مراکز کو سینی ٹائز کیا جائیگا۔
طلباء کو جوابی پرچو ں میں غلط جواب لکھنے کے بعد اسے مٹانے یا اس کی جگہ پر دوسراجواب درج کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔
جوابی پرچہ پر ایریز یا انک ریموور کا استعمال ممنوع قرار دیا گیا ہے۔
