دینی اداروں میں علماء پر ہورہے مظالم کی جیتی جاگتی مثال ؛ ادارہ پولیس کے دلال، غریبوں کا مال کھانے والوں کا اڈہ بنا ہواہے
شیموگہ:۔ یہاں کے دارالعلوم جامعہ رضویہ شاہ علیم دیوان اور دارالقضٰی میں پچھلے چار سالوں سے خدمات انجام دینے والے مفتی ہاشم رضامصباحی نے مدرسے کی منتظمہ کمیٹی کے ظلم و ستم پر الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ دارالعلوم جامعہ رضویہ شاہ علیم دیوان درگاہ کمیٹی میں دین دار اور علماء نہیں ہیں بلکہ وہ سرکش، جابر ، ظالم اور مجبوروں کا استحصال کرنے والے جمع ہوئے ہیں اور ایسے لوگوں کی وجہ سے دینی ادارے زوال پاررہے ہیں ۔ انہوںنے اپنے اوپر ہوئے ظلم و ستم اور ناانصافی کے تعلق سے روزنامہ کو بیان تحریر کرتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے دارالعلوم میں تقریباً چارسال تک دینی خدمات انجام دئے ہیںاور وہاں پرمیں نے ادارہ شرعیہ شیموگہ میں بحیثیتِ قاضی شرع بہت سے نزاعی معاملوں کے شریعت کی روشنی میں فیصلے کیے۔ادارہ شرعیہ کی نہایت اہم ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ساتھ درس و تدریس کی ذمہ داری بھی نبھاتا اور پھر وقت نکال کر دارالافتاء کی ذمہ داری بھی سنبھالتا رہا ۔ اسی درمیان فتاوی کا ایک مجموعہ بنام”فتاوی شیموگہ” لکھنے کا بھی شرف حاصل ہوا۔ لیکن میرے لیے مشکل گھڑی اس وقت آئی جب دار العلوم کی نئی کمیٹی بنی اور اس نئی کمیٹی کے چند سرکش لوگوں نے مجھ پر ظلم وزیادتی کا سلسلہ شروع کر دیااور معاملہ اتنا بڑھا کہ بالآخر گزشتہ سال لاک ڈاؤن کے ایسے مشکل وقت میں مجھے بر طرف کر دیا گیا جس وقت پوری دنیا کورونا کی مہاماری جھیل رہی تھی اور لاک ڈاؤن کی وجہ سے کوئی نئی معقول جگہ ملنا بہت مشکل تھا۔ اْس مشکل وقت میں آپسی دشمنی تک بھلا کر لوگ ایک دوسرے کی مدد ک کے لیے آگے آکر انسانیت کا ثبوت دے رہے تھے لیکن ایسے مشکل حالات میں دار العلوم کی منتظمہ کمیٹی، مرکزی سنی جمعیتہ العلماء کمیٹی نے جس میں لفظِ "علماء” صرف نام کے لیے ہے کوئی عالم کمیٹی میں شامل نہیں ہے بالخصوص کمیٹی کے دو افراد نے جو نہایت ظالم وجابر اور فاسق و فاجر ہیں اور بدنام زمانہ ہیں انھوں نے اپنے ذاتی مفاد و مطلب کی وجہ سے بلا عذر شرعی بغیر کوئی شرعی غلطی بتائے ہوئے مجھے برطرف کر دیا اور بہانہ یہ کیا کہ لاک ڈاؤن کی وجہ سے پیسے کی تنگی ہے ہم تنخواہ نہیں دے سکتے حالانکہ حقیقت میں تنخواہ کا معاملہ نہیں تھا لاک ڈاؤن صرف حیلہ تھا اصل میں ان دونوں کا اپنا مطلب ومفاد شامل تھا۔ کیوں کہ اسی لاک ڈاؤن میں دار العلوم میں بڑے پیمانے پر ایسے تعمیراتی کام بھی کیے گئے ہیں جن کی کوئی خاص ضرورت نہیں تھی اور ساتھ ہی ساتھ لاک ڈاؤن میں برابر جلسے بھی ہوتے رہے ہیں جن میں نیاز و فاتحہ کے نام پر چندہ وصول کر کے خوب لنگر بھی تقسیم کیے گئے۔ اگر پیسے کی تنگی ہوتی تو یہ سارے کام کیسے انجام دیے جا سکتے تھے؟۔بنا کسی شرعی خامی کے مجھے بر طرف کر دیا گیا اگر کوئی شرعی خامی بتاکر برطرف کیا جاتا تو مجھے تکلیف نہیں ہوتی اور میں صبر کر لیتا اور آگے کے لئے غور کرتا۔ اصل میں جہاں تک میں سمجھتا ہوں میرا جرم یہ تھا کہ میں ان کے اشاروں پر کام نہیں کر رہا تھا ، دارالعلوم میں جو فیصلے ہوتے رہے اسکے لئے کمیٹی میں باہر سے ڈیلنگ کرتے ہوئے کمیٹی والوں کے مطابق فیصلے کرنے کی ہدایت دی جاتی تھی ، ان کی چاپلوسی نہیں کر رہا تھا اور یہ لوگ چاہتے تھے کہ میں ان کے اشاروں پر چلوں ان کی چاپلوسی کروں،جو میں بحیثیت مفتی و قاضی ہرگز نہیں کر سکتا تھا۔ مفتی ہاشم رضامصباحی نے مزید بتایا کہ برطرف کرنے کے بعد حساب وکتاب کا معاملہ فورا صاف کرنے کے بجائے ان دونوں ظالموں نے ذرائع و آمدنی ہونے کے باوجود حساب وکتاب کلیر کرنے میں مجھے چھ ماہ تک لٹکایا یعنی واجب الاداء تنخواہ ادا کرنے میں بھی ظلم کی ساری حدیں پار کردیں۔ حد یہ کہ تنخواہ کی ادائیگی کے لیے فون سے رابطہ کرتا تو فرعونی مزاج لوگ فون بھی نہیں اٹھاتے۔ مدرسین کی تنخواہیں روکنا، ادائیگی میں دیری کرنا یہ ان کی شیطانی فطرت میں شامل ہو چکا ہے، عالم دین کے ساتھ ظلم و جبر کرنے اور بدتمیزی سے پیش آنے کو یہ خبیث الفطرت اپنے لیے باعث فخر سمجھتے ہیں۔ ان کا ایک ہی مقصد تھا لاک ڈاؤن میں مجھے ستانا، پریشان کرنا۔سابق قاضی مفتی ہاشم رضامصباحی نے مقامی چاپلوس علماء کی حالت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ زیادہ افسوس کا مقام یہ ہے کہ میں نے شہر کے کچھ علماء سے جو ان لوگوں سے بہت قریب ہیں اور ان لوگوں کی بہت حمایت کرتے ہیںبلا وجہ برطرفی کے سلسلے میں بات کی تو ان کا جواب سن کر بہت تعجب ہوا اور بالکل ظاہر ہو گیا کہ ان کا مقصد صرف ان لوگوں کی چاپلوسی کرنا اور انہیں خوش کرکیاپنا الوسیدھا کرناہے۔ ان مولویوں کی حالت یہ ہے کہ نہ شرع کی پابندی اور نا ہی صاحبِ علم سے خیر خواہی ۔یہ رہنمائی کا دعویٰ کرنے والے ایسے لوگوں کے حمایتی اور پیروکار بنے ہوئے ہیں جن کے دونوں پاؤں کیچڑ کے دلدل میں دھنسے ہیں۔اور چاپلوسی کی حد یہ ہے کہ ان مولویوں نے ان مسلک و مذہب فروش لوگوں کو مسلک اعلیٰ حضرت کے پاسبان کا تمغہ دے رکھا ہے۔جو لوگ مسلک و مذہب کا صحیح مطلب بھی نہ جانتے ہوں اور بد عمل و بد کردار ہوں پولیس کی دلالی کرتے ہوں، لوگوں کے حق دباتے ہوں، کمزوروں پر ظلم کرتے ہوں، عورتوں کی عزت و ناموس سے کھلواڑ کرنے والے ہوں، علماء کو ذلیل و رسوا کرتے ہوں،اور ان کے یہ افعال خبیثہ و رذیلہ جگ ظاہر ہوں وہ کیسے مسلک اہل سنت معروف بہ مسلک اعلی حضرت کے پاسبان و ترجمان ہو سکتے ہیں؟۔آج ایسے ہی بد کردار لوگوں کی وجہ سے سنیت بدنام ہے۔ ان کے کالے کرتوتوں کی وجہ سے دوسرے لوگ سنیوں پر ہنستے ہیں کہ ایسے لوگ سنیوں کے اداروں کے سر کردہ و نگہبان بنے ہوئے ہیں۔ کیا ایسے لوگ سنی اداروں میں رہنے کے حق دار ہیں؟۔لیکن افسوس اس بات پر ہے کہ ہمارے لوگ سب کچھ جانتے ہوئے بھی خاموش تماشائی بنے رہتے ہیں۔پیچھے کیا کیا کہتے ہیں اور سامنے کچھ بھی کہنے کی جرئات نہیں کرتے۔یہ سلسلہ ایسے ہی چلتا رہا تو یہ مفاد پرست لوگ سنی اداروں کو تباہ و برباد کر دیں گے اور ان اداروں کو اپنے ذاتی مفاد کا ذریعہ بنا کر دین و سنیت کو بڑا نقصان پہنچائیں گے۔مفتی ہاشم رضامصباحی نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسے لوگوں کو غارت کرے! دنیا میں ذلیل و رسوا ء کرے! اور ان کے شر سے سنی اداروں کی حفاظت فرمائے۔
