سیلاب کےسنگین حالات میں وزیر اعلیٰ کا استعفیٰ نا مناسب ہے: کاگوڑ تمپا

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
ساگر:۔سیلاب کے سنگین صورتحال میں وزیر اعلیٰ بی ایس یڈیورپا کا استعفیٰ دینا غیر مناسب عمل ہے۔ نئے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز ہونے تک کم از کم چھ ماہ کا عرصہ لگ سکتا ہے، تب تک متاثرین کو امداد نہیں ملے گی اور نہ ہی متاثرہ علاقےکی باز آبادکاری ہوگی۔اس بات کا اظہار سابق وزیر کاگوڑ تمپا نے کیا ہے۔ انہوں نےآج یڈیورپا کے استعفیٰ کو لیکر اخباری نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ یڈیورپا جو دو سال سے وزیر اعلیٰ کے عہدے پر فائز رہے ہیں اسکے بعد بھی توقع کے مطابق ریاست کی ترقی ان سے ممکن نہ ہوسکی۔ صرف تقریر وںسےترقی نہیں ہوتی ہے۔انہوں نے کہا کہ نئے وزیراعلیٰ کا انتخاب ہوتا ہے توسب سے پہلے انہیں پارٹی کی اندرونی افراتفری کو دورکرتے ہوئے اقتدار کو اپناناہوگا۔ اگر یہ وزیر اعلیٰ سیلاب متاثرہ تمام جگہوں کا دورہ کرتے ہیں تواس سے ریاست کی ترقی مزید پیچھے ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کی عوام نے بی جے پی کو اقتدار میں آنے کی اجازت دی ہے لیکن ان کے ترقی مخالف رویہ نےعوام کو پوری طرح مایوس اورناراض کردیا ہے۔انہوں نے کہا کہ بی جے پی میں اتفاق رائے نہیں ہے۔ ایک دوسرے میں تقسیم ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عہدوں کی تقسیم کا فیصلہ پہلے ہوچکا تھا۔ پارٹی کےاندورنی مسائل کی وجہ سے ہی یڈیورپا نےاستعفیٰ دیا ہےاسکےکوئی اور وجہ نظر بھی نہیں آرہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پوری ریاست اس وقت نازک حالات سے گذررہی ایسے حالات میںیڈیورپاکا استعفیٰ دینا ترقی کے نظریہ کو کافی پیچھےکرچکا ہے۔ کانگریس پارٹی اس کی سخت مذمت کرتی ہےکہتے ہوئے برہمی کا اظہار کیا۔اس موقع پر کانگریس شہری صدر آئی این سریش بابو، جنرل سکریٹری مہابلا کائوتی، انیتا کماری، ملیکارجن ہکرے، تصریف، مائیکل ڈیسوزا، سومنگلا، اشوک وغیرہ موجودتھے۔