از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
حضرت ٹیپو سلطان شہید ؒ کو جہاں بھارت کے مسلمان اپنا ہیرو مانتے ہیں وہیں اس ملک کی بیشتر آبادی حضرت ٹیپو سلطان کو ایک منصف سلطان کے طورپر جانتی ہے اورانکی شجاعت و رعایا پروری کے تعلق سے نہ صرف بھارت کے شہر ی فخر محسوس کرتے ہیں بلکہ دنیا کے مختلف مقامات پر بھی حضرت ٹیپو سلطان شہیدؒ کو اعلیٰ مقام حاصل ہے۔غورطلب بات یہ ہے کہ جو سلطان بھارت کے اولین مجاہد آزادی میں شمار ہوتے ہیں اورجن کا چرچہ ہرسوں ہے ،جن پر ہزاروں کتابیں منظرعام پر آچکی ہیں،جن کی سوانح حیات پر فلمیں،ڈرامے اور سلسلے بنائے جاچکے ہیں،ان کی زندگی پر سینکڑوں لوگوں نے مقالے لکھتے ہوئے پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کی ہیں،ان کی ذات سے کئی لوگوں نے اپنی روزی روٹی کا انتظام کرلیاہے مگران کی حقیقی یوم پیدائش کی تاریخ کا پتہ کسی نے لگانے کی کوشش نہیں کی۔ایسے میں ایک شخص ایسا بھی نکلا جو نہ تو کسی ٹیپو سلطان کمیٹی کا رکن ہے او رنہ ہی وہ ٹیپو کے نام پرروزی روٹی کمانے والوں میں سے ہے،اورنہ انہوں نے ٹیپوسلطان کے نام پر تحقیق کرتے ہوئے اپنے لئے شہرت کا سامان اکٹھا کررکھاہے،اگراس شخص نے ٹیپوسلطان کے نام سے تحقیق کی ہے تو وہ محض ٹیپوسلطان سے محبت ہے اورانہیں حقیقی خراج عقیدت پیش کرنے کامقصدہے۔اب تک ہم نے کتابوں میں یہ پڑھاہے کہ ٹیپوسلطان20نومبر1750 میں پیدا ہوئے تھے اور اسی تاریخ کو پچھلے250 سالوں سے کتابوں میں پڑھاجارہاہے اور تقریروں میں کہاجارہاہے۔لیکن کسی نے اس بات پر توجہ نہیں دی کہ جو تاریخ ہم پڑھارہے ہیں وہ کس حدتک درست ہے۔حالیہ دنوں میں حضرت ٹیپوسلطان سے اور ایک واقعہ جڑاہواہے وہ یہ کہ کچھ لوگ سوشیل میڈیاپر ٹیپوسلطان کی تصویر بتاکر ایک آفریقی شخص کی تصویر شئیر کررہے ہیں اور اُسے حضرت ٹیپوسلطان کی حقیقی تصویر کانام دے رہے ہیں،تصویر کی بات الگ ہے۔آج ہمارا موضوع ہے ٹیپوسلطان کی تاریخ کے تعلق سے۔خصوصاً ہم اُن محقیقن ،ادباء وشعراء سے سوال کرنا چاہتے ہیں کہ جو اب تک جو تحقیق ومقالے لکھے گئے ہیں کیا وہ واقعی میں تحقیق شدہ ہیں یا پھر کاپی پیسٹ کے فارمولے پر لکھوائے گئے ہیں۔ندھن اولیکر نامی آزادانہ طو رپر محقیق کرنے والے شخص نے ثابت کردیاکہ جہاں چاہ ہے وہاں راہ ہے۔ندھن اولیکرنے اپنی تحقیق میں ثابت کیاکہ حضرت ٹیپوسلطان شہیدؒ یکم ڈسمبر1751 میں پیدا ہوئے ہیں نہ کہ20 نومبر1750 میں۔یہ تحقیق آنے والی نسلوں کی بہت بڑی تحقیق ہے،اس سمت میں اولیکرنے جو عشق ٹیپو کا ثبوت پیش کیا ہے وہ اُن محقیقن کیلئے سوال پیدا کرتاہے کہ آخر آپ کی تحقیق کہاں جاکر رکی ہے،ہم دیکھتے ہیں کہ اردو زبان میں درجنوں لوگ ہر سال پی ایچ ڈی کی ڈگریاں حاصل کرتےہیں،جن کے جو عنوانات شعرو شاعری اور چاپلوسی کے علاوہ کچھ نہیں ہوتے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ اس وقت مسلم محقیقین کے مقالوں میں غالب کی شاعری میں عورت کا حسن،میر کی شاعری میں اردو کا ادب،فیض کی شاعری میں کمیونسٹ افکارجیسے عنوانات کو چھوڑ کر موجودہ حالات میں اُمت مسلمہ پر تحقیق کرنے کی ضرورت ہے۔کس نے کہاکہ اردو دان دیگر عنوانات پر تحقیق نہیں کرسکتے۔آج کے حالات کے تناظرمیں اگر تحقیق کام کئے جائیں تو اس سے قوم کیلئے بہت بڑے پیمانے پر فائدہ پہنچ سکتاہے۔یہاں تو یہ حال ہوچکاہے کہ تم میرے لئے پی ایچ ڈی کیلئے مقالہ لکھوائو،میں تمہارے لئے مقالہ لکھوائونگا۔اس سے نہ تحقیق کااصل مقصد پوراہوگانہ ہی ان مقالوں سے کسی کا بھلاہوگا۔
