شیموگہ: ۔جنتادل سیکولر سے کانگریس پارٹی میں شامل ہونے جارہے مدھو بنگارپا کے بارے میں جہاں کانگریسی لیڈران یہ کہہ رہے ہیں کہ انکی آمد سے پارٹی کو نئی طاقت ملےگی، لیکن دوسری جانب کانگریس پارٹی کو سب سے زیادہ اہمیت وفوقیت دینے والے کانگریسی مسلمانوں کو مدھو بنگارپا نے کبھی بھی اہمیت نہیںدی، جس سے مسلمانوں میں انکے تعلق سے منفی تاثرات ہی ہیں۔ پچھلے پارلیمانی انتخابات اور اسمبلی انتخابات میں بھی مسلمانوں نے مدھو بنگارپا کومکمل تائید کی تھی اور ووٹ دینے میں کوتاہی نہیں کی ہے۔ باوجود اسکے جب بھی مسلمانوں کے پاس قیادت کی کمی نظرآئی اس وقت مدھو بنگارپا نے مڑ کر دیکھنا بھی گنوارا نہیں سمجھا۔ 3 سال قبل شہر میں آنے والے سیلاب اوراس کے بعد این آر سی کے مسائل پھر اس کے ساتھ ہی کوویڈ سے پریشان حال لوگوں کی مدد کیلئے مدھو بنگارپا نے کم ازکم انسانیت کی بنیادوں پر رخ تک نہیں کیا تھا۔جسطرح سے ماضی میں سیاسی قیادت کرنے والے لیڈران سیکولر بنیادوں کو ترجیح دیتے تھے اسطرح کی فکر اب سیکولر کہلانے والے قائدین میں بھی غائب ہونے لگی ہے۔ اگر مدھو بنگارپا واقعی میں اپنے مستقبل کو محفوظ کرنا چاہتے ہیں اور اپنے باپ کی طرح بنگارپا کی طرح مقام بناناچاہتے ہیں تو تمام طبقات کو ترجیح دیتے ہوئے آگے جانا ہوگا۔ورنہ انکے لئے سیاسی بنیادیں مضبوط نہیں ہوسکتی۔
