اسکولوں کا آغاز ہونے سے پہلے ہی اسکولوں میں کتابوں ، کاپیوں کے نام پر لوٹ مار 

ڈ سٹرکٹ نیوز سلائیڈر
شیموگہ:۔ کوویڈ لاک ڈائون کے بعد ریاستی حکومت کی جانب سے اسکولوں وکالجوں کے آغاز کے تعلق سے ابھی کسی بھی طرح کے مستقل فیصلے لئے گئے ہیں اور نہ ہی آف لائن یا آن لائن کلاسس چلانے کے تعلق سے بات ہوئی ہے۔ والدین اب بھی پس وپیش کا شکار ہیں کہ اسکول شروع ہوتی ہے تو بھیجیں کیسے، مگر اسکولوں میں اسکول کھلنے سے پہلے ہی کتابوں، یونیفارم ، کاپیوں اوردیگر اشیاءکے تعلق سے لوٹ شروع ہوچکی ہے۔ جس کے تعلق سے والدین کو شکایت ہے کہ موجودہ حالات کو دیکھتے ہوئے بھی اسکولوں میں حراساں کیا جارہا ہے۔ والدین کی شکایت ہے کہ اسکولوں میں کتابیں لینے کیلئے دبائو ڈالارہا ہے، اگر بچوں کے پاس پرانے طلباء کی کتابیں ہوں تو ان کتابوں کو قبول کرنے سے انکار کیا جارہا ہے اورنئی کتابوں کو لینے کیلئے ہی اصرار کیا جارہا ہے۔ اگر پرانی کتابیں ہوں تو نئی کتابوں کو زبردستی فروخت کرتے ہوئے اسکول مینجمنٹ ایک طرح سے کاروبار کررہا ہے۔ والدین اس بات سے بھی مشتعل ہو ر ہے ہیں کہ کتابوں وہ کاپیوں پر جو ایم آر پی ہے اسی ایم آرپی کے تحت کتابیں وہ کاپیاں فروخت کی جارہی ہیں جو کہ پکی دکانداری ہے۔ اسکول مینجمنٹ ان کاپیوں و نوٹ بکس کو ہوسیل سے کم ڈیلر پرائس میںخریدتے ہیں مگر ریٹیل پرائس میں بیچ رہے ہیں۔ دوسری طرف اسکول مینجمنٹ کا کہنا ہے کہ طلباء کے پاس 70 فیصد تک فیس لینے کیلئے اجازت دی گئی ہے۔ اس وجہ سے ہم طلباء سے فیس وصول کررہے ہیں ، لیکن کتابوں کی فروخت کے تعلق سے انکے پاس کوئی جواب نہیں ہے۔