چکمگلورو:۔چکمگلورو ضلع میں انسان اور جنگلی جانوروں کے درمیان تنازعہ باقاعدگی سے جاری ہے جس کے نتیجے میں اتوار کو ایک 23 سالہ ہاتھی کی موت واقع ہونے کی اطلاع موصول ہوئی ہے ۔ انسانوں اور جنگلی جانوروں کے درمیان ہورہے اس تنازعہ کی وجہ سے پریشان کسانوں کی جانب سے حکومت سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ اسکا مستقل حل نکالاجائے۔اس مسئلے کے تعلق سے کئی دفعہ حکومت کو باآور کیا گیا ہے لیکن حکومت کی غفلت کی وجہ سے جنگل کی زندگیاں اپنی جانوں سے ہاتھ دھو رہی ہے۔جنگل کے کھیتوں ، دھان کے کھیتوں اورزرعی زمینوں میں جنگلی جانوروںکا گھس جانا اور فصلوں کو نقصان پہنچانا عام بات ہے۔ ہفتہ کی رات تعلقہ کے گالی پوجے گاؤںمیںایک جنگلی ہاتھی کے زرعی زمین میں گھسنے کی کوشش کی تھی، لیکن زمیندار نے غیر قانونی طور پریہاں بجلی کی تاریں لگائی ہوئیں تھیںجس کے نتیجے میںہاتھی نے ان تاروں کوچھو لیابجلی کے زبردست جھٹکے کی وجہ سے بھاری بھرکم ہاتھی وہیں پرہلاک ہوجانے کی خبر ملی ہے۔ کسان اپنی فصلوں کو جنگلی جانوروں سے بچانے کیلئے اسطرح کی بجلی کی تاریں کھیتوں کے اطراف لگواتے ہیں جس کی وجہ سے اکثر بندر ، ہاتھی ، جنگلی بھینس ، جنگلی خنزیر اور چیتے جیسے جانور ضلع میں محفوظ نہیں ہیں۔
