دہلی:۔ مرکزی حکومت کے تین متنازعہ زرعی قوانین کے خلاف جاری احتجاج کے درمیان مرکزی وزیر زراعت نریندر سنگھ تومر نے جمعہ کو کہا کہ حکومت اس مسئلے کو حل کرنے کیلئے کسانوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے۔ تین زرعی قوانین کے خلاف مختلف کسان تنظیمیں دارالحکومت کی مختلف سرحدوں سمیت ملک کے مختلف علاقوں میں احتجاج کر رہی ہیں۔ ان کا مطالبہ تینوں قوانین کو منسوخ کرنے اور ایم ایس پی کو قانونی بنانے کا ہے۔ان قوانین کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے کسان تنظیمیں پارلیمنٹ ہاؤس سے تھوڑے فاصلے پر واقع جنتر منتر پر کسان سنسد لگارہے ہیں۔راجیہ سبھا میں ایک سوال کے تحریری جواب میں تومر نے کہاکہ حکومت نے کسانوں کے احتجاج کو ختم کرنے کیلئے کسان یونین کے ساتھ فعال اور مسلسل کام کیا اور مسائل کے حل کے لیے کسان یونین کے ساتھ 11 دورمذاکرات کیا۔انہوں نے کہا کہ اس کے باوجود کسان یونین کبھی بھی سوائے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے قوانین کی دفعات پر تبادلہ خیال کرنے کیلئے راضی نہیں ہوئے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کسان یونینوں کے ساتھ بات چیت کے لیے ہمیشہ تیار ہے اور اس مسئلے کو حل کرنے کے لیے احتجاج کررہے کسانوں کے ساتھ بات چیت کے لیے تیار رہے گی۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا حکومت نے زرعی قوانین نافذ کرنے سے پہلے کسانوں اور ریاستی حکومتوں سے مشاورت کی ہے؟ تومر نے کہا کہ اس کیلئے وقتا فوقتا مختلف کمیٹیاں اور ٹاسک فورس تشکیل دی گئی ہیں۔انہوں نے بتایا کہ سال 2000 میں شنکر لال گورو کی سربراہی میں ایک ماہر کمیٹی تشکیل دی گئی تھی، سال 2001 میں ایک بین وزارتی ٹاسک فورس تشکیل دی گئی تھی ۔
