شکاری پور:۔ حسب روایت گلشن زبیدہ میں آزادی کے75ویں سال گرہ کا یاد گار جشن منایاگیا۔ اس یادگار جشن کی صدارت کے فرائض بچوں کے کل وقتی شاعر و ادیب حافظؔ کرناٹکی نے ادا کیے۔ جبکہ پرچم کشائی شہر کےڈی ایس پی شوانندمدرکھنڈی کے ہاتھوں ہوئی۔ اس موقع سے گلشن زبیدہ کے سبھی تعلیمی اداروں پرائمری اسکولوں، ہائی اسکولوں، جونیر کالجوں اور ڈگری کالجوں کے پرنسپل حضرات، اساتذہ کرام، طلبا اور سارے اسٹاف نے شرکت کی۔ شہر کے معززین اور عمائدین نے بھی بڑی تعداد میںشرکت کی۔ پرچم کشائی کے بعد گلشن زبیدہ کے باذوق اور ادب نواز بچوں کی جماعت نے حافظؔ کرناٹکی کی حب الوطنی کی مشہور و مقبول کتاب ’’ساز وطن‘‘ کے ہندی ایڈیشن مطبوعہ فریدبک ڈپو دہلی ۲۰۲۱ءکا اجرا کیا اور اپنی حافظؔ نوازی کا ثبوت پیش کرتے ہوئے اجرائی تقریب کے دوران ’’ساز وطن‘‘ کی کچھ نظموں کو اپنی خوب صورت آواز میں ذوق و شوق سے گایا۔اس موقع سے اپنے خطاب میں ڈی ایس پی شوانند مدرکھنڈی نے کہا کہ مجھے آج دہری خوشی کا احساس ہورہا ہے۔ اوّل یہ کہ گلشن زبیدہ کے جشن آزادی نے سچ مچ ہندوستان کے جمہوری کردار اور حب الوطنی کا زندہ جاوید نمونہ پیش کیا جس سے مجھے یقین ہوگیا ہے کہ ہندوستان کی یکجہتی کو دنیا کی کوئی طاقت نقصان نہیں پہونچاسکتی۔ وطن سے ایسی محبت کی مثالیں بہت کم دیکھنے کو ملتی ہے۔ دوسری بڑی خوشی یہ ہوئی کہ شکاری پور کے مایہ ناز بال ساہتیہ کار ڈاکٹر حافظ کرناٹکی کی دیس پریم میں ڈوبی نظموں کے مجموعے کے اجرا میں شرکت کا موقع ملا۔ یہ شکاری پور ہی نہیں ریاست کرناٹک کے لیے فخر کی بات ہے کہ انہیں راشٹریہ بال ساہتیہ پرسکار کے لیے نامزد کیا گیاہے۔ میں انہیں دلی مبارکباد پیش کرتا ہو ں کہ انہوں نے راشٹربھاشا ہندی میں اپنی نظموں کا مجموعہ پیش کر کے پورے ملک کو دیس پریم کا پیغام دیا ہے۔ڈاکٹر حافظؔ کرناٹکی نے اپنے صدارتی خطاب میں کہا کہ سب سے پہلے تو میں تمام اہل وطن کو آزادی کی75ویں سال گرہ کی مبارکباد دیتا ہوں۔ امن و امان کے ساتھ ملک کی ترقی کی دلی دعائیں کرتا ہوں۔ انہوں نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج میری حب الوطنی کی نظموں کی جس کتاب کا اجرا ہوا ہے۔اس کا ہندی ایڈیشن میں نے اس لیے شائع کروایا ہے کہ وطن کی محبت کے جذبے کو ان دلوں میں بھی روشن کردوں جو اردو نہیں جانتے ہیں اور اپنی بات ان لوگوں تک پہونچادوں جو راشٹربھاشا کا احترام کرتے ہیں۔ ان نظموں کے مطالعے سے بخوبی اندازہ ہوجائے گاکہ۔ اس کتاب کو میں نے آزادی کی پچہترویں سال گرہ کے موقع پر ایک پیغام اور ایک تحفے کے طور پر پیش کی ہے اور اسے صدر ہند، وزیراعظم، اور تمام وزراء کے علاوہ وزرائے اعلیٰ، اراکین پارلیامنٹ اور حکومت کے تمام شعبوں کے سربراہوں تک بطور تحفہ بھیج کر حب الوطنی کے جذبے کی تجدید کی کوشش کی ہے۔ مجھے خوشی ہے کہ کئی اہم ہستیوں نے اس کتاب کی رسید کے طور پر فون پر مبارکباد دی ہے۔ اور میرے حب الوطنی کے جذبے کو سراہا ہے۔ میں اپنے تمام قارئین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔
