از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
ایس ایس ایل سی اور پی یو سی کے نتائج منظرِ عام پر آچکے ہیں،اس کے علاوہ امسال کیلئے اسکولوں میں داخلے بھی شروع ہوچکے ہیں،ہر قوم کے لوگ اپنے بچوں کو اپنی ہی قوم کے تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوارہے ہیں اوریہ کوشش کررہے ہیں کہ ان کی قوم کے تعلیمی ادارے آگے آئیں،وہ اپنے بچوں کو داخلہ دلوانے کیلئے بچوں سے رائے نہیں لے رہے ہیں بلکہ اپنے فیصلوں کے مطابق اپنے بچوں کا داخلہ دلوارہے ہیں،لیکن شائد مسلمان ہی ایک ایسی قوم ہوگی جو اپنی قوم کے تعلیمی اداروں کوچھوڑکردوسروں کے تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں اور دوسروں کے تعلیمی اداروں میں جاکر ذلیل ہونے کو بھی اپنی شان سمجھ رہے ہیں اور ہرحال میں اپنے بچوں کا داخلہ غیروں کے یہاں ہی ان کا مقصد ہوچکاہے۔ذرا سوچئے کہ جو قوم اپنے ہی تعلیمی اداروں پر بھروسہ نہیں کرتی اُس قوم کے تعلیمی اداروں پر دوسرے کیسے بھروسہ کرنے لگیں گے؟۔یہاں یہ سوال بھی ہے کہ آخر مسلم تعلیمی اداروں میں وہ کونسی کمی ہے جس کے سبب مسلمان اپنے بچوں کو غیروں کے یہاں تعلیم دلوانے کیلئے کوشش کررہے ہیں۔ایک طرف علماء وملی تنظیمیں چیخ چیخ کریہ کہہ رہے ہیں کہ مسلم لڑکے ولڑکیاں مرتدہورہے ہیں اور اسلام سے بے زاری کامظاہرہ کررہے ہیں تو دوسری جانب ملت اسلامیہ کا بڑا طبقہ مسلم اداروں میں داخلہ لیناہی نہیں چاہتااور وہ آزادانہ طور پر غیروں کے یہاں تعلیم حاصل کرنے کی چاہ رکھتے ہیں۔ان میں70 فیصد طلباء وطالبات ایسے ہیں جو تعلیم معیار نہیں دیکھنا نہیں چاہتے بلکہ انہیں گھروں سے دوری چاہیے،آزاد ماحول چاہیے،ویسٹرن کلچر میں پلنا چاہتے ہیں اوریہ بچے تعلیم کی آڑمیں خودکو پابندیوں وبندشوں سے دور رہنا چاہتے ہیں ،یہی وجہ ہے کہ وہ مسلم تعلیمی اداروں میں داخلہ لینا ہی نہیں چاہتے،وہاں تو ان بچوں کو انسٹا گرام ،فیس بک اور واٹس ایپ سے دور رہنے کی ہدایت دی جاتی ہے۔وہاں پر برقعہ پہننے یا کم ازکم حجاب ڈال کر آنے کی تلقین دی جاتی ہے اور ان بچوں کو کم ازکم اخلاقی تعلیمات سے آراستہ کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔وہیں دوسری جانب غیروں کے تعلیمی اداروں میں مسلم لڑکے ولڑکیوں کا ذہنی استحصال کیاجاتاہے ،اُن بچوں اسلام بے زار کیاجاتاہے اور آزادی کا ایسا مزہ چکھایا جاتاہے کہ بچے اسی ماحول میں تعلیم حاصل کرنے کے خواہ ہوتے ہیں،اس سازش کو مسلمان سمجھ نہیں پارہے ہیں۔چلئے اتنا سب ہونےکے بعد اور ایک مثال دیتے ہیں،ریاست کے مختلف علاقوں میں مسلمانوں کے درجنوں تعلیمی ادارے ہیں،یہاں پر کہیں کسی نے یہ دیکھاہے کہ کسی غیر مسلم اپنے بچوں کو تعلیم دلوانے کیلئے پہنچتے ہیں،ممکن ہے کہ کہیں ایک دوبچےان تعلیمی اداروں میں آجاتے ہونگے۔لیکن مسلمان ہیں کہ پوری شدت کے ساتھ وہاں دوڑتے ہوئے جاتے ہیں۔دوسری بات یہ بھی ہے کہ اکثر والدین یہ کہتے ہیں کہ ہمارے بچے سے ہم نےپوچھا،ہمارے بچے نےفلاں اسکول میں داخلہ لینا پسندکیا،ہمارے بچے نے فلاں اسکول یا کالج میں داخلہ لینے سے انکارکیا۔تو بتائیے کہ ہم اپنے بچوں کی بات سنیں اور اُن کی ہر جائز وناجائز ضد کو پوری کریں تو ماں باپ کا وجود کہاں باقی رہے گیا۔ماں باپ سے بچے ہوتے ہیں،بچوں سے ماں باپ نہیں۔اس لئے ماں باپ کو چاہیے کہ وہ اپنے بچوں کی بہتر زندگی کیلئےاپنی عقل لگائیں،ایک دوسرے مشورے کریں،تب جاکر کہیں ہم اپنے بچوں کے مستقبل کو بہتر ومحفوظ بنا سکتے ہیں۔اب کچھ لوگوں کا سوال یہ بھی ہوتاہے کہ مسلم تعلیمی اداروں میں داخلہ دلوانے سے کیاہوتاہے؟ہم پوچھنا چاہیں گے کہ مسلم تعلیمی ادارے آپ لوگوں کو کیا دیں؟کیا مینجمنٹ،اساتذہ اپنے گُردے نکال کر قوم کو دے دیں۔اگر یہ بھی کریں تو تب بھی قوم احسان نہیں مانے گی،کیونکہ ان میں سے بیشتر لوگوں کا ضمیر مرچکاہے۔ہم یہی کہنا چاہیں گے کہ جب مسلمانوں نے اپنی قوم کیلئے تعلیمی ادارے بنائےہیں تواس قوم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان اداروں کی بقاءاورترقی کیلئے اپنی طرف سے بھی قربانیاں دے،ورنہ داستاں تک نہ رہے گی داستانوں میں۔
