دہلی:(انقلاب نیوزبیورو):۔ مدھیہ پردیش میں ایک 25 سالہ شخص پر حملے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ یہ واقعہ اتوار کو گووند نگر کے بننگا علاقے میں پیش آیا ہے۔ پولیس نے مقدمہ درج کرتے ہوئے اس معاملے میں 3 لوگوں کو حراست میں لینے کی بات کہی ہے۔ ویڈیو میں نظر آنے والے نوجوان کی شناخت 25 سالہ تسلیم کے طور پر کی گئی ہے جسے بننگا علاقے میں ایک ہجوم نے بے رحمی سے مارا پیٹا تھا۔زعفرانی چولا پہنے ہوئے کچھ سنگھی ظالموں نےمتاثرہ کو مذہبی طور پر گالیاں دیکر مارپیٹ کی ۔ مظلوم تسلیم کے مطابق وہ بننگا کے علاقے میں چوڑیاں بیچ رہا تھا کہ ملزم نے اس پر حملہ کردیا۔ متاثرہ نے پولیس کو اپنی شکایت میں کہا کہ ملزم نے پہلے میرا نام پوچھا میرا نام ڈائل کرنے کے بعد پیٹنا شروع کر دیا، انہوں نے میرے پیسے بھی لوٹ لئے اور چوڑیاں اور دیگر سامان بھی توڑ دیا جو میں لے جا رہا تھا۔ متاثرہ شخص نے بتایا کہ اس نے پیسے چھینے، موبائل چھین لیا اور نام پوچھ کر اسے مارا۔دوسری جانب مدھیہ پردیش کے وزیر داخلہ ناروتم مشرا نے اس معاملے میں مظلوم تسلیم کو ہی مورد الزام ٹہرایا اور کہا کہ جس علاقے میں تسلیم چوڑیاں بیچ رہا تھا وہاں اس نے اپنا نام ہندو کابتایا تھا جبکہ وہ مسلم کمیونٹی سے تھا۔ اسی طرح اس کے دو آدھار کارڈ بھی موصول ہو چکے ہیں، لیکن وزیر داخلہ نے یہ نہیں کہا کہ یہ قانون بھی کسی کو مارنے کا حق نہیں دیتا۔ ملزمان جس طرح قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے نوجوانوں کو مار رہے تھے، اس کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ لوگ اس پر بہت زیادہ ردعمل بھی دے رہے ہیں۔ پولیس نے نامعلوم افراد کے خلاف دفعہ 141، 142، 143، 147 (غیر قانونی اسمبلی اور فسادات سے متعلق سیکشن) 294، 298 (مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانا) 323، 395 ، 506 120 کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔اندور ایسٹ ایس پی آشوتوش باگڑی نے کہا کہ ہم نے شکایت کنندہ کے مطابق مقدمہ درج کر لیا ہے اور تحقیقات کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ انہوں نے لوگوں پر زور دیا کہ وہ اسے سوشل میڈیا پر نہ پھیلائیں اور رائے دیں۔ بعض اوقات ایسے واقعات فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو بگاڑنے کا کام کرتے ہیں۔ ہم سوشل میڈیا پر بھی نظر رکھے ہوئے ہیں۔
