میسور:(انقلاب نیوزبیورو):۔میسور کارپوریشن میں آج ایک نئی تاریخ رقم ہوئی جس میں38 کے سال کے عرصہ میں پہلی دفعہ میسورکےکارپوریشن پر بی جے پی نے اپنے مئیر کو بٹھانے میں کامیابی حاصل کی اور یہ کامیابی کانگریس اور جے ڈی ایس کی انانیت،من مانی اور مفاد پرستی کی وجہ سے حاصل ہوئی ہے۔میسورکارپوریشن کے انتخابات میں پہلی دفعہ بی جے پی نے مئیر کے عہدے پراقتدارحاصل کیاہے۔اس عمل کے بعد میسور کےسیاسی حلقے میں نئی تاریخ رقم ہوئی ہے اورمیسورکے سیاستدانوں کو ایک نیا پیغام ملاہے۔املاک کی جھوٹی تفصیلات دینے والی جے ڈی ایس اور کانگریس کی مشترکہ امیدوار رکمنی مادے گوڈاکی رکنیت منسوخ کی گئی تھی،اس بنیادپر کارپوریشن کیلئے نئے سرے سے مئیر وڈپٹی مئیر کاانتخاب کیاگیا۔آج صبح مئیر کے عہدے کیلئے کانگریس سے شانتا کماری ،جے ڈی ایس سے اشونی اننتو اور بی جے پی سے سنندا پالانیترا نے مئیرکے عہدوں کیلئے پرچہ بھراتھا۔ریجنل والیکشن کمشنر جی ڈی پرکاش نے ہاتھ اُٹھاکر ووٹنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔پہلے کانگریس کی شانتاکماری کیلئے22 ووٹ دستیاب ہوئے ،اس کے بعدبی جے پی کو26 ووٹ اور جے ڈی ایس کو22 ووٹ حاصل ہوئے ۔آخر الیکشن کمشنر نے بی جے پی کی سننداپالانیترا کو فاتح قرار دیا۔کانگریس وجے ڈی ایس کے سب سے زیادہ کارپوریٹرس ہونے کے باوجود بی جے پی آسانی سے اقتدارپر قابض ہوئی۔نومنتخب مئیر کی معیاد محض چھ ماہ کی ہے،لیکن میسوروکارپوریشن کیلئے یہ ایک ریکارڈ ہے ۔مئیرانتخاب میں کانگریس پارٹی کے امیدوارکے حق میں جے ڈی ایس کے کارپوریٹرس ووٹ نہ دے سکے،جس کی وجہ سے کانگریس کے کارپوریٹرس سخت برہمی کااظہار کرتے ہوئے جے ڈی ایس کارکنوں کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے کہا کہ جے ڈی ایس غدارہے۔اس کے بعد جے ڈی ایس نے بھی کانگریس کے خلاف نعرے بازی کرتے رہے۔میسور کارپوریشن کے38 سالہ کی تاریخ میں بی جے پی کو اقتدارمیں لانے کیلئے ریاستی وزیر ایس ٹی سوما شیکھر کا اہم رول قرار دیاجارہاہے۔بتایاگیاہے کہ ایس ٹی سوما شیکھر نےہی جے ڈی ایس کے کارکنوں کو بہلا پھسلاکر کانگریس سے دورکیاہے۔
