از:۔مدثراحمد۔شیموگہ۔کرناٹک۔9986437327
اس وقت بھارت بھر میں اسکولو ں وکالجوں میں داخلوں کاآغاز ہوچکاہے اور طلباء اپنے اپنے حساب سے داخلے لے رہے ہیں۔ان طلباء میں بہت سارے ایسے بھی ہیں جوداخلہ لینا تو چاہتے ہیں لیکن مالی مشکلات کے سبب وہ داخلہ نہیں لے پاتے۔یقیناً بھارت سرکارکی طرف سے کئی شعبوں کیلئے سالانہ اسکالرشپ کی رقم دی جاتی ہے لیکن یہ رقم موجودہ تعلیمی اخراجات کے حساب سے ناکافی ہے۔سمجھ لیں کہ اگر طلباء داخلہ لے چکے ہیں اور ان کی فیس کی ادائیگی بھی ہوچکی ہے،لیکن ہمارے سماج میں آج بھی ایک ایسا طبقہ ہے جن کاگذران چلنا بھی مشکل ہے،ایسے میں ان کے بچے اگر تعلیم حاصل کرنے کیلئے سرکاری اداروں میں داخلہ لے بھی لیتے ہیں تو ان کیلئے دیگر اخراجات،ٹرانسپورٹیشن،کتابیں،نوٹ بکس اوراسٹیشنری کے اخراجات برداشت کرنا مشکل ہوجاتاہے،یہ تمام اخراجات کبھی بھی حکومت کی طرف سے نہیں دئیے جاتے ہیں۔ان حالات سے زیادہ تر مسلم طلباء متاثر ہوتے ہیں،کیونکہ مسلمان اقتصادی اور معاشی طورپر بھی پسماندہ ہیں،یہ خود سرکاری رپورٹس بتاتے ہیں۔ہم نے کچھ ایسے طلباء کو بھی دیکھا ہے جو داخلے کی فیس بھی جمع کرنے سے قاصرہیں،جبکہ حکومت ان کی فیس کی ادائیگی کادعویٰ کرتی ہے،لیکن جو فیس حکومت کی طرف سے اداہوتی ہے وہ نجی اداروں کی محض ایک تہائی فیس ہی ہے،باقی فیس کوجوڑناغریب بچوں کیلئے مشکل کام ہے۔مسلمان جو یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کو تعلیم سے آراستہ کرنا ثواب کا کام ہے اور بچوں کی کفالت کو ثواب جاریہ سمجھتے ہیں۔لیکن بیشتر مسلمانوں کی سوچ یہ ہے کہ جو بچے مدرسوں یا یتیم خانوں میں زیر تعلیم ہیں وہی بچے کفالت کے حقدارہیں،باقی اسکولوں وکالجوں میں پڑھنے والے بچے ایسے ثواب جاریہ کے زمرے میں نہیں آتے۔دراصل ہمارے تعلیمی نظام کو مخصوص طبقوں کی طرف سے ہائی جیک کرلیاگیاہے،تعلیم ،تعلیم ہوتی ہےاس میں دینی اور عصری تعلیم کا بٹوارا ہم مسلمانوں نے ہی کرلیاہے،جبکہ دوسری قوموں کے پاس ایساکوئی کانسپٹ نہیں ہے،چاہے وہ یہودی ہوں عیسائی یا پھر ہندو،سب کے یہاں جو تعلیمی نظام ہے وہ مسلمانوں سے کہیں آگے چلاگیاہے،بات مشنری اسکولوں کی ہو یا پھر مٹھوں کی۔یہاں پر جتنی زیادہ توجہ ان کے مذہبی تعلیم پر دی جاتی ہے اُتنی ہی توجہ اسکولوں وکالجوں کی تعلیم پر دی جاتی ہے۔کئی مٹھوں کے سوامی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہیں اور وہ مٹھوں میں خدمات انجام دیتے ہیں اور اپنی روزمرہ کی زندگی کیلئے مختلف روزگار وعہدوں سے جڑے رہتے ہیں۔اسی طرح سے عیسائی پادریوں کو لیں،وہ بھی تعلیمی اداروں کے لکچرر،پروفیسر،ڈاکٹر وغیرہ ہوتے ہیں،وہ کبھی تعلیم کا بٹوارا نہیں کرتے،نہ ہی تعلیم کو الگ الگ نظریات سے دیکھتے ہیں۔ہم بات کررہے تھے،طلباء کی کفالت کے سلسلے میں۔آج ہر کوئی خدمت خلق سے جڑنے کی بات کرتاہے،کوئی ثواب جاریہ کیلئے روزانہ پکوان کرواتاہے تو کوئی مدرسوں کے بچوں کی کفالت کی ذمہ داری لیتاہے۔لیکن عصری تعلیم کے شعبے میں جو ضرورتمند بچے ہیں اُن کی کفالت اوران کی ضرورتوں کو پوراکرنے کے وسائل ہی دستیا ب نہیں ہیں۔جس کی وجہ سے آج مسلمانوں کی نمائندگی ہر شعبے میں پیچھے ہے۔ضرورت اس بات کی ہے کہ مسلمان حسب حیثیت مسلم تعلیمی اداروں میں زیرتعلیم بچوں کا پس منظر جانیں،انہیں تعلیم حاصل کرنے کی طرف راغب کریں،اُن کے گھروں کے حالات کا جائزہ لیں،ضرورت پڑے تو ان بچوں کیلئے ماہانہ اخراجات کے طو رپر1000-500 روپئے دیں،بس کا پاس بنا کردیں یا اسٹیشنری کی ضرورت تو اسٹیشنری دلوائیں،آنے جانے کیلئے بس کے کرایہ کی رقم درکا رہو تو اس کا انتظام کریں،فیس کی ادائیگی نہیں ہوئی ہے تو اسکولوں وکالجوں میں جائیں،ہر ممکن رعایت کرواکر بقیہ فیس اداکریں،بچوں کی حوصلہ افزائی کریں اور اُن کو یقین دلائیں کہ آپ پڑھائی پر توجہ دیں،ہم آپ کے ساتھ ہیں،آپ کی ضرورت قوم کو ہے،اگر آپ تعلیم حاصل کرکے کچھ بن جاتے ہیں توکل قوم کیلئے کچھ کریں۔اگر اس طرح کاجذبہ ان بچوں کو دلایاجائے تو یقیناً بچے تعلیم میں دلچپسی دینگے اور اپنے آپ کو لاچار وبے سہارا نہیں سمجھیں گے۔ہم اپنے بچوں کے عقیقے،ختنے،برتھ ڈے اوردہلیز پارکرنے کے رسم ورواج پر یوں ہی ہزاروں روپئے خرچ کرلیتے ہیں ۔اگر انہیں اخراجات میں سے ہزار دو ہزار روپئے ضرورتمندبچوں کیلئے خرچ کرلیں تو کیا بڑی بات ہوگی۔آپ کو ا س کام کو انجام دینے کیلئے مجموعہ جمانے یا مجموعے میں جانے کی ضرورت نہیں ہے،بلکہ اپنے قریبی تعلیمی اداروں کو جائیں،وہاں دیکھیں کہ کون بچہ ضرورتمندہے،وہاں کے اساتذہ سے دریافت کریں تو خودبخود آپ کے سامنے مددکرنے کی منزل مل جائیگی اور راستہ بھی آپ کیلئے آسان ہوجائیگا۔بعض لوگ اسکولوں وکالجوں کے آغاز ہونے پر تین چا رکتابیں،نوٹ بک اور پین دیکر اپنے آپ کو حاتم طائی قراردینے کی کوشش کرتے ہیں،لیکن ہمیں آج مجموعے کی مددکرنے کی ضرورت نہیں ہے بلکہ آج ہمیں انفرادی مددکیلئے آگے آناچاہے۔اگر اس کام کو انجام دینا شروع کیاجائے تو یقیناً مسلمانوں کے بچے اطمینان کے ساتھ تعلیم حاصل کرینگے اور مستقبل میں قوم کیلئے کچھ نہ کچھ کرینگے۔
